وعدے وفا نہ ہو سکے

وعدے وفا نہ ہو سکے
وعدے وفا نہ ہو سکے

  

ڈسکہ پنجاب کا ایک چھوٹا سا حلقہ ہے لیکن اس قدر اہمیت حاصل کر گیاکہ تمام نگاہیں اس پر مرکوز ہو کررہ گئیں۔ سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار کامیاب ہوگئیں یہ نشست سید افتخار الحسن شاہ عرف ظاہرے شاہ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی متذکرہ نشست پر الیکشن میں حصہ لینے کے لیے متعدد امیدوار میدان میں اترے۔ جن میں سید افتخارالحسن شاہ کی دختر نیک اختر سیدہ نوشین افتخار نے بڑی محنت سے یہ انتخابی چوٹی سرکی سیدہ نوشین افتخار نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دی 19فروری الیکشن کے روزکئی پولنگ اسٹیشنز کے عملے کے مبینہ اغوا کے بعد یہ حلقہ 19 فروری سے 10اپریل تک ایک سیاسی ہیجان سے گذرا ڈسکہ کا یہ ضمنی انتخاب رواں برس فروری میں معمول کے مطابق ہونا تھاتاہم ایسا نہ ہو سکا انتخاب کے روز پُرتشدد واقعات میں دو افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے، جس کے نتیجے میں متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کارروائی معطل کرنی پڑی۔

کئی پولنگ سٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران مبینہ طور پر ووٹوں کے تھیلوں سمیت فرار ہو گئے اور کئی گھنٹوں غائب رہے اور نتیجہ الیکشن کمیشن کو جمع نہ کروا سکے۔زیادہ تر دیہاتوں پر مشتمل اس حلقے میں بدانتظامی اور پر تشدد واقعات کی تحقیقات کے بعد الیکشن کمیشن نے فروری کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے سرے سے پہلے مارچ اور پھر اپریل کی 10 تاریخ کو دوبارہ پورے حلقے میں الیکشن کروانے کا اعلان کیا پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ صرف منتخب پولنگ سٹیشنز پر ہی دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے، تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا   ڈسکہ کا یہ الیکشن ملک بھر کے عام انتخابات کی حیثیت اختیار کر چکا تھا یہاں پر مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کے زبانی جمع خرچ کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے تحریک انصاف اپنے تقریبا تین سالہ اقتدار میں عوام کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی ریلیف نہیں دے سکی جس وجہ سے عوام میں تحریک انصاف کی بابت بد گمانی پائی جا رہی ہے عمران خان اپنے درجنوں انتخابی وعدوں کے ساتھ جیسے تیسے پاکستان کے وزیر اعظم تو بن گئے لیکن اقتدار حاصل کرتے ہی انکی ساری توجہ اپنے سیاسی حریفوں کو زچ کرنے میں لگ گئی اور وہ اپنے تمام وعدوں کو یکسر بھول گئے کہ انہوں نے حکومت کے پہلے 100 روز میں 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا تھ

ا کروڑوں نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا 50 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ اداروں کی خود مختاری۔بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانابجلی گیس کی قیمتوں میں کمی عوام کو با اختیار بنانے کے لئے بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاؤں کی سطح تک منتقل کرنے کا کہا پی ٹی آئی کے منشور میں تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی طرز پر غیر سیاسی پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروانا شامل تھا تحریک انصاف نے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی طریقہ کار بھی بتایا تھا پاکستان کو کاروبار دوست بنانے اور تعلیم،روزگار میں درپیش مسائل کو دور کرنے کا کہا لیکن ہوا کیا عمران خان صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے ہر وعدے سے ایک ایک کرکے یو ٹرن لیتے گئے نہ صرف یہ بلکہ  فرمایا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتاجسکی دلیل میں انہوں نے کہاتھا کہ تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔جناب عمران خان فرما چکے ہیں کہ جو یوٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بیوقوف لیڈر کوئی نہیں ہوتاخان صاحب نے واضح طور پر سیاست میں یو ٹرن کو متعارف کروایا خان صاحب نے کہا تھا میٹرو بس نہیں بناؤں گا پھر پشاور میں بس سروس پر کام کا آغاز کیا پھر فرمایا ڈالر مہنگا نہیں کروں گا اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہواکہا قرضہ نہیں لوں گا لیکن آئی ایم ایف سمیت متعدد کے مقروض ٹھہرے۔

پیٹرول، گیس، بجلی سستی کرنے کا کہا اور انہی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا جناب عمران خان نے فرمایا تھا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں دوں گا جومسلم لیگ (ن) کی جانب سے متعارف کروائی گئی پھر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو نافذ کردیا آپ نے کہا تھا حکومت بنانے کے لئے آزاد امیدواروں کو نہیں لوں گا اور پھر حکومت سازی کے لئے آزاد اُمیدواروں کو شامل کیا گیاوزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی اور گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چلاؤں گا یہ بھی محبوب کا وعدہ ثابت ہوا۔ہیلی کاپٹر کے بجائے ہالینڈ کے وزیراعظم کی طرح سائیکل پر جاؤں گا مختصر کابینہ بناؤں گا اور کئی طر ح کے ارشادات تھے جن سے عمران خان یو ٹرن لے چکے ہیں بلکہ ایک تقریب سے خطاب کرتے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو آج عدالتوں میں نہیں پھرتے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے عمران خان کے یو ٹرنز کے حوالے سے مشورہ دیاتھا کہ حکومت کووزارت یو ٹرن بنانی چاہیے۔ عمران خان صاحب نے اپنی23سالہ جدوجہد کویوٹرنز اور سیاسی انتقام کی نذر کر دیااللہ نے انہیں اس منصب پر فائز کر دیا تھا جسکی وہ خواہش کرتے رہے وزیر اعظم بننے کے لئے تو عمران خان ایسے بے چین تھے کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا تھا اللہ نے انہیں وزیر اعظم بنا دیا لیکن عمران خان صاحب اس مرتبے کوپہچان نہ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -