کینسر کا علاج

کینسر کا علاج
کینسر کا علاج

  

Yoshinori Ohsumi کا تعلق جاپان سے ہے وہ9 فروری 1945 کو Fukuoka میں پیدا ہوا۔اُس کا پیشہ ادویات کے بارے میں تحقیق کرنا ہے اور اس نے اپنی پوری زندگی Autophagy پر تحقیق کرتے ہوئے بسر کی۔ ان دنوں وہ Tokyo Institute of Technology میں ریسرچ کا کام کر رہا ہے۔ Ohsumiکو اب تک بے شمار ایوارڈ دیے جاچکے ہیں جن میں 2012 میں Kyoto prize، 2015 میں Gairdner Foundation International Award، 2016 میں خاص طور پر میڈیسن میں نوبل پرائز دیا جاچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2017 کو وہ Breakthrough prize in life sciences بھی حاصل کر چکا ہے۔ 2016 میں اُسے جو نوبل انعام دیا گیا وہ خاص طور پر کینسر کے علاج پر تحقیق کے لیے دیاگیا جس کا مقصد پوری دنیا کے انسانوں کو ایک ایسا طریقہ علاج بتاناتھا جس پر عمل کر کے انسان کینسر جیسے موذی مرض سے بچ سکتا ہے۔ Ohsumiنے پوری دنیا کو بتایا کہ جب انسان بھوکا رہتا ہے تو اس کے جسم سے نیوٹرون ختم ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے اُس کوگلو کوزکی ضرورت ہوتی ہے،

تب انسان کا جسم فضول اورزہریلے مادوں کو کھانا شروع کردیتا ہے۔ انہی زہریلے اور فاسد مادوں میں کینسر کے خلیات بھی موجود ہوتے ہیں جو بھوکا رہنے سے انسان کے جسم سے کم ہوتے جاتے ہیں۔ Ohsumiنے کہا ہمارے جسم کے گلے سڑے حصّوں کوبھوکا رہنے سے جب ہمارا اپنا ہی جسم کھاتا ہے تو اس پروسیس کو Autophagy کہتے ہیں۔ انسان کے بھوکا رہنے کی وجہ سے اپنا ہی جسم اُن فاسد  حصّوں کو کھاتا ہے جس کی وجہ سے کینسر ہونے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوجاتے ہیں۔ جب اُس سے انٹرویو میں پوچھا گیا کہ ایک دن میں انسان کو کتنا بھوکا رہنا چاہیے تو جواب میں Ohsumiنے کہاکہ ایک دن میں تقریباً ہمیں دس سے بارہ گھنٹے ضرور بھوکا رہنا چاہیے۔ Ohsumiسے پھر دوسر ا سوال یہ کیا گیا کہ ایک سال میں انسان کو کتنے دن بھوکا رہنا چاہیے تو اُس نے جواب دیا کہ ایک سال میں انسان کو 20 سے 25 دن تک ضرور بھوکا رہنا چاہیے اور یہ عمل ہر سال دہراتے رہنا چاہیے۔ 

Ohsumi کی کینسر کے بارے میں یہ تحقیق جس کی بدولت 2016ء میں اُسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس تحقیق سے یہ حقیقت عیا ں ہوتی ہے کہ دین اِسلام ہی وہ نسخہ حیات ہے جس پر عمل کرنے سے انسان خود کو بیماریوں، بلاؤں اور مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ اللہ پاک نے ہم پر روزے اس لیے فرض کر دیے تاکہ ہم سال میں ایک مہینے روزے رکھیں اور خود کو کینسر کے موذی مرض سے بچا سکیں۔ University of Florida میں ریسرچ کی گئی کہ روزہ رکھنے سے انسان کے جسم میں چربی کی مقدار قلیل اور موٹاپے میں بھی بہت زیادہ کمی آ تی ہے۔ یونیورسٹی نے ایک اور بہت منفرد تحقیق کی جس میں انھوں نے 24 افراد کو شامل کیا جن میں مرد اور عورتیں دونو ں شا مل تھے۔تحقیق میں تیس دنوں تک اُن لوگوں کو صرف صبح اور شام کے اوقات میں کھانا دینے کے علاوہ سارا دن بھوکا رکھا گیا۔ جس وجہ سے جسم کے خلیو ں میں بہت ہی مثبت اثرات رونما ہوئے، ان کے جسم میں ایسی پروٹین پیدا ہوگئی جو انسان کو جلد بوڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔

اگر ہم سائنسی لحاظ سے روزے کے بارے میں تحقیقات پر نظر ثانی کریں تو ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ روزے سے انسان کی شوگر اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔ مناسب غذا، پانی کے کم استعمال، وزن کی کمی، سگریٹ نوشی اور دوسری نشہ آور چیزوں سے روزہ انسان کو بچاتا ہے۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ جو جان دار کم کھاتے پیتے ہیں وہ دوسرے جان داروں کی نسبت زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ ایک Golden Opportunity ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی ہر طرح سے صحت مند اور توانا بنا د یتا ہے۔ روزے سے انسان اپنے نفس کو کنٹرول اور خواہشات کو بھی محدود کرسکتا ہے۔ روزہ انسان کو ضبط نفس یعنی خود کو کنٹرول کرنے اور اپنے اندر اچھی عادات کو پروان چڑھانے میں مددگار بنتا ہے۔رمضان المبارک بہت بڑی نعمت ہے اور جو اس کو ضائع کر تا ہے اُس کو سو چنا چاہیے کہ کل و ہ کس منہ سے اپنے رب کی بارگا ہ میں حاضر ہو گا۔   

مزید :

رائے -کالم -