دھرنے جاری، 2اہلکار 3مظاہرین جاں بحق، رینجرز طلب، مولانا سعد رضوی کیخلاف قتل دہشتگردی کا مقدمہ درج، قانون توڑنے والوں کیساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ، فوج کو بھی تیار رہنے کا حکم 

دھرنے جاری، 2اہلکار 3مظاہرین جاں بحق، رینجرز طلب، مولانا سعد رضوی کیخلاف قتل ...

  

 اسلام آباد،راولپنڈی، کراچی،لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ،اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، مرید کے، شرقپور (بیورورپورٹس، نمائندگان، نیوز ایجنسیاں)  ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج  دوسرے روز بھی جاری رہا، احتجاج کے باعث متعدد اہم شاہراہیں بند ہیں اور شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا، رش میں متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسیں بھی پھنس  گئیں، کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے باعث متعدد پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کارکنان بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتارکر لیا۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں رینجرز تعینات کردی ہے۔ مشتعل افراد نے پولیس گاڑیوں کو آگ لگادی اور عام شہریوں کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ فیروزوالا میں مظاہرین کی طرف سے رینجرز اور پولیس پر پتھرا وکیا  گیاجس سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت محمد افضل کے نام سے ہوئی۔ دوسری طرف تحریک لبیک  پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شاہدرہ ٹاؤن میں سعد رضوی اور تحریک لبیک کے دیگر رہنماں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیاجبکہ مقدمے میں سعد رضوی، اعجاز رسول اور محمد قاسم سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں قتل اور اقدام قتل، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کو شامل کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت میں میں احتجاجی مظاہرین کے پتھراؤاور تشدد سے ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 74 اہلکار زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کے تشدد دو اہلکاروں  شہید جبکہ افسران سمیت 97 کو زخمی ہو گئے۔احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار اور افسران لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹس کے مطابق میو ہسپتال میں زیر علاج کانسٹیبل علی عمران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔کانسٹیبل علی عمران تھانہ شالیمار میں تعینات تھے، وہ کرول گھاٹی میں تشدد کے دوران زخمی ہوئے تھے۔مذہبی جماعت کے کارکنوں کے پرتشدد مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والوں میں 2 ڈی ایس پی، 5 انسپکٹر، 6 سب انسپکٹر، 6 اے ایس آئی، 12 ہیڈ کانسٹیبلز اور 66 کانسٹیبل شامل ہیں۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ہدایت پر ایس ایس پی ایڈمن وقارشعیب قریشی نے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا اور مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کیکانسٹیبل محمد افضل گذشتہ روز شاہدرہ چوک میں  مشتعل مظاہرین کے تشدد سے مضروب ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔ شہید کانسٹیبل محمد افضل کی نماز جنازہ گز شتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازجنازہ میں سربراہ لاہور پولیس ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال،ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی،ڈی آئی جی سکیورٹی حسن رضا خان،ایس ایس پی ایڈمن وقار شعیب قریشی، ایس ایس پی لیگل اور دیگراعلٰی پولیس افسران کے علاوہ شہید کے ورثا اور اہلکاروں کی بڑی تعداد  نے شرکت کی۔سعد رضوی کی گرفتاری پر تحریک لبیک کے کارکنوں نے موٹر وے فیض پور انٹر چینج پر احتجاجی دھرنا میں شریک مظاہرین  کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی جبکہ پولیس کی فائرنگ سے 3 مظاہرین گولیاں لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے،  پولیس کی طرف سے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج بھی کیا گیا ہے اور آ نسو گیس کی شیلنگ بھی سارا دن وقفے وقفے سے جاری رہی جبکہ پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تصدیق عامر غفور، وقاص احمد اور قدیر کے نام سے کی گئی ہے جن کا تعلق شرقپور شریف، کوٹ عبدالمالک اور برج ااٹاری  سے بتایا گیا ہے۔شرقپور شریف کے رہائشی ملک عامر غفور کی نماز جنازہ مڈل سکو ل گراؤنڈ شرقپور میں ادا کی گئی جس میں علاقے بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کیسعد رضوی کو حراست میں لئے جانے کی اطلاع پر تحریک لبیک کے سینکڑوں لٹھ بردار کارکن مریدکے جی ٹی روڈ پر آگئے اور حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے سڑک کے دونوں اطراف کی ٹریفک بلاک کردی۔جس سے گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں لگ گئیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیں،جبکہ احتجاج کے دوران کارکنوں اور پولیس کے مابین لڑائی بھی ہوئی،جس پر تھانہ رجانہ پولیس نے 36نامزد اور 90نامعلوم افراد کے خلاف پنجاب پبلک آرڈینینس 1960/16اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 353،186، 427، 382، 290، 291،148/149کے تحت مقدمہ درج کرلیا،کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے مابین جھگڑے کے دوران تحریک لبیک کے کارکن اور پولیس ملازمین زخمی بھی ہوئے دیگر اضلاع کی طرح گجرات میں احتجاج مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز رات گئے تحریک لبیک کے کارکنوں نے جی ٹی ایس چوک گجرات‘ لالہ موسی‘ کھاریاں‘ سرائے عالمگیر‘ سمیت مضافاتی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے مختلف سڑکوں پر دھرنا دیکر ٹریفک بلاک کر دی تحریک لبیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان مختلف مقاما ت پر جھڑپوں‘ لاٹھی چارج اور اینٹیں پتھر مارنے سے متعدد پولیس اہلکاروں سمیت تحریک کے درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ڈی ایس پی کھاریاں افتخار احمد تارڑ بھی مظاہرین کو منشر کرنے کیلئے ڈیوٹی پر موجود تھے جنہیں تشد دکر کے شدید زخمی کر دیا گیا انکی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہیں دیگر کئی پولیس افسران و اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے ہیں اوکاڑہ دیپالپور شیرگڑھ اور گردونواح میں میں بھی تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جی ٹی روڈ سمیت مختلف شاہراہوں کو مظاہرین نے بند کر دیا ہے اور حکومت مخالف نعرے بازی جاری رہی دوسری جانب مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے مظاہرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بھاری نفری بھی طلب کر لی گئی۔

احتجاج دھرنے

 لاہور، اسلام آباد (کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹا جائیگا۔ وزیر داخلہ شیخ رشیدا حمد کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حالات خراب والی جگہ موبائل انٹرنیٹ سروس بندکر دی جائیگی اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور، چیف کمشنر اور آئی جی نے شرکت کی جبکہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں مذہبی جماعت کے احتجاج سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راستے کھلوانے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں۔دوسری طرف وزیر قانون پنجاب کی سربراہی میں ہونے والے اہم اجلاس میں لاہور کے 16 اہم مقامات پر پولیس کیساتھ رینجرز تعینات کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے، حالات زیادہ خراب ہونے پر فوج کی خدمات لی جا سکں گی۔ صوبائی سب کیبنٹ کمیٹی برائے داخلہ کا وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا جس میں صوبے خصوصاً لاہور میں احتجاج کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے لاہور کے 16 مقامات پر پولیس کیساتھ ساتھ رینجرز بھی تعینات کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، جی او آر ون، سول سیکرٹریٹ، گورنر ہاؤس، پنجاب اسمبلی، آئی جی آفس کے باہر رینجرز اور پولیس تعینات ہوگی۔اس کے علاوہ لاہور مال روڈ، کینال روڈ پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار مشترکہ گشت کریں گے۔ جو قانون ہاتھ میں لے گا اسے فوری گرفتار کرکے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اور رینجرز کی ذمہ داری ہوگی کہ امن وامان کی صورتحال بہتر بنائیں تاہم حالات زیادہ خراب ہونے پر پاک فوج کی خدمات لی جا سکیں گی۔اجلاس سے خطاب میں راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہسپتالوں کو جانے والے راستے کھلے رکھے جائیں، بہت برداشت کر لیا، راستے بند نہیں ہونے دیں گے۔اجلاس میں تمام اضلارع میں رینجرز طلب کرنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو دیدیا گیا  وہ جب چاہین رینجرز طلب کر سکتے ہیں 

رینجرز طلب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت  ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مذہبی جماعت کے احتجاج سے پیدا  ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ مین لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی  وزیر داخلہ نے وفاقی کابینہ کو ملک میں امن وامان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد شیخ رشید نے میڈیا کو بتایا کہ کابینہ نے ملک کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا ہے۔اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کسی کو کہیں مار نہیں پڑ رہی، سارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ وفاقی کابینہ نے ملک میں کرونا کے بڑھتے کیسز اور ایس او پیز پر موثر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں کووڈ ویکسی نیشن سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے کرونا وبا کی تیسری لہر کے باعث ایس او پیز پر موثر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، کابینہ نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ رمضان المبارک میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمدکرایا جائے۔ اجلاس کے بعد کابینہ کے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے فاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا بیانیہ مکمل طورپر دفن ہوچکا ہے، پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے سکتی تھی، ن لیگ اور جے یو آئی کو نظر ثانی کرنی چاہیے،چاہتے ہیں (ن)لیگ اور جے یو آئی اور پیپلزپارٹی  اصلاحات کی سیاست شروع کریں، اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، 2ہفتوں میں کورونا کی شرح کو نیچے نہ لائے تو صورتحال سنگین ہوجائے گی،تیسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہے،ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو کورونا تیزی سے پھیل سکتا ہے،سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال تیزی سے بگڑرہی ہے۔  فواد چوہدری نے کہا  کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر اسد عمر نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اگر صورتحال دو ہفتوں میں بہتر نہ ہوئی تو اس کے نتیجے میں عید کی شاپنگ اور عید کے دنوں میں کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیلے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ اب سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال تیزی سے بگڑرہی ہے اور ملک میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یوز) میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 2 ہفتوں میں کورونا کیسز کی شرح کو نیچے نہ لاسکے تو بدقسمتی سے صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی اور خصوصاً سندھ و بلوچستان اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ اب تک کورونا کے 4200 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں اور یہ تعداد پہلے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کی درآمد پر معاون خصوصی فیصل سلطان اور وفاقی وزیر اسدعمر نے مکمل توجہ رکھی ہوئی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ کورونا ویکسین کی جلد از جلد درآمد کی کوشش کررہے ہیں اور اس ضمن میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ویکسین زیادہ سے زیادہ دستیاب کی جائے۔ انہوں نے ایک بارپھر کہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہوا تو کورونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے،مختلف شہروں میں رینجرز کی تعیناتی سے متعلق منظوری دی گئی۔ وفاقی وزیر نے بتایاکہ لاہور کے اہم ترین منصوبوں پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، لاہور میں دو منصوبے لائے جا رہے ہیں،والٹن روڈ 350 ایکڑ پر اور وحت کالونی 270 ایکڑ پر مشتمل ہے، نیشنل کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ وفاقی وزیر نے بتایاکہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کے لئے نئے اشتہار منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے وراثت کے لئے سیکشن سرٹیفکیٹ کے لئے سہولت پیدا کر دی گئی ہے، زائرین مینجمنٹ  پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے۔فواد چوہدری نے کہاکہ وزارتوں اپنے معاملات چلانے کے لئے مزید امپاور کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ 1992اور 1994 سے پاکستان نے پورٹ چارجز نہیں بڑھائے پورٹ چارجزکومزید کم کرنے کی  ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے پاکستانی مصنوعات کی رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری دی ہے،کابینہ نے برآمدات میں اضافے کیلئے رجسٹریشن اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی،بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ملاقات کی جس میں صوبائی امور اور سیاسی صورتحال پر گفتگوکی گئی،اسکے علاوہ گندم کی صورتحال اور ڈیرہ اسماعیل خان-پشاور ایکسپریس وے کے منصوبے پر گفتگو کی گئی وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر اجلاس  منعقد ہوا، جلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد  چوہدری، ایم ڈی این آر ٹی سی بریگیڈئر توصیف اور متعلقہ اعلی افسران  نے شرکت کی، اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے  ٹووے ووٹنگ سسٹم مشین کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا،مجوزہ ووٹنگ سسٹم انتخابی عمل کی الیکٹرانک اور پیپر ٹریل دونوں فراہم کرے گا جس سے الیکشن میں محفوظ طریقے شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے گا، وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ ووٹنگ سسٹم کے ذریعے کوریا کے علاوہ متعدد ملکوں میں کامیاب طریقے سے انتخابی عمل کرایا جارہا ہے،اسکے علاوہ ہیکنگ سے بچاؤ کیلئے سسٹم سیکیورٹی سرٹیفیکیشنز کا بھی حامل ہے

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -