وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی طرف چل کر جائیں تو اللہ ان کی طرف دوڑ کر آتا ہے؟

وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی طرف چل کر جائیں تو اللہ ان کی طرف دوڑ کر آتا ہے؟
وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی طرف چل کر جائیں تو اللہ ان کی طرف دوڑ کر آتا ہے؟

  

اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر میں بہت برکت رکھی ہے اور رمضان کے بابرکت مہینے میں تو ذکرِ الہٰی اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ نے اپنے ذکر کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ ذکر کرنے والوں  کے درجات بھی بلند کردیے ہیں۔

سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ 

’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘

سورۃ النساء میں ارشاد  باری تعالیٰ ہے کہ 

’’پھر اے (مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی(اپنے شایان شان) خفیہ اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازوؤں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔

رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں ہمیں نہ صرف نماز روزہ کے ذریعے اللہ کو راضی کرنا چاہیے بلکہ ذکر کے ذریعے بھی قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مزید :

روشن کرنیں -