پی اے سی ذیلی کمیٹی کی نیب کو براڈ شیٹ معاملے پر انٹر نل انکوائری کی ہدایت 

  پی اے سی ذیلی کمیٹی کی نیب کو براڈ شیٹ معاملے پر انٹر نل انکوائری کی ہدایت 

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی  نے براڈ شیٹ معاملے پر قومی احتساب بیورو(نیب) کو اپنی انٹرنل انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 2 ماہ میں رپورٹ طلب کر لی جبکہ ایف آئی اے سے بھی  انکوائری کی تکمیل کے وقت سے متعلق  جواب مانگ لیا، کنوینر کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ حکومت،نیب اور پارلیمنٹ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں، یہ آڈٹ پیرا پارلیمنٹ کو ریفر ہوا ہے، یہ پیرا پارلیمنٹ کی پراپرٹی ہے، نیب اپنا انٹرنل احتساب اور آڈٹ کرے کہ نیب کے کون لوگ ملوث تھے جنہوں نے اس معاملے میں سہولت کاری کی جبکہ نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک ہو چکی ہے، اب کابینہ نے کیس کریمنل پروسیڈنگ کے لیئے ایف آئی اے کو ریفر کر دیا ہے، ہم ایف آئی اے سے تعاون کریں گے۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی  ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں براڈ شیٹ معاہدے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سال2000میں ایک  معاہدہ  دو فرمز آئی اے آر اور براڈ شیٹ سے کیا گیا تھا، 2003میں معاہدہ ختم کیا گیا، 2008میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ ہوئی اور دونوں فرمز کو 3.7ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی، آڈٹ حکام نے 1.5ملین ڈالر کی  ادائیگی سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ اوریجنل براڈ شیٹ  یوکے (برطانیہ) میں رجسٹرڈ تھی،براڈشیٹ کولوراڈو کے نام سے جو فرم یو ایس (امریکہ)میں رجسٹرڈ تھی اس کے نمائندے نے یہ  پیمنٹ  وصول کی،2011میں اس نے خودکشی کر لی، یہ  ادائیگی نیب کی طرف سے ہوئی اور جوپیمنٹ کی گئی ہے وہ غلط لوگوں کو ہوئی،  سینیٹر مشاہد حسین نے کہاکہ یہ بہت بڑا فریب ہے، اگلے دو تین سالوں میں اس پر ہالی ووڈ میں مووی بن جائے گی، 2008میں حکومت کی طرف سے کس نے دستخط کیئے؟۔ڈی جی نیب ہیڈکوارٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک ہو چکی ہے، اب کابینہ نے کیس کریمنل پروسیڈنگ کے لیئے ایف آئی اے کو ریفر کر دیا ہے، نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم ایف آئی اے سے تعاون کریں گے،  آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نے اس چیز کی2010میں نشاندہی کی،2008سیٹلمنٹ اور پیمنٹ ہوتی ہے،2010میں آڈٹ پیرا بناتا ہے، جیری جیمز کو پیمنٹ ہوئی توہم نے معاملہ اٹھایا،1.5 ملین ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈہمیں نہیں دیاگیا تھا،براڈ شیٹ یوکے کے بجائے براڈشیٹ یو ایس کے جیری جیمز کو ادائیگی کی گئی،  1.5ملین  ڈالر کا معاہدہ سفارتخانے نے تو نہیں کیا۔ رکن کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ یہ معاملہ ایسا نہیں جس کو یہاں ختم کیا جائے، اس کیس کا ٹرائل ہونا چاہیئے، ڈی جی ایف آئی اے کو بلائیں اس کیس کی انویسٹی گیشن ہونی چاہیئے، کنوینر کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ حکومت،نیب اور پارلیمنٹ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں، یہ پیرا پارلیمنٹ کو ریفر ہوا ہے، یہ پیرا پارلیمنٹ کی پراپرٹی ہے، اگر کوئی معاملہ زیر التوا ہے جب تک وہ فائنل نہیں ہوتا یہ پیرا التوا میں رہے گا، یہ معاملہ انڈر انکوائری ہے،  تین براڈ شیٹس ہیں، نیب اپنا انٹرنل احتساب اور آڈٹ کرے کہ نیب کے کون لوگ ملوث تھے جنہوں نے اس معاملے میں سہولت کاری کی،کمیٹی نے براڈشیٹ معاملے پر نیب کو اپنی انٹرنل انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ طلب کرلی جبکہ ایف آئی اے سے بھی  انکوائری کی تکمیل کے وقت سے متعلق  جواب مانگ لیا، اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے کچھ آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر دی۔

پی اے سی کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -