وقف املاک ایکٹ قرآن وسنت‘ آئین سے متصادم‘ علماء کا ردعمل

وقف املاک ایکٹ قرآن وسنت‘ آئین سے متصادم‘ علماء کا ردعمل

  

بہاولپور(بیورورپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر)وقف املاک ایکٹ قرآن وسنت اور آئین پاکستان سے متصادم ہے، آئین پاکستان کی روح کے منافی قانون سازی ملک اور ملت کے ساتھ غداری ہے، فیٹف اور آئی ایم ایف کے دبا اوراسٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لیے بغیر عجلت میں کی گئی قانون سازی کسی بھی درجے میں قابل قبول نہیں،حکومت اپنی ناکام خارجہ پالیسی کا انتقام قوم سے لینے کے بجائے اپنی کوتاہیوں پر نظر ثانی کرے، یہ بات مفتی عطا الرحمن(بقیہ نمبر54صفحہ6پر)

 شیخ الحدیث دارالعلوم مدنیہ،قاری غلام یسن صدیقی ضلعی امیر جمعیت علما اسلام بہاولپور، مفتی محمد مظہر اسعدی صوبائی نائب امیر جے یوآئی پنجاب،ضلعی جنرل سیکریٹری قاری سیف الرحمن راشدی، ضلعی نائب امرا مولانا عبد الرزاق،قاری غلام مصطفی شاھد،نے اپنے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو چاہیے تھا کہ وہ عالمی اداروں کے ہر حکم پر سر خم تسلیم کرنے کے بجائے ان عالمی اداروں کو اسلام کے خلاف مغربی دنیا کی منفی سوچ کے مخصوص زاویے میں کی گئی تشریحات کا جواب معروضی وآئینی مجبوریوں اور اسلامی تعلیمات کے مثبت احکامات کی روشنی میں دلائل کی بنیاد پر بریف کرتے،لیکن بدقسمتی سیان غلامانہ ذہنیت کے حامل حکمرانوں کے اندریہ جرات ہی نہیں، کہ ان کے سامنے مسلمانوں کی ترجمانی کرسکیں،اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہ بل اسٹیک ہولڈرز کیلئے قابل قبول ہوتو اتحاد تنظیمات مدارس کے اکابرین کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش کی گئیں تجاویز کی روشنی میں ترمیمی بل پیش کرے،ورنہ ہم سمجھتے ہیں کہ وقف املاک بل جہاں پر دینی عبادت گاہوں، دینی تعلیمی اداروں اور ان کے متعلقین کے خلاف ایک سازش ہے، جسکا مقصد صرف اور صرف وقف املاک پر قبضہ کرنا ہے، ہم سمجھتے ہیں وقف املاک بل دستور پاکستان احکامات شرعیہ اور شہری انسانی حقوق کے برعکس ہے جسے ہم یکسر طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ردعمل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -