زرعی شعبہ کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے ایگریسرج انوویشن چیلنج 

زرعی شعبہ کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے ایگریسرج انوویشن چیلنج 

  

اسلام آبا(پ ر) اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے اشتراک سے، اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاکستان کی زرعی شعبہ کی ترقی کے عمل میں تیزی لانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے لیے ایک ایگریسرج انوویشن چیلینج شروع کیا تھا۔وزارتِ آئی ٹی اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مابین فریم ورک باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد،  ایگریسرج انوویشن چیلینج  کا آغاز جون 2020 میں کیا گیا تھا۔چیلنج کے فاتحین کا اعلان منعقدہ مشترکہ پروگرام میں کیا گیا۔ اس تقریب میں شعیب احمد صدیقی وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام،ا گنائٹ کے سی ای او اوردیگر افسران، ایم او آئی ٹی، اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں، ترقیاتی شراکت داروں اور چیلنج کی فاتح ٹیموں نے شرکت کی۔ایگریسرج انوویشن چیلینج کے تحت، ایف اے اونے اگنائٹ کے اشتراک سے جدید سیلیوشنز پر زور دیا جس سے پاکستان میں زراعت کو فرغ مل سکتا ہے اور فوڈ سسٹم میں لچک کو بڑھایا جا سکتا ہے اور چوتھی صنعتی لہر ٹیکنالوجیز کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کی ٹرانسفارمیشن میں مدد مل سکتی ہے۔ تقریباً738 شرکاء نے چیلنج کے لیے درخواست دی اور منتخب ٹیموں نے اپنی ورکنگ پروٹوٹائپس تشخیص کے لیے پیش کیں۔ ان منصوبوں کا جائزہ ایف اے او اور اگنائٹ کی جانب سے مقرر کردہ آذاد ججوں نے کیا جن میں مقامی اور بین الاقوامی ڈومین ایکسپرٹس شامل ہیں۔شہد کی مکھیوں کے لیے سمارٹ ایکوسسٹم " سلوربیز" نے شہد کی مکھیوں کی حفاظت و افزائش کیلیے ماحولیاتی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا سیلوشن دینے پر پہلا انعام جیتا جبکہ سمارٹ پولٹری فارمنگ ' سمارٹ فارمز "  نے Arduino/Raspberry Pi کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا جمع کرنے کے لیے IoT sensors-based solutionپیش کرنے پر دوسرا انعام جیتا۔تیسرا نقد انعام فارم مارچ شئیر ' سائبر وژن" نے ایک جامع ڈیجیٹل حل فراہم کرنے پر جیتاجس سے کاشتکار موجودہ فارم مشینری کو مشترکہ وسائل کے طور پر استعمال کرکے ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہمارے کھیت ' ٹیک تھری پو' نے ایک ایپلیکیشن بنانے پر ایک خاص نقد انعام حاصل کیا۔

جو ہر قسم کی فصل کو الگ الگ انٹر فیس فراہم کرتا ہے اور اردو میں تصویروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔اس موقع پر جناب شعیب احمد صدیقی وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انوویشن چیلنج ہمارے زراعت کے شعبے کو مستحکم  کرنے کے  مقصد سے شروع کیا گیا تھا جو پاکستان کی معاشی ترقی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔انوویٹو سیلیوشنز اور اس جذبے کو دیکھتے ہوئے جس سے پورے پاکستان کے شرکاء نے مقابلہ کیا،یہ بات واضح ہے کہ ہمارے ٹیک سیوی نوجوان تکنیکی مداخلتوں کے ذریعہ زرعی شعبہ کو درپیش چیلنجوں اور مسائل کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خواتین کی قیادت والی ٹیم نے اس سے پہلے کسی بھی خاص ٹیم کیلیے رکھے ہوئے خصوصی انعام کے مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا۔پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ محترمہ ربیقہ بیل نے بتایا کہ ایگریسرج انوویشن چیلینج پاکستان کے لیے ایک ایسے وقت میں غذائی تحفظ اور انتہائی خطرے سے دوچار لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر کام کریگا جب وبائی مرض کورونا کی وجہ سے معیشت سخت متاثر ہورہی ہے۔ایف اے او پاکستان جدت متعارف کروانے اور '  Business as Usual Models " کومزید جدید طریقوں پر منتقل کرکے زراعت میں منظم بہتری کو یقینی بنانے میں ملک کی مدد کررہا ہے۔ڈیٹا سے چلنے والی عالمی زراعت اور ڈیجیٹل جدت،مصنوعی ذہانت کاشتکاری کے مناظر میں ترقیاتی تبدیلیوں کا وعدہ کرتی ہے۔ ایف اے او کو یقین ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زرعی شعبہ میں جدید ردعم،ل پیداکرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، ای ایگریکلچر کے نام سے جانا جانیوالا زرعی شعبہ میں انقلاب لائے گا۔سی ای او اگنائٹ جناب عاصم شہریار حسین  نے کہا اگنائٹ اور ایف اے او کی جانب سے زرعی شعبہ میں انوویٹو سیلیوشنز کے مطالبہ پر زبردست ردعمل، ملک میں غذائی تحفظ کی حساسیت کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم اس چیلنج کے فاتحین کے ساتھ شراکت کو مستحکم کرنے کے علاوہ نئے حل تلاش کرنا جاری رکھیں گے۔ مجھے امید ہے کہ یہ مقابلہ کاشکاربرادری کو متحرک کریگا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے زراعت سے وابستہ مسائل کو حل کرنے میں ایک بنیادی قدم ثابت ہوگا۔

مزید :

کامرس -