اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ

اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ
اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ

  

انسان، روح اورجسم کے مجموعہ کا نام ہے۔دونوں ہی کی اچھی نگہداشت ضروری ہے۔ جسم فانی اور روح ازلی اور ابدی حقیقت ہے جسمانی صحت کے لئے اچھی غذا صحت مند طرززندگی لازم ہے، جبکہ روح کے مطالبے کچھ اور ہیں کہ روح منجانب اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے آدم کے وجود میں اپنی روح پھونکی ہے اس لیے خالی وجود کی روح اپنے  رب سے ملنا چاہتی ہے اور عبادات کا نظام روح کی نشوونماکرتا ہے۔ماہِ رمضان زندگی کی عام مصروفیات سے ہٹ کر عبادات اور نفس کے تزکیے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں“  رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی اور نجات کا ہے۔

 ہم دنیا کی عارضی زندگی کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں لیکن اپنی ابدی زندگی کے لئے کیا کوئی تیاری کرتے ہیں؟ اپنے ایمان سے آج آپ خود اندازہ لگائیں اور اپنی آخرت کی تیاری کتنی ہے نمبر لگائیں تو شاید ہی پاس ہو سکیں گے رمضان المبارک ہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے رحمتوں اور نیکیوں کی بارش کر دی ہے۔رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو یہ مہینہ ملے اور وہ روزے رکھ کر اللہ کی عبادت کے ذریعے اپنے خدا کو راضی کر لیں۔

جب رمضان کا مہینہ آتا  تو رسول اللہﷺ یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ مجھے رمضان کے لیے سلامت رکھ اور رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور اسے میرے حق میں مقبول بنا سلامت رکھ۔یقینا یہ مبارک ماہ اللہ رب العزت کی جانب سے امت محمدی ﷺ کے لیے عبادات اور نیک اعمال کا موسم بہار اور گراں قدر انعام ہے یہ عبادت توبہ اور طلبِ مغفرت کے وہ قیمتی لمحات ہیں جن کی ہر ساعت غنیمت اور قدرت کا بے بہا قیمتی عطیہ ہے جن سے زیادہ سے زیادہ فائد ہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے جب ہم رمضان کے مہینے میں بھرپور فائدہ اٹھا لیں تو آپ اپنے اعمال کے پرچے کے نمبروں پر نظر دوڑائیں گے تو بہتر پائیں گے کیونکہ اس مہینے کی عبادات کا ثواب ہی کئی گنا زیادہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں  خلوص نیت اور مضبوط ارادے کے ساتھ ابتدا سے ہی کچھ اہداف مقرر کر کے اچھی منصوبہ بندی کر لینی ضروری ہے۔ماہِ رمضان میں اپنا شیڈول عام دنوں سے مختلف بنائیں اور اس پر کاربند بھی رہیں۔

غیر ضروری کاموں کو ایک طرف رکھ دیں اور زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے میں صرف کریں۔روزے کی حالت میں غیبت، چغلی،جھوٹ،ملاوٹ،ناجائزمنافع خوری،گالم گلوچ لڑائی جھگڑے اور بدزبانی وغیرہ سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چائیے۔اپنے مال کی زکوٰۃ نکال کر ضرورت مندوں میں تقسیم کر دینی چائیے تاکہ وہ بھی ماہِ رمضان کے روزے اچھی طرح سے رکھ سکیں۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ان تمام اعمال پر عمل کریں گے تو ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ یہ روزقیامت رب کے حضور ہماری مغفرت و کامیابی کا ذریعہ بنیں گے۔

ماہِ رمضان کے روزوں کے اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس روایت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی نے قصداً  ماہِ صیام میں روزہ قضا کیا تو اس کا کفارہ تو ہے لیکن اگر تاعمر بھی روزے رکھے جائیں تو اس ماہِ رمضان کے ایک روزے کے متبادل نہیں ہو سکتے۔

دکانداروں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ خوف خدا کرتے ہوئے ماہ رمضان کے بابرکت مہینے میں روز مرہ ضرورت کی چیزوں کی قیمتوں کو بڑھانے کے بجائے کم کریں جس طرح یورپین ممالک میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی تہواروں اور دیگر مواقع پر اشیا  ضروریہ کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں ہم مسلمان ہیں ہمارا مذہب تو سب مذاہب سے بڑھ کر افضل ترین ہے اور ہمارے مذہب میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے ہمیں صرف اس پر سچے دل سے عمل کرنا ہے۔

 میرے مسلمان بھائیو! ہم سب آج سے عہد کریں کہ ہم نے ایک سچے پکے مسلمان کے طور پر رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہے تو مجھے پکا یقین ہے کہ اللہ کے حضور پاس ہونے کی 100%گارنٹی کا۔

؎؎سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 185میں اللہ تعاالیٰ فرماتے ہیں ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کے روشن دلائل اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا لے تواس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے تم پر تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کر لو۔تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کر و اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر ادا کرو“۔دین اسلام میں سخت تکلیف اور بیماری کی شدت میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش موجود ہے قصداً روزہ قضا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔روزے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کیے ہیں۔یاد رکھیں ماہِ رمضان میں روزے دار کی دعائیں قبول ہوتی ہیں روزے دار کو چائیے کو وہ اپنی اولاد اپنے پیاروں اور ملک و قوم کی سلامتی اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے حضور دعائیں مانگیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ماہ رمضان کے روزے ثواب کی نیت سے بھرپورانداز میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -