آج کے جنگ کا میدان ذہن اور تاثر سازی ہے: میجر (ر) محمد عامر 

  آج کے جنگ کا میدان ذہن اور تاثر سازی ہے: میجر (ر) محمد عامر 

  

 صوابی (بیورورپورٹ) ممتاز قومی شخصیت اور آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق چیف میجر(ر) محمد عامر نے واضح کر دیا ہے کہ آج کے جنگ کا میدان ذہن سازی اور تاثر سازی ہے اور اسی کا ہتھیار تحریر، تقریر، تصویر اور تشہیر ہے جب کہ اس کے کمانڈر، لیڈر، دانشور اور میڈیا پرسنز ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے کے باوجود ہماری شناخت دہشت گردی کے سپانسر کے طور پر کیوں بنا دی گئی ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس جنگ کے کمانڈر اس ہتھیار کو استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ صوابی الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا ایسو سی ایشن کی حلف برداری تقریب سے بطور صدر مجلس خطاب کر تے ہوئے میجر عامر نے کہا کہ انسان جہاں بھی ہو گا وہاں شر، فساد، گناہ اور بدی ہو گی۔ مگر ان برائیوں کو ختم اور کم کرنے کی ذمہ داری سیاسی اور مذہبی قیادت کی ہے۔ آج اگر معاشرہ زوال کی اس انتہاء پر ہے کہ باپ بیٹا، بھائی بہن، بیوی اور خاونداکثر روز ایک دوسرے کو قتل کر تے ہیں تین تین سال کی بچیاں درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل ہو رہی ہیں۔تو کیا یہ قیادت کی ذمہ داری نہیں۔ نفرت، تعصب اور نسل پرستی کو ہم نے قوم پرستی، انسانی حقوق کی بالا دستی کے دلکش نام رکھے ہیں جب کہ جو اسلام اور پاکستان کے خلاف جتنی زیادہ ہرزہ سرائی کرسکتا ہے اتنا ہی وہ بہادر اور جمہوری کہلاتا ہے۔یہ سب فکری جنگ کے کرشمے ہیں جو ہم عملاً ہار چکے ہیں جو بھی پختونوں کو پاکستان کے ساتھ زیادہ جوڑے گا وہی اصل قوم پرست ہے کوئی بھی پاکستانی پختون افغانستان کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنانا نہیں چاہتا جب کہ ہر افغانی پختون پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رشوت دے کر حاصل کرتا ہے۔ آج اسلام آباد راولپنڈی کی دوسری بڑی آبادی پختون ہیں۔ لاہور نے پچیس لاکھ پختونوں کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ پنجاب کے ہر بستی میں پختونوں کی بہت بڑی تعداد رہتے ہیں۔تعصب پھیلا کر ان کے زندگیوں اور خوشیوں سے نہ کھیلا جائے۔ ریاست کو بھی وطن دشمنی اور غداری کے اسناد بانٹنے بند کردینے چاہئے ریاست ماں جیس ہے ماں کا کام گلے کاٹنا اور پرے دھکیلنا نہیں۔ گلے اور سینے سے لگانا ہے حکومت غصے اور اشتعال کو کم کر دے۔ سپیکر قومی اسمبلی اس سلسلے میں رہنما کردار ادا کریں سیاستدان لوگوں کو اذیت دینے کی بجائے راحت اور سکون دے علماء بھی کردار ادا کریں جو ماضی کے علمائے حق کا طریقہ رہا میڈیا ان دونوں کی کڑی نگرانی کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -