عوام کی محرومیوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے: اسد قیصر

  عوام کی محرومیوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے: اسد قیصر

  

 صوابی(بیورورپورٹ)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تمام محروم طبقات اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کے خاتمے اور ترقی کے لئے تاریخ ساز کر دار ادا کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کے اندر بلو چستان اور کراچی کو ڈویلپمنٹ کے لئے بڑے بڑے پیکیج دیئے گئے جب کہ خیبر پختونخوا کے پرانے فاٹا میں بھی اسی طر ح کے کام ہو رہے ہیں تاکہ پسماندگی کے شکار ضم شدہ اضلاع بھی نہ صر ف ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے بلکہ یہاں روزگار کے مواقع میسر ہو سکے ان خیالات کااظہار انہوں نے ممتاز قومی شخصیت اور آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق چیف میجر(ر) محمد عامر کی صدارت میں صوابی الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا ایسو سی ایشن کی حلف برداری تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سیما کے سر پرست اعلی محمد شعیب، صدر محمد فاروق، جنرل سیکرٹری عظمت علی، سینئر نائب صدر امجد علی، نائب صدر مصطفی کمال، جوائنٹ سیکرٹری محمد عادل، سیکرٹری مالیات محمد ریاض، پریس سیکرٹری رخسار علی اور ارکان مجلس عاملہ مقدم خان اور محمد شاہد سے حلف لیا جب کہ تقریب سے مقدم خان، محمد ریاض اور عظمت علی نے بھی خطاب کر تے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ چونکہ پشاور تجارت کے حوالے سے بلوچستان کے گوادر اورکراچی بندر گاہ سے کافی دور ہونے کے سبب تجارتی مارکیٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے اسلئے چکدرہ چترال موٹر وے اور پشاور ڈی آئی خان موٹر وے کی تعمیر سے بھر پور فائدہ اُٹھایا جائیگا تاکہ گوادر تک رسائی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تجارت کے فروغ کے لئے عالمی مارکیٹ کو کھولا جائے افغانستان اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے سرمایہ کار آکر یہاں کاروبار کریں اورپشاور تجارت کے حوالے سے عالمی مارکیٹ بن جائے۔ افغانستان جو دہشت گردی کے جنگ سے کافی متاثر ہوا ہے ہم اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ پُرانے روٹ کے ذریعے سنٹرل ایشیاء تک رسائی کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔ اس روٹ کی بحالی کے لئے عالمی معیار کے مطابق پشاور سے ترخم تک روڈ تعمیر کیا جائیگا تاکہ اس روٹ کے ذریعے سنٹرل ایشیاء کے ساتھ تجارت ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں امن قائم ہو ا تب یہاں روزگار کے مواقع امن، ترقی اور خوشحالی آئے گی افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان بہت سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومتی جاب سے بے روزگاری کا خاتمہ ممکن نہیں اس لئے ہم نے بے روزگاری کے خاتمے کے لئے تجارت کو ترجیح دی اس لئے رشکئی کے مقام پر عالمی سطح کا اکنامک زون بن رہا ہے جس کا افتتاح کرونا وائرس میں کمی آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان بہت جلد کریگا۔رشکئی اکنامک زون کے لئے گیس، بجلی، روڈ، انفراسٹرکچر کے علاوہ پیپر ورک مکمل ہو چکا ہے انہوں نے میڈیا کے ذریعے چیلنج دیا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ضلع صوابی میں ہو رہے ہیں ملکی تاریخ میں پہلی بار صوابی کو وفاق میں موثر نمائندگی مل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا جس علاقے صوابی سے تعلق ہے وہ محرومیوں اور پسماندگی کا ایک اماجگاہ تھا اقتدار میں آکر ہم نے صوابی کو ترقی کی دوڑ میں آگے لے جانے کے لئے عملی اقدامات اُٹھائے۔میری خواہش تھی کہ اپنے دور میں روزگار کے مواقع پیدا کر کے ہر شعبے کے لوگ اس سے مستفید ہو سکے پہلی فرصت میں یونیورسٹی آف صوابی کی کیمپس کو نہ صرف مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا بلکہ اس کے لئے جدید بلڈنگ تعمیر کرنے کے لئے اراضی خریدی گئی جس میں تمام جدید سہولیات میسر ہونگے۔ اور یہ ملکی سطح پر جدید اور اعلی تعلیمی ادارہ ہو گاوومن یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے بھی اراضی خریدی گئی اس یونیورسٹی میں گرلز کامرس کالج، گرلز کالج و سکول بھی ہونگے۔ نبی کے مقام پر پاک فضائیہ کے اشتراک سے ایک سٹی بن رہا ہے جس میں کیڈٹ کالج، معذوروں کے لئے ہسپتال، کالج اور دیگر سہولیات میسر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ صوابی جہانگیرہ روڈ کا ٹینڈر ہو چکا ہے عید الفطر کے بعد اس کا افتتاح کرینگے جب کہ صوابی بائی پاس روڈ دسمبر تک مکمل کر کے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گدون صنعتی بستی کو موٹر وے کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے ایک روڈ تعمیر کی جائے گی۔ ٹوپی صوابی روڈ کا ٹینڈر پراسز میں ہے مردان صوابی دو رویہ روڈ پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ گجو خان میڈیکل کالج کے قیام کے علاوہ باچا خان میڈیکل کمپلیکس کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اسی طرح ان دونوں اداروں کو ایم ٹی آئی کا درجہ بھی دیا گیا۔اور یہ پشاور اور مردا ن کے بڑے بڑے ہسپتالوں کی طرح جدید اور بڑا ہسپتال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ٹوپی اور لاہور کے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا ٹوپی ہسپتال میں مزید ڈاکٹرز تعینات کر دیئے گئے اوریہ ہسپتال دو ہفتوں تک مکمل فنگشنل ہو گا۔

مزید :

صفحہ اول -