پنجاب کانسٹیبلری کیس:مقدمہ میں ملوث ملزمان  کی بریت کی درخواستیں دائر‘ 17اپریل کو پیشی

پنجاب کانسٹیبلری کیس:مقدمہ میں ملوث ملزمان  کی بریت کی درخواستیں دائر‘ ...

  

ملتان (خصو صی  ر پو رٹر)احتساب عدالت ملتان نے پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ(بقیہ نمبر42صفحہ6پر)

 33 لاکھ روپے کی مبینہ کرپشن کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں ملوث ملزمان کی بریت کی درخواستیں دائر کررکھی ہیں جس میں نیب جواب پر وکلا بحث کے لئے سماعت 17 اپریل تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔جبکہ گواہوں کی شہادتیں قلمبند کرنے کے لیے سماعت 21 اپریل مقرر ہے۔ریفرنس ایس ایس پی محمود الحسن،ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان اور ایس پی میاں عرفان اللہ سمیت 81 ملزمان کے خلاف زیر سماعت ہے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں نیب ملتان کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگانے والے ایس پی انویسٹیگیشن و سابق کمانڈنٹس محمد باقر،ایس ایس پی محمود الحسن،ایس پی میاں عرفان اللہ سینئر آڈیٹر مدثر دریشک، ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان، اکاونٹس آفیسر بھکر قمر محمد خان مگسی،سابق ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر ملتان باسط مقبول ہاشمی،ڈیرہ غازی خان کے عارضی اکاونٹس آفیسر احمد بخش جسکانی سمیت دیگر شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے افسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس افسران نے اکانٹ افسروں اور اہلکاروں سے ملی بھگت کی، ملزمان نے جعلی بھرتیاں کرکے تنخواہیں اور جی پی فنڈ نکلوا کر ہڑپ کر لیا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان سے 63 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی، مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب کو منتقل ہوا تھا نیب کی جانب سے پنجاب کانسٹیبلری کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس تیار کیا گیا،سرکاری اراضی کی جعلی الاٹمنٹ میں بھی مبینہ طور پر خورد برد کی گئی، اراضی الاٹمنٹ میں خورد برد کرنے میں بہاولپور کے محمد بشیر، نذیر احمد اور محمد شبیر بھی شامل ہیں۔ ملزمان نے مقدمہ سے بری کرنے کی بھی درخواست دائر کررکھی ہے۔

پیشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -