اینٹی کرپشن پیشی‘ پولیس اہلکاروں کا مدعی‘ گواہ پر تشدد

اینٹی کرپشن پیشی‘ پولیس اہلکاروں کا مدعی‘ گواہ پر تشدد

  

احمدپورشرقیہ (تحصیل رپورٹر)انٹی کرپشن پیشی پر کرپٹ اے ایس آئی اور اس کے ساتھیوں نے سرکل آفیسر انٹی کرپشن دفتر میں مدعی اور گواہ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ نقاب پوش غنڈوں سے حملہ کرانے کی کوشش کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق گلزار احمد میٹر انسپکٹر میپکو سب ڈویژن مبارک پور نے ایک درخواست ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب اور ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور(بقیہ نمبر49صفحہ6پر)

 ریجن بہاولپور کو دی جس میں لکھا کہ میں نے بجلی چوروں کو پکڑ کر ان کے خلاف مقدمات درج کرائے اور بھاری جرمانے عائد کرائے جس پر سپاہی مکی ڈاونج تعینات تھانہ بغدادالجدید بہاولپور نے کہا کہ تم بجلی چوروں کو نہ پکڑو(کیونکہ اس کا اپنا سارا خاندان بجلی چور ہے) اور کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں اس کا مزہ چکھاؤں گا۔ میرے انکار پر وہ مشتعل ہوگیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا۔ کچھ دن بعد میں مبارک پور واقع اپنے مکان پر بخار کی حالت میں آرام کررہا تھا کہ اے ایس آئی ریاض اشرف حال تعینات سی ائی اے بہاولپور۔ ہیڈکانسٹیبل شبیر احمد۔ مکی ڈاونج اور 4/3 نامعلوم افراد چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور آتے ہی مجھے مارنا شروع کردیا۔ رسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ پھر مجھے اُٹھا کر ایک پرائیویٹ گاڑی میں ڈال دیا ساتھ میرے ملازم ساجد کو بھی گاڑی میں بٹھا لیا اور اغوا کی غرض سے مجھے 8گھنٹے تک بیماری کی حالت میں مختلف جگہوں پر گھماتے رہے او ربھاری رقم کا مطالبہ کرتے رہے میرے انکار پر رات کو سیٹلائٹ ٹاؤ ن چوکی پر لے آئے وہاں ریاض اشرف اے ایس ائی کے کہنے پر ہیڈ کانسٹیبل بشیر احمد نے میری جامعہ تلاشی لی۔ جس پر میری جیب سے 9ہزار روپے نکلے اس دوران ریاض اشرف اور سپاہی مکی ڈاونج نے مجھ سے دو لاکھ روپے کا مطالبہ کرتے رہے۔ میں نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ پھر مجھے اور میرے ملازم کو رات گئے تھانہ بغداد الجدید لے آئے۔ ہمیں حبس بے جا میں رکھا اور تشدد۔ گالم گلوچ بھی کرتے رہے۔ صبح میرے بھائی چوہدری سجاد احمد آگیا۔ ریاض اشرف اے ایس آئی نے میرے بھائی سے دو لاکھ روپے رشوت ڈیمانڈ کی مگر 1,30,000/-روپے رشوت وصول کرکے سائل کو چھوڑ دیا۔ جس سے سائل میٹر انسپکٹر کی معاشرے میں ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ میں اور میرے گھر والے ذہنی کرب میں مبتلا ہوئے ہیں جس پر ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور نے محمد صادق ڈھلو سرکل آفیسر اسٹیبلشمنٹ انٹی کرپشن بہاولپور کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے۔ پہلی تین پیشیوں میں،میں مدعی معہ گواہان حاضر ہوتا رہا مگر ملزمان کرپٹ اے ایس آئی ریاض اشرف اور اس کے ساتھی پیش نہیں ہوئے۔ گذشتہ روز پیشی کے موقع پر میں اور میرے ساتھ گواہ حسن محمود موجود تھے کہ ریاض اشرف اے ایس آئی۔ سپاہی مکی ڈاونج اور شبیراحمد پیش ہوئے جب پیشی کے بعد باہر نکلنے لگے تو ریاض اشرف اور سپاہی مکی ڈاونج نے گالم گلوچ شروع کردی۔ گواہ حسن محمود پر ریاض اشرف نے تشدد شروع کردیا۔ اس پر مکوں دھکوں کی بوچھاڑ کردی۔ مجھے بھی دھکے دینے شروع کردئیے۔ ہم نے واویلا کیا تو لوگ جمع ہوئے اور بیچ بچاؤ کرادیا یہ سارا منظر پورا انٹی کرپشن دفتر کا عملہ دیکھ رہاتھا پھر ہم عدالت سے باہر نکلنے لگے اپنی گاڑی پر تو عدالت کے گیٹ پر سپاہی مکی ڈاونج اور تین نقاب پوش اس کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوگئے پیچھے سے آنے والی گاڑی میں موجود چوہدری طارق ایڈووکیٹ اورا س کے ساتھیوں نے بڑی مشکل سے بچ بچاؤ کرایا جس پر مکی ڈاونج اور اس کے نقاب پوش ساتھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے تین موٹر سائیکلوں پر روانہ ہوگئے اس موقع پر گلزار احمد میٹر انسپکٹر میپکو سب ڈویژن مبارک پور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ ملزمان مسلسل مجھے سنگین نتائج کی اور سنگین مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میر ی آئی جی پنجاب۔ ڈی آئی جی بہاولپور۔ ڈی پی او بہاولپور سے اپیل ہے کہ کرپٹ گینگ سے میری جان کو خطرہ ہے۔ ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

تشدد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -