مکالمہ کیوں روٹھ گیا؟

مکالمہ کیوں روٹھ گیا؟
مکالمہ کیوں روٹھ گیا؟

  

مجھے تو یوں لگتا ہے بحیثیت قوم ہم سے مکالمہ روٹھ گیا ہے اور اس کی جگہ یکطرفہ بیانیہ آ گیا ہے۔ آج ہم تہہ در تہہ مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور سب مسائل اس وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ مل بیٹھ کے ان کا حل نکالنے کی روایت برقرار نہیں رہی۔ میز پر بیٹھ کر مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن یہاں ایسی ہر میز کو اُلٹا دیا جاتا ہے۔ یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے، مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس نئے عمرانی معاہدے کے لئے جو کشادہ نظری، کشادہ فکری اور دوسرے کی بات کو سننے کا حوصلہ چاہیے وہ کہاں سے آئے گا۔ یہاں تو ہر کوئی عقل کل بنا ہوا ہے۔ اپنی ذات میں ایک آمر لے کر گھوم رہا ہے۔ اس کی بات من و عن مان لو تو ٹھیک وگرنہ سڑکوں پر تماشے کے لئے تیار رہو۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ دو دن سے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ کسی میں اتنی جرات اور بصیرت نہیں کہ مکالمے کا آغاز کرے۔ مسئلے کا حل نکالے۔ ایک متفقہ آئین ہونے کے باوجود ہم اس طرح بھٹکے ہوئے ہیں، جیسے ہمارے پاس کوئی راستہ ہی نہیں، نئے عمرانی معاہدے کے بارے میں جب بھی بات ہوتی ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس میں سول و خاکی قوتوں کے کردار اور حدود کا تعین کیا جائے گا،  حالانکہ مسئلہ صرف یہی نہیں، بلکہ ملک کی وفاقی اکائیوں، مذہبی قوتوں اور دیگر ریاستی اداروں کا بھی ہے، سب اپنی اپنی حاکمیت چاہتے ہیں، آئین میں درج اپنے حقوق و فرائض کو نہیں دیکھتے، یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کتنا اختیار ملا ہے۔

جس ملک کی حالت یہ ہوگئی ہو کہ پارلیمنٹ کا اجلاس تک امن و سکون سے منعقد نہ ہو سکے، وہاں مکالمہ کیسے پنپ سکتا ہے۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اور معتبر آئینی فورم ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں اس پارلیمنٹ میں کیا ہوا ہے؟ اس حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، بس صدارتی آرڈیننسوں کی تعداد ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کتنی فعال رہی ہے۔ جہاں دوسرے کی بات تک سننا گوارا نہ رہے، وہاں بات کیسے ہو سکتی ہے۔ اس میں قصور کسی ایک فریق کا نہیں،دونوں فریقوں کا ہے، بلکہ دونوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو نہیں سننا چاہتی اور اپوزیشن حکومت کے کسی نمائندے کو نہیں بولنے دیتی۔ہاں کردارکشی کی باتیں، ذاتی حملوں کے واقعات اور ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی تک ضرور ہو جاتی ہے۔ اب ایسے میں قومی مسائل کا حل کیسے نکل سکتا ہے۔ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے ایک عجیب قسم کا ڈیڈ لاک حکومت و اپوزیشن میں برقرار رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس بات کو کمزوری سمجھ رکھا ہے کہ اپوزیشن سے قومی مسائل پر مکالمہ کیا جائے۔

وہ ایک ہی بیانیہ لے کر اس کے اسیر ہو گئے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ کیا اپوزیشن سے رابطہ صرف این آر او کے لئے ہو سکتا ہے، کیا دیگر معاملات جن میں احتساب قانون، عدالتی اصلاحات، صوبوں کے حقوق، مردم شماری، نئے عمرانی معاہدے اور معیشت کی بہتری شامل ہیں،یہ بات نہیں ہونی چاہیے۔ کیا صرف محاذ آرائی ہی حکومت و اپوزیشن کے درمیان واحد ایجنڈا رہ گیا ہے۔ حکومت اگر اس پر خوش ہو جاتی ہے کہ پی ڈی ایم میں انتشار پیدا ہو گیا ہے، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تو یہ اس کی خودغرضانہ سوچ ہے۔ قومی مسائل تو وہیں کھڑے ہیں۔ تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر حکومت کو پوری اپوزیشن سے رابطہ قائم کرنا چاہیے۔ خود وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس معاملے کو وہ پارلیمنٹ میں لائیں گے۔ بغیر تیاری کے پارلیمنٹ میں کیسے لائیں گے۔ اس سے پہلے اپوزیشن کو سنجیدگی کے ساتھ اس نکتے پر بریفنگ دینے اور قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا اس کا حل بھی حکومت آرڈیننس سے نکالے گی؟

ہمارے ہاں مکالمہ کس طرح روٹھ جاتا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کل تک ایک ساتھ بیٹھنے والی جماعتیں آج ایک دوسرے کو پریس کانفرنسوں اور ٹویٹ کے ذریعے جواب الجواب دے رہی ہیں۔ کل تک مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری میں کتنی زیادہ انڈرسٹینڈنگ تھی، آج یہ حال ہے کہ ایک دوسرے پر علامتی طرز تخاطب کے ذریعے گولہ باری کررہے ہیں۔ پی ڈی ایم نے نوٹس بھیجا تو اس کا جواب اسے پھاڑ کر دیا گیا، نوٹس دینے سے پہلے مکالمے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟ کیوں ایک وفد پیپلزپارٹی اور اے این پی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ پھر اگر یہ نوٹس دونوں جماعتوں کو موصول ہو ہی گیا تھا تو پی دی ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے اس پر احتجاج کیوں نہیں ریکارڈ کرایا گیا، جواب کیوں نہیں دیا گیا۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ پہلے اے این پی کے حیدر ہوتی نے پریس کانفرنس کرکے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور پھر بلاول بھٹو زرداری نے شوکاز نوٹس پھاڑ ڈالا۔ کیا ان ساری باتوں سے یہ شبہ نہیں اُبھرتا کہ ہماری سیاسی قیادت میں بلوغت کی کمی ہے۔ وہ آج بھی بچگانہ طرزِ عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہاں ہر کوئی اپنا داؤ لگانا چاہتا ہے، اپنی چال خود چلتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے، جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ قومی سطح پر مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، سیاسی قوتیں منتشر نظر آتی ہیں اور غیر سیاسی قوتیں غلبہ پا رہی ہیں۔

دنیا کے ہر جمہوری ملک میں فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ یہاں حکومت معاملات کو بالا بالا نمٹانا چاہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ خوف ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن صرف اس لئے کسی بل کی منظوری نہیں دے گی کہ وہ حکومت کا پیش کردہ ہے۔ مثلاً آج اپوزیشن یہ مطالبہ تو کرتی ہے کہ کورونا ویکسین کے معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے اور اس حوالے سے جو بھی پالیسی بنائی گئی ہے اس کی منظوری پارلیمنٹ دے، تاہم اگر یہی معاملہ حکومت پارلیمنٹ میں لے آتی ہے تو وہ گرد اڑے گی کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا۔ جب دونوں طرف بدگمانی آخری حدوں کو چُھونے لگے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ صدارتی آرڈیننس اس لئے نافذ کرنے پڑتے ہیں کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں قانون سازی ہونے نہیں دیتی۔ اب یہ ایسی بات ہے جسے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی سب سے بڑی توہین قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب حکومت نے اپوزیشن سے رابطے کو خود ہی شجر ممنوعہ قرار دیا ہے تو اسمبلی میں کسی بل پر اتفاق رائے کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اب اس بیانیے سے باہر نکل آئیں کہ اپوزیشن میں صرف چور اور لٹیرے بیٹھے ہیں، انہیں یہ معاملہ نیب اور عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہیے اور خود قومی مسائل پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے۔ جب تک حکومت اور اپوزیشن میں مکالمہ بحال نہیں ہوتا، معاملات الجھتے رہیں گے اور قومی سطح پر انتشار بڑھتا چلا جائے گا۔ یہ مخلصانہ مشورہ ہے، مگر اسے شاید بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی میں درخور اعتنا نہ سمجھا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -