بنوں‘ کلاس فور بھرتیوں میں بے قاعدگیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  بنوں‘ کلاس فور بھرتیوں میں بے قاعدگیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

بنوں (بیو رورپورٹ)محکمہ تعلیم کی جانب سے سکولوں میں کلاس فور بھرتیوں میں خور د برد اوربے ضابطگیو ں کے خلاف درجہ چہارم یونین کا احتجاجی مظاہرہ، بھرتیوں کا اعلامیہ فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ،نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو سکولوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو سکولوں سمیت محکمہ تعلیم دفاتر کو تالے لگائیں گے آل پاکستان درجہ چہارم ملازمین ایسوسی ایشن محکمہ تعلیم بنوں کے مولانا سید فداء احمد شاہ،عبدالقیوم خان،حاجی فقیر محمد خان اور دیگر نے بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے و بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  محکمہ تعلیم بنوں میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا سلسلہ جاری ہے عدالتی احکامات کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے سال1993،2005اور 2015  میں اعلیٰ عدالتوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے کہ جہاں پر بھی سکول کی تعمیر کیلئے مالک مکان نے مفت زمین فراہم کی ہے وہاں پر انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور ممبران اسمبلی کلاس فور ملازمین کی بھرتی میں مداخلت نہیں کر یں گے بلکہ مالک مکان ہی مجاذ ہو گا کہ وہ کس کو چاہے بھرتی کروا سکے گاگزشتہ دنوں 74  کلاس فور ملازمین کو بنوں کے مختلف سکولوں میں تعینات کیا گیاجس میں مالک مکان کو نظر انداز کیا گیا اور صرف 15 سے 20  بھرتیاں میرٹ پر کی گئیں جس پر ایجوکیشن دفتر اور ایم پی ایز نے معزز عدالت کی دھجیاں اڑا دی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو سکولوں کیلئے کروڑوں روپے مالیت کی مفت زمین دی ہے اس لئے ہمیں یہ حق دیا گیا ہے کہ ان سکولوں پر مالک مکان ہی ملازمت کے حقدار ہونگے  ضلعی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ حالیاں بھرتیوں کا نوٹیفیکیشن منسوخ کریں ورنہ عید کے بعد میدان لگائیں گے ہم نے پاکستان بننے کے بعد حکومت کو مفت زمینیں فراہم کیں لیکن آج ہمیں اپنا حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے صرف یہی نہیں گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول غوریوالہ میں پچاس اُستانیاں اور  700  طالبات ہیں جہاں ایم پی اے کی ایماء پر وہاں مرد خاکروب تعینات کیا گیا جو کہ انتہائی نا مناسب ہے زنانہ سکولوں میں صرف اور صرف زنانہ خاکروب و دیگر ملازمین بھرتی کئے جائیں اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سکولوں کے معاملات کیلئے محکمہ تعلیم اور سکول ملکان کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائے تاکہ ان جیسی حرکتوں کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوانہوں نے کہا کہ  ہم آج پر امن ہیں لیکن عیدالفطر تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ہم بھر پور احتجاجی تحریک شروع کرکے سکولوں اور محکمہ تعلیم دفاتر کو تالے لگائیں گے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ محکمے اور حکومت پر عائد ہو گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -