ملک کی معاشی صورتحال بہت گھمبیر ، مردم شماری پر سندھ کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ، مرادعلی شاہ کھل کر بول پڑے

 ملک کی معاشی صورتحال بہت گھمبیر ، مردم شماری پر سندھ کے ساتھ شدید ناانصافی ...
 ملک کی معاشی صورتحال بہت گھمبیر ، مردم شماری پر سندھ کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ، مرادعلی شاہ کھل کر بول پڑے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہاکہ ملک کی معاشی صورتحال بہت گھمبیرہے، مردم شماری پر سندھ کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ، 29 فیصد سے 24 فیصد حصہ دیا جاتا ہے, ملکی معاملات کا حل نکالنے کیلئے وزیراعظم کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا کہا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور تیمور تالپور  کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ تین چار معاملات ایسے ہیں جن پریس کانفرنس کررہا ہوں جس میں سی سی آئی اجلاس میں مردم شماری پر ہمارے موقف، ملکی معیشت اور کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال شامل ہیں، سوا دو سال سے میں جب بھی پریس کانفرنس کرتا ہوں تو کورونا وائرس سے متعلق آگاہی دیتا ہوں اس وقت یہ وبا دیگر پڑوسی ممالک سے بھی زیاہد شدت اختیار کر گئی ہے،اس وقت صوبہ سندھ دیگر صوبوں سے زیادہ بہتر ہے اور یہاں اس وقت 664 آئی سی یو یبڈز ہیں جن پر وینٹی لیٹرز بھی موجود ہیں جبکہ اس وقت 39 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں اور وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑنے والے مریضوں کی تعداد 79 ہیں مجموعی تعداد 95 ہے۔

انھوں نے کہ اکہ ایس او پیز کو نہ اپنانے سے یہ وبا بہت جلد پھیلتی ہے اور اس طرح ہوا بھی ہے،گذشتہ این سی سی اجلاس میں وزیراعظم کو درخواست کی تھی کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ دو ہفتوں کیلئے بند کی جائے جس سے وبا کو پھیلنے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے،جہاں تک معیشت کی بات ہے تو میں نے یہ بھی کہاتھا کہ  ڈرائی پورٹ ہے یا گڈز ٹرانسپورٹ سب جاری رہے باقی صرف مسافروں کی آمدو رفت کیلئے ٹرانسپورٹ  پر پابندی لگائی جائے لیکن انھوں نے ہماری یہ بات نہیں مانی، ہم سندھ میں اکیلے بیٹھ کر عملدرآمد نہیں کرا سکتے، کن لوگوں نے کہا کہ بارڈرز بند کریں تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے دوسری طرف بھی ہمارے بھائی بہن ہیں لوگ بارڈرز پر جمع ہوجائیں گے جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

انھوں نے کہاکہ جب ہم نے وبا کی پہلی لہر میں اقدامات اٹھانے میں پہل کی تھی تو دیگر صوبوں نے بھی ہمارے فیصلوں پر عملدرآمد کیا تھا حتیٰ کہ وفاق نے بھی کیا تھا اس لئے ہم کامیاب ہوتے تھے،بتایا جاتا ہے کہ انگلینڈ سے آئے کچھ لوگوں نے یہ وبا پاکستان میں پھیلائی ہے جس کے نتیجے میں انگلینڈ نے پاکستان پر پابندی لگادی ہے، کہنے کا مقصد ہے کہ جب انگلینڈ سے لوگ آئے تو آپ ایئرپورٹ پرچیکنگ سسٹم نافذ کرتے بہرحال میں اجلاس میں کہا کہ جتنے بھی انگلینڈ واسی یہاں ہیں انکا ڈیٹا اکھٹا کریں انکو ٹریک ڈاون کیا جاسکتا ہے کہ وہ کہاں کہاں گئے ہیں لیکن میرے مطابق ان تمام تجاویز کو رد کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ سندھ میں ہم چیکنگ سسٹم نافذ کیا ہے جو ہائی رسک ممالک سے یہاں آتے ہیں اسکا ڈیٹا ہمارے پاس ہے لیکن اس وقت وہ ہائی رسک بھی نہیں رہے، انگلینڈ نے تقریباً 50 فیصد ویکسی نیشن کردی ہے جبکہ ہم زیرو پوائنٹ پانچ فیصد پر کھڑے ہیں،یہ ہماری ناکامی ہےاورچاہتا ہوں کہ وفاق اس پر اقدامات کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ رواں سال ہماری شرح نمو دڈیڑھ فیصد سے کم ہے جوکہ پچھلے سال کی کمی کو دیکھ کر کی جاتی ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک میں کچھ ایسے بھی ہیں جو رواں سال آٹھ اور نوفیصد پر گروتھ کررہے ہیں، بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے افراد زر دگنی ہوگئی ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر بغیر سوچے سمجھے کئی قوانین تبدیل کررہے ہیں ، نیپرا کے قوانین تبدیل کردیئے گئے اور بتایا جاتا ہے کہ جون تک سوا پانچ روپئے بجلی مہنگی ہوجائے گی جوکہ آئندہ دو سال اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

انھوں نے کہ کہ درآمد میں اضافہ آپ کے برآمدکے دگنے ریٹس پر ہے جس سے شرح خسارہ بڑھتا جارہا ہے ،غیر ملکی ترسیلات کے آنے سے کرنٹ اکاونٹ میں کچھ بہتری لائی گئی جس پر بھی بہت سی باتیں ہوئیں ،   غیر ملکی ترسیلات اس لئے آئی کی کہ دیگر ممالک میں بیٹھے ہمارے بھائیوں کو دیگر ممالک سے روزگار سے نکالا گیا تو انکو ریٹائرمنٹ بینفٹ ایک ساتھ ملنے سے انھوں نے وہ پیسہ یہاں بھیجا جوکہ مستقل بنیاد پر عمل ہے یہ ایک اتار چڑھاو کی بنیاد پر ہوا ہے اور یہ ایک منفی اسباب میں گنا جائے گا، رواں سال فسکل ڈفسٹ جوکہ ہم ٹارگیٹ کرتے تھے تین سے چار فیصد تک وہ آٹھ فیصد سے تجاوز ہورہا ہے جوکہ جی ڈی پی کو متاثر کرتا ہے۔ ہماری معاشی صورتحال خراب ہے ، ہم مکمل لاک ڈاون نہیں لگا سکتے۔

انھوں نے کہاکہ قرضہ جو لیا ہوا ہے اس کا قانون موجود ہے، جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے نہیں لینا چاہئے لیکن اس وقت نو سے فیصد لیا گیا ہے، یہ وہی لوگ ہیں جو قرضہ نہ اٹھانے کی بات کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کے دور میں بھی انفلیکشن آئی تھی پر تنخواہیں بڑھائی گئی اور سٹیٹ بینک کو پاور فل بنایا گیا ہے،اب وہ احتساب سے بالاتر ہیں، کارونار کو سستے قرضے دئے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہتا پر بتانا چاہتا ہوں صورتحال خراب ہے ، وہ شخص جو ایک دن کہتا ہے میرا وزیر خزانہ سب سے بہتر ہے پر اس کو چارج شیٹ کرکے نکالا جاتا ہے،تحریک انصاف آئی ایم ایف ڈیل بھیانک ہے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے دھرنوں کے حوالےسے کہا کہ ایک دو گھنٹےمیں پوراشہر بند کردیا جاتا ہے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جب تک پولیس پہنچی دھرنے دئیے جاچکے تھے، چھوٹے بچے عورتیں بھی ان میں شامل تھے، ہم نے کہا کہ پولیس کا استعمال ہوش سے کیا جائے، ہم نے کہا احتجاج کریں لیکن لوگوں کو تکلیف نہ ہو، صوبے میں 26 مقام پر احتجاج ہوا، 26 میں سے 24 جگہ سے احتجاج ختم کروادیا ہے، اب ہم نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ کئے ہیں، دھرنوں سے پانچ اموات ہوئی ہیں ، 18 زخمی اور 12 پولیس اہلکار زخمی ہیں، ہم احتجاجیوں سے سیاسی مذاکرات کرنے اور ان کو متبادل جگہ دینے کیلئے تیار ہیں،عوام کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب مردم شماری 2017 میں ہوئی تو اس وقت آوازیں آنی شروع ہوئی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور سندھ سمیت دیگر نے بھی اعتراضات کئے، وزیر قانون نے کہا کہ ہم مردم شماری کو تسلیم نہیں کرتے تو 2018 کے انتخابات پرانی مردمشماری پر کروانے پڑیں گے، سب نے ملک آئین میں ترمیم کرکے صرف الیکشن کیلئے نتائج تسلیم کئے، پہلے ایک فیصد کو چیک کروانے کی بات کی گئی پھر پانچ فیصد پر اتفاق ہوا اور 24 نومبر 2017 کو یہ فیصلہ ہوا، مارچ 2018 میں سی سی آئی اجلاس ہوا، 27 مئی کو آخری اجلاس ہوا اس میں کہا گیا کہ ہم سے پانچ فیصد نہیں ہوسکتا، نئی پارلیمنٹ پر اتفاق ہوا، یہ حکومت آئی تو تاخیر سے چار اجلاسز ہوئے، ان میں مرد شماری کا ذکر نہیں تھا،اب کابینہ کمیٹی بنادی گئی ہے، میں نے کہا کہ کمیٹی صوبوں سے رائے ضرور ہے، ہم انتخار کرتے ہیں، کابینہ کی کمیٹی کے بعد کابینہ نے بھی منظوری دے دی اور صوبوں سے مشاورت نہیں کی گئی، اس مردم شماری کے فیصلے کو پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا، نومبر کے اجلاس میں جو چئے ہوا اس پر عمل نہیں کیا گی ااور سی سی آئی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، سندھ کے ساتھ شدید ناانصافی کی گی۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پہلے گھر شماری کی جاتی ہے،پھر افراد گنے جاتے ہیں،اگر ٹوٹل مردم شماری کو گھروں میں تقسیم کریں تو کے پی میں اور بلوچستان پنجاب میں آبادی تھی،چاروں صوبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر فیصلے کئے جاتے ہیں، سندھ اور بلوچستان کے ساتھ زیادتی کی گئی، یونیسف سروے کے تحت سوا ملین آبادی بلوچستان کی ہوجاتی ہے، سندھ حکومت کے ساتھ یونیسف نے جو سروے کیاتھا 2-7 ہمارے افراد تھے، ہماری آبادی ڈیڑھ کروڑ کم گنی گئی، ہماری آبادی 27 فیصد بنتی ہے اب 24 فیصد حصہ ملتا ہے، وزیر اعظم کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی بات کی،سی سی آئی میں سب فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں، یہ پہلا فیصلہ ہے جس میں اختلاف کے باوجود منظور کیاگیا، وفاق ترمیم کرسکتا ہے، میں نے ووٹ رجسٹرڈ کروایا جسکو تینوں صوبوں نے حمایت میں ووٹ دیا،ہم نے مردم شماری نتائج پر مخالفت میں ووٹ دیا، تین وزرائے اعلیٰ نے ”جی حضوری“ جواب دیا۔ سی سی آئی فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے پارلیمنٹ میں ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ کابینہ نے ریفرنس کی منظوری دے دی ہے، 1998 کی مردم شماری پر سب کوتحفظات تھے، جب مردم شماری نوٹیفائی ہونگی تو 2017 کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیاں ہونگی، بدقسمتی سے ہر دفعہ مردم شماری کو متنازعہ بنادیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی چاہتی ہے جو جس کا حق ہے اسکو دیا جائے۔ 

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -