سیاست اور گورننس

سیاست اور گورننس
سیاست اور گورننس

  

پاکستان میں سیاست ایک مرغوب موضوعِ گفتگو ہے جہاں دو آدمی اکٹھے ہوتے ہیں گھوم پھر کر بات چند منٹ میں سیاست پر آ جاتی ہے۔ یورپ یا دوسری ترقی یافتہ دنیا میں حتیٰ الوسع سیاست اور مذہب پر گفتگو سے اجتناب کیا جاتا ہے اسے مدنظر رکھ کر یہاں بھی کئی لوگ یہی مشورہ دیتے ہیں، لیکن یہاں یہ ممکن نہیں۔

 ترقی یافتہ دنیا میں بنیادی مسائل طے ہو چکے ہیں اور حکومت میں کوئی آ جائے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہت زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتاپھر  وہاں ہماری طرح عجیب و غریب واقعات بھی نہیں ہوتے سیاست اور حکومت طے شدہ اصولوں پر چلتی رہتی ہے، لہٰذا کسی کو پریشان ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی البتہ حال ہی میں امریکہ میں بھی سیاست میں کچھ اُبال آیا ہے اور سوسائٹی بری طرح تقسیم ہو گئی ہے لیکن ہمارے ہاں تو کوئی چیز نارمل نہیں ہوتی کسی بھی سیاستدان سے خواہ اُس کا تعلق سرکاری پارٹی سے ہو کوئی ٹیڑھا سوال پوچھیں تو وہ یہی کہتا ہے کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ ”سب کچھ ممکن“ میں ایک جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔

تمہید ذرا لمبی ہو گئی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ماحول پر سیاست غالب ہے اِس لئے حکومت کو خواہ وہ کوئی ہو، خوامخواہ اُن ساری بحثوں میں ملوث ہونا پڑتا ہے، کیونکہ عملی حالات میں خواہ کوئی تبدیلی آئے یا نہ آئے عوامی رائے بدلنے کا خطرہ بہرحال ہوتا ہے ابھی چند دن پہلے اے این پی، پی ڈی ایم سے نکل گئی اور پیپلزپارٹی سے فاصلے پیدا ہو گئے تھے۔ حکومتی حلقے بڑے خوش تھے کہ اب پی ڈی ایم کوئی تھریٹ نہیں رہی، لیکن اگلے ہی دن جہانگیر ترین کا معاملہ سامنے آ گیا،جس سے یوں لگا کہ پانسہ بالکل پلٹ گیا ہے۔ پھر ڈسکہ کا الیکشن آ گیا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نتیجہ خواہ کچھ ہو ایسی صورت حال میں ایک بات طے ہے کہ حکومت کی توجہ فائر فائٹنگ پر مرکوز رہتی ہے اور گورننس کے مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔یہ بڑی افسوسناک صورت ہوتی ہے، کیونکہ ایک دفعہ آپ حکومت میں آ جاتے ہیں تو آپ کا مقصد اچھی گورننس کے ذریعے لوگوں کے مسائل  حل کرنا ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسائل پر بھرپور توجہ نہ دینے سے صورتِ حال گھمبیر ہوتی جاتی ہے۔ مسائل پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور یہی کچھ اردگرد نظر آتا ہے۔ کس کس مسئلے کو چھیڑیں یہاں تو جدھر دیکھیں افسوس ہی ہوتا ہے مثال کے طور پر ٹریفک ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے ہر آدمی کا واسطہ پڑتا ہے، آبادی بڑھنے کے ساتھ ٹریفک میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ اس صورتِ حال کا کسی کو احساس نہیں۔ ٹریفک کے حالات کی تفصیل میں جائیں تو کالم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تقریباً  22 لاکھ کی آبادی پر مشتمل شہر اسلام آباد میں چند سال پہلے تک پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نام و نشان نہیں تھا غالباً یہ دنیا کا واحد دارالخلافہ ہو گا،جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کچھ سال پہلے مسلم لیگ کے دور حکومت میں جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس شروع کی گئی، جس پر اُلٹا انہیں آج تک گالی دی جاتی ہے۔ 

شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پولیس سٹیشنز کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا جو اب 22 تک جا پہنچا ہے نئے نئے ڈویژنز بھی بنائے گئے، لیکن اُس حساب سے نفری میں اضافہ نہ کیا گیا اس وقت اسلام آباد ٹریفک پولیس 670 ملازمین پر مشتمل ہے،جو ظاہر ہے کہ کم ہے۔  2019ء میں شہر میں 126 اور 2020ء  میں 65 مہلک حادثے ہوئے، جس میں صرف 2019 ء میں 136 افراد جاں بحق ہوئے۔ ہر روز 2500 سے 3000 چالان ہوتے ہیں، جن سے 8 سے 10 لاکھ روپے وصول ہوتے ہیں اس رقم میں سے کچھ حصہ ٹریفک پولیس کو ملتا ہے اور اس میں ایس ایس پی اور آئی جی کا بھی حصہ ہوتا ہے البتہ والنٹیئرز کو کوئی پیسہ نہیں دیا جاتا۔ دلچسپ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کا دفتر ایف 8 کے ساتھ گرین ایریا میں بنایا گیا ہے،جو سراسر غیرقانونی ہے، کیونکہ گرین ایریا میں کوئی تعمیرات نہیں کرسکتا۔ایک طرف قانون کی بالادستی کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، لیکن حکومت خود بھی اس تصور کے خلاف کام کرتی ہے کاش متعلقہ وزیر ان مسائل کے لئے بھی وقت نکالیں۔

بہرحال خوشی کی بات ہے کہ اسلام آباد کے نئے آئی جی پولیس نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کے لئے کچھ اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے اس کام کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کیاہے، کیونکہ اس کے بغیر اس پر قابو پانا ممکن نہیں۔اب کیمروں کے ذریعے ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پر گاڑی کا چالان ہو گا اور اس سلسلے میں نادرا اور پوسٹ آفس کو اس پراجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ نادرا سے گاڑی کے مالک کے کوائف کی تصدیق کی جائے گی اور پوسٹ آفس چالان گھروں تک پہنچائے گا۔ کئی مقامات پر کیمرے اور کئی جگہ راڈار بھی استعمال ہو رہے ہیں حتیٰ کہ ڈرونز کا استعمال بھی شروع کیا گیا ہے۔ شہر کی بڑی بڑی مارکیٹوں مثلاً ایف 11- مرکز، جناح سُپر، کراچی کمپنی وغیرہ میں پولیس کی نفری ٹریفک کی نگرانی کے لئے رات گیارہ بجے تک ڈیوٹی دے رہی ہے۔ بعض مقامات پر جہاں کوئی فنکشن ہو رہا ہو کالجوں سے والنٹیئرز بھی بلائے جاتے ہیں اگرچہ انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ پولیس کی ٹیمیں تعلیمی اداروں میں ٹریفک پر لیکچر بھی دے رہی ہیں۔ پولیس کی کوششوں کی کامیابی کے لئے دو کام ضروری ہیں ایک تو پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جانا چاہئے اور دوسرا جرمانوں کی رقم میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ جرمانہ اتنا کم ہے کہ چالان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، مثلاً ہیلمٹ نہ ہونے کا جرمانہ 100 روپے ہے اور اوورسپیڈنگ کے لئے 200 روپے، اب اس کی جگہ ایک ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔جرمانوں میں اضافے کی تجویز وزارت داخلہ کو بھیج دی گئی ہے، لیکن یہ پارلیمنٹ نے پاس کرنا ہے۔دیکھتے ہیں پارلیمنٹ اور وزارت داخلہ اس مسئلے کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ٹریفک کے مسائل صرف اسلام آباد تک محدود نہیں یہ تو سارے ملک کا مسئلہ ہے اور سارے ملک میں اس مقصد کے لئے ایسے ہی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوچنا تو بے معنی ہے کہ پبلک بھی اس میں تعاون کرے۔

مزید :

رائے -کالم -