کورونا، 118اموات، 4318نئے مریض رجسٹر، پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن میں 26اپریل تک توسیع

کورونا، 118اموات، 4318نئے مریض رجسٹر، پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن میں 26اپریل تک ...

  

 اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں کورونا وائرس سے رواں برس میں ایک ہی روز میں سب سے زیادہ اموات، 118 افراد جاں بحق، اموات کی مجموعی تعداد 15619 ہو گئی۔  ملک میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7 لاکھ 29 ہزار 920 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 24گھنٹوں کے دوران 4318نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔جس کے بعد پنجاب میں نافذ کورونا سمارٹ لاک ڈاؤن میں 26 اپریل تک توسیع دیدی گئی۔ 8 فیصد سے زائد مثبت شرح والے شہروں میں لگائی گئی پابندیوں کی مدت بھی بڑھائی گئی ہے۔سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم اپریل سے شروع سمارٹ لاک ڈاؤن اب 26 اپریل تک نافذالعمل رہے گا۔لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، چنیوٹ، حافظ آباد، قصور، ننکانہ صاحب، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ کو کورونا کے 8 فیصد سے زائد مثبت شرح والے شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔8 فیصد سے زائد مثبت شرح والے ان شہروں میں ان ڈور کھانوں، آؤٹ ڈور شادیوں، مارکیز سمیت تمام تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی، ان شہروں میں مزار بھی زائرین کے لیے بند رہیں گے۔  ترجمان محکمہ صحت کے مطابق  رمضان المبارک کے دوران پنجاب میں کورونا ویکسی نیشن سینٹرز دو شفٹوں میں کام کریں گے۔پہلی شفٹ صبح 10سے 4 بجے تک اور دوسری رات 9 بجے سے ایک بجے تک ہوگی جب کہ دونوں شفٹوں کے اوقات کا اطلاق پورے صوبے میں ہوگا۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ دو شفٹوں کا آغاز یکم رمضان المبارک سے ہو گا اور نئے اوقات کار کا اطلاق صوبے کے تمام ویکسی نیشن سینٹرز پر ہوگا۔ادھر ضلعی ہیلتھ افسر نے سب سیکٹرز میں بڑھتے کورونا کیسز پر انتظامیہ کو خط لکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایچ او اسلام آباد کی طرف سے انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سب سیکٹرز جی 6 ون، ٹو، جی 7 ٹو، جی 8 ون،جی 9 ٹو، جی 10 فور اور جی 11 تھری میں ٹیموں کی جانب سے نگرانی کی گئی ہے، ان سیکٹرز میں کورونا مریضوں کے اہل خانہ میں بھی کیسز سامنے آئے۔ خط کے متن کے مطابق کورونا سے متاثرہ ان سیکٹرز کی سخت نگرانی کی جائے اور ان سیکٹرز میں آمدورفت محدود اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔

کوروناوائرس

مزید :

صفحہ اول -