اتائیت کے خاتمہ کیلئے فعال کردار ادا کررہے ہیں،انیس موسوی

  اتائیت کے خاتمہ کیلئے فعال کردار ادا کررہے ہیں،انیس موسوی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی)سندھ میں صحت کی سہولیات میں بہتری اور اتائیت کے خاتمے کیلئے فعال کردار ادا کررہی ہے اور اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن  ہر سطح پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ چیرمین سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن انیس الحسنین موسوی نے چند روز قبل  پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس  کا جواب دیتے ہو کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ایم اے  کو کمیشن کے حوالے سے کوء اعتراضات یا شکایات ہیں تو وہ  افہام وتفہیم سے حل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے مراکز سے متعلق شکایات کے حل کیلئے انسداد شکایات ڈائریکٹوریٹ قائم ہے اور مناسب طریقے سے ڈاکٹروں کی شکایات کا ازالہ کررہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ اور معائنہ ٹیم ڈاکٹروں اور طبی ماہرین پر مشتمل ہے جو ایس ایچ سی سی کے ایکٹ 2013کے تحت  طبی مراکز کا معائنہ کرتی ہیں اور اگر کوء  طبی کوتاہی پاء جائے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔   جبکہ حکیموں اور ہومیوپیتھی کو رجسٹریشن کے قواعد کے مطابق پریکٹس کی اجازت ہے اور ان کو بند نہیں کیا جاسکتا۔البتہ کوء حکیم یا ہومیوپیتھک اپنے دائر کار سے باہر نکلتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایس ایچ سی سی کی ٹیموں نے 44حکیموں، ہومیوپیتھک اور دیگر کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور جرمانے  بھی عائد کئے گئے ہیں۔  چیرمین ایس ایچ سی سی نے کہا کہ پی ایم اے  ایک ا ہم اسٹیک ہولڈر اور کمیشن کا پارٹنر ہے اور امید کرتے ہیں کہ وہ اتائیت کے خاتمے اور  سندھ میں صحت کی سہولیات میں میں بہتری کیلئے ایس ایچ سی سی کی رہنمائی جاری رکھے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -