صحافت کا عہد ِ ضیا تمام!!

صحافت کا عہد ِ ضیا تمام!!

  

ضیاء شاہد کی ذات سے سو اختلاف کیا جائے، لیکن اس امر کا اعتراف  ضرور کیا جاتا رہے گاکہ وہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال تھے، انہیں جدید صحافت کا ایک اہم ستون، جرأت و بہادری کا کوہِ گراں اور عاملانہ صحافت میں نئی جہتیں متعارف کروانے کا باوا آدم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کارکن صحافی سے ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر اور پھر میڈیا ہاؤس کے مالک تک کا سفر جس محنت شاقہ  سے طے کیا، یہ اعزاز شاید کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ بلا شبہ ضیا ء شاہد کی وفات سے صحافت کا 50 سالہ عہد تمام ہوا، زیادہ مناسب ہوگا کہ اسے اس دور کو صحافت کا عہدِ ضیا قرار دیا جائے۔ درحقیقت مرحوم نے صحافتی دنیا میں باقاعدہ نصف صدی تک انقلاب برپا کیا۔یہ بات بھی درست ہے کہ وہ جدید صحافت کے بانی ہیں۔ جرأت مندانہ صحافت ان کا طرہ امتیاز رہا۔ ضیاء شاہد کے بے لاگ تبصرے اور جاندار ٹی وی پروگرام ان کی اعلیٰ صحافتی صلاحیتوں کے آئینہ دار تھے، وہ درجنوں کتابوں کے مصنف اور عہد حاضر کے قدآور صحافی تھے، جس کا اعتراف ہر سطح پر کیا گیا۔ مرحوم نے اپنے کیرئیر کے دوران دنیا کی نامور شخصیات کے بڑے انکشاف انگیز اور چشم کشا انٹرویو کئے۔ مختلف صدور، وزرائے اعظم، گورنر، وزراء اعلیٰ سمیت اعلیٰ شخصیات  غیر ملکی دوروں پر ضیاء صاحب کو اپنے ساتھ لے جاتی رہیں۔اُن کی صحافتی خدمات سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔

ضیاء شاہد مرحوم کے خاندانی پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ 4جنوری 1945ء کو گڑھی یاسمین ضلع شکارپور سندھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی خوب ذہین، محنتی اور بے باک واقع ہوئے تھے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق بھی بچپن سے تھا، ابتدائی تعلیم آبائی علاقے میں ہی حاصل کی پھر پنجاب آ گئے اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ بھٹو دور میں شاہی قلعہ کے مہمان بنے اور سات ماہ آزادی صحافت کے جرم میں پابند سلاسل رہے۔ شعبہ صحافت میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں انہیں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اعلی سول اعزاز ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا، جبکہ سی پی این ای کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا۔ دو بار سی پی این ای کے صدر اور اے پی این ایس کے کئی عہدوں پر بھی فائز  رہ چکے۔ ضیا شاہد نے اردو صحافت کو نت نئی جہتوں سے روشناس کرایا، وہ حقیقی معنوں میں اردو صحافت کا حسن  اور آسمان صحافت کا درخشندا ستارہ تھے۔ان کی صحافتی جدوجہد اور مظلوم طبقہ کی داد رسی کے لئے کوششوں کو سلام پیش کیا جاتا رہے گا۔ صحافت میں نئے اسلوب متعارف کرانے اور روایات سے ہٹ کر انقلابی صحافت کا فروغ مرحوم کا طرہ امتیاز تھا جبکہ مرحوم کی جرأت اور بے باکی  کو اس بنا پر سلیوٹ کیا جانا چاہئے کہ وہ بڑے بڑے ظالموں، جاگیرداروں، ڈیرے داروں اور وڈیروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے،اپنا قلم ظلم و زیادتیوں کے خلاف دلیرانہ استعمال کیا۔ اس بنا پر ضیا شاہد کو جرأت و بہادری کا دوسرا نام کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی پاکستان کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی مرحوم کا نام سنہری حروف میں تحریر کرنا مورخ کی مجبوری بن جائے گا۔

انہوں نے اپنی صحافت کا آغاز بطور ورکنگ جرنلسٹ کے کیا تھا، مختلف جرائد اور بعد ازاں روزناموں میں خدمات انجام دینے کے بعد  90ء کے اوائل میں روزنامہ ”خبریں“ کا آغاز کیا، جو تیس سال سے باقاعدگی کے ساتھ مختلف شہروں سے شائع ہو رہا ہے۔اس ادارے کے زیر اہتمام کئی دوسرے روزنامے اور جرائد بھی شائع ہوتے ہیں۔چینل فائیو کے نام سے  نیوز چینل بھی انہی کی نگرانی میں قائم ہوا،وسیع صحافتی ایمپائر کے قیام تک کا سفر انہوں نے بڑی کامیابی سے مکمل کیا۔

ضیاء شاہد کی ایک خوبی یہ تھی کہ انہوں نے صحافت کے شعبے میں ہزاروں نئے لوگوں کو متعارف کروایا، بالخصوص یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ابلاغیات کے طالب علموں کے لئے انٹرن شپ کے مواقع پیدا کرنا انہی کا خاصا تھا۔ آج الیکٹرانک میڈیا میں نوآموز صحافیوں کی جو فوجِ ظفر موج دکھائی دے رہی ہے وہ ضیاء صاحب کی مرہون منت ہے۔وہ نوجوان صحافیوں کے آئیڈیل تو تھے ہی، ٹرینڈ سیٹر بھی ثابت ہوئے۔ روزنامہ ”پاکستان“ اور ”خبریں“ کو نئے آنے والوں کے لئے ”نوائے وقت“ طرز کی نرسری بنا کر چھوڑا۔ ”جنگ“ گروپ سے علیحدگی اختیار کی تو ”پاکستان“ کی بلند و بالا عمارت کھڑی کر دی جہاں اپنے سابق ادارے کے سینئر ساتھیوں کو بھی لے آئے اور ”پاکستان“ کی خوب آبیاری کی۔خبروں و تصاویر کے ساتھ ساتھ کالموں اور اداریے میں اپنے وہ جوہر دکھائے کہ مخالفین بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔اکبر بھٹی مرحوم سے اختلافات کے باعث ”پاکستان“ کو خیرباد کہا تو نیا اخبار نکالنے کی ٹھان لی اور ناصرف ایک اخبار نکالا،بلکہ پورا میڈیا ہاؤس بنا ڈالا اور لبرٹی پیپرز کی تشکیل کے ذریعے اپنا شمار بڑے گروپوں میں کر کے دکھایا۔

ویکلی جرنلزم میں یدِطولیٰ رکھنے کے باعث کئی ہفت روزہ کامیابی سے نکالے، جبکہ قومی روزناموں کے سنڈے میگزین میں تحریر و تدبیر کے فن کی بدولت انہیں چار چاند لگا دیئے۔ جب خود میڈیا ہاؤس کے مالک بنے تو ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کے نعرے کو عوامی مقبولیت دے کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اخبار جو عوام کے لئے محض خبروں و مضامین کی فراہمی کا ذریعہ ہوا کرتے تھے انہیں ایک ”سوشل آرگن“ میں تبدیل کر دیا اور اس سماجی خدمت کے ذریعے اپنے ادارے کو عام شہریوں میں خوب پاپولر کرایا۔ گلی محلوں میں اخبار کی طرف سے کھلی کچہری اور عوامی عدالت لگا کر لوگوں کے مسائل اجاگر کئے جو ابلاغی اداروں میں ایک نیا ٹرینڈ ہی نہیں، بلکہ انقلاب بن کر سامنے آیا۔

ضیا شاہد صرف صحافی ہی نہیں تھے وہ سیاست میں بھی  بڑے متحرک رہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے باقاعدہ رکن بنے، وہ دونوں جماعتوں کی سنٹرل کمیٹی میں بھی شامل رہے، لیکن اپنی بے تابی کی وجہ سے ایک ایک کر کے انہوں نے دونوں جماعتوں کو خیر باد کہہ دیا،البتہ آج کل وہ دوبارہ تحریک انصاف کے قریب ہو گئے تھے، اپنی سیاست اور سیاسی پسند و نا پسند کے باوجود انہوں نے اپنے اخبار کی غیر جانبدار پالیسی برقرار رکھی۔ انہیں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور موجود وزیراعظم عمران خان کی قرابت کا بھی شرف حاصل رہا۔ دونوں اپنے دورِ اقتدار میں ضیاء شاہد سے سیاسی مشاورت بھی کرتے رہے اور بعض اوقات اپنی خاص میٹنگز میں بھی  اُنہیں بُلا لیا کرتے تھے۔

ضیاء شاہد اپنے کام میں اتنے مگن اور پیشے سے اتنے مخلص تھے کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے،دفتری امور سے فارغ ہوتے تو صحافتی تنظیموں کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے۔ حافظہ بھی بَلا کا پایا تھا، ایک بار کسی سے ملتے تو دوبارہ کتنے عرصے بعد ہی ملتے تو نام لے کر پکارتے۔ انہوں نے اپنے اندر کئی بیماریاں پال رکھی تھیں، دوست احباب بھی صحت کی طرف توجہ دلاتے تو جواب دیتے ”دُعا کیا کریں“۔ علاج کی غرض سے لندن گئے تو فرزند ِ ارجمند عدنان شاہد ساتھ تھے جو والد کو ہسپتال کے اندر لے جانے ہوئے خود داغِ مفارقت دے گئے۔جوان بیٹے کی جدائی ایک اور بیماری دے گئی، لندن سے علاج کیا کروانا تھا ایک بیماری کا اضافہ لے کر واپس لوٹے تو مسلسل بیمار رہنے لگے۔ دو تین سال سے تو لاٹھی کے سہارے چلتے، لیکن پیشہ وارانہ امور میں قطعاً جھول نہیں آنے دی۔ لاہور، کراچی،اسلام آباد اور پشاور میں ”خبریں“ کے دفاتر کا اکثر دورہ کرتے،لیکن آفرین ہے کہ کبھی تھکن کا اظہار نہیں کیا، اُن کے چہرے سے بھی تھکاوٹ کے آثار نمایاں نہیں ہوتے تھے۔ عمر کے آخری حصے میں لاٹھی کو اپنا ساتھی بنائے رکھا،لیکن صحافتی امور اُسی تندہی اور تیزی سے انجام دیتے رہے جو ولولہ جوانی میں دکھائی دیتا تھا۔ صحافت سے کمٹمنٹ کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری ایام میں بھی دفتری امور نمٹانے میں کمی کوتاہی نہیں آنے دی۔ اخبار کی ایک ایک خبر اور آرٹیکل پر پوری نظر ہوتی اور پروگرام بھی تواتر کے ساتھ کرتے۔ٹاک شوز میں جس گرم جوشی اور طمطراق سے گفتگو کرتے محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کوئی بیماری جسم کے اندر پنپ رہی ہے۔

وہ کچھ عرصے سے علیل ہونے کے باعث نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں سوموار کے روز اُن کے دِل کا آپریشن بھی کیا گیا،لیکن جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔مرحوم کی نمازِ جنازہ ان کی رہائش گاہ کے نزدیک این بلاک ماڈل ٹاؤن کی کرکٹ گراؤنڈ میں ادا کی گئی اور قریب ہی واقع قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ملک کی ممتاز، سیاسی،سماجی،ادبی شخصیات اور تنظیموں نے ضیاء شاہد کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے اُن کی وفات کو صحافت کے لئے ایک بڑا صدمہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صحافت کو مظلوم کی دہلیز پر لے  گئے انقلابی صحافت کا فروغ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، مظلوموں کے لئے آواز بلند کرنے والی زبان اور قلم کا یکسر خاموش ہونا پوری قوم کے لئے بڑا صدمہ ہے۔ضیاء شاہد کی موت سے پیدا ہونے والا خلا تادیر پُر نہیں کیا جا سکے گا۔

”مت  سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں …… تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں“

صاحبِ طرز صحافی، ممتاز کالم نگار، معروف مصنف، جرأت مند تجزیہ کار اور صحافت میں نئی جہتیں متعارف کروانے والے ضیاء شاہد آسودہئ خاک

مزید :

ایڈیشن 1 -