خوشیوں بھری عید کی ادھوری فلم 

خوشیوں بھری عید کی ادھوری فلم 
خوشیوں بھری عید کی ادھوری فلم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  اِس عید پر آپ کے سیالکوٹی کالم نگار نے محلہ چوڑی گراں اور ٹبہ کشمیریاں کی سرحدیں مِلا کر علامہ اقبال سے رشتہ جوڑنے کا ارادہ کیا اور اُبلی ہوئی سویاں اُنہی کی طرح دودھ کی بجائے دہی ڈال کر کھائیں۔ دودھ دہی سے ہٹ کر اگر اقبال کے  پاکستان کو مسلم تمدن کے احیا  کا مر کز سمجھ لیں تو  بنیاد وہی دینی عقائد ہیں جن پر، اپنی دانست میں، ہم نے اقدار کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ صرف یہ ہے کہ انسانی  رہائش کے لیے اٹھائی گئی عمارتیں خالی نہیں رکھی جاتیں بلکہ انسانوں   کے د م  قدم سے آباد رہتی ہیں۔ اب اِس نئی عمارت کی کھڑکیوں، دریچوں اور بر آمدوں سے جھانکیں تو  باہر تازہ، ہوا دار اور روشن فضا میں ہمارے موسموں کے رنگ، شہر و قصبات اور گاؤں، ہماری نئی اور پرانی روایات کے باغ باغیچے دکھائی دیتے ہیں۔اِنہی میں  ایک خوش رنگ مگر بدلتا ہوا منظر پاکستانی عید کا بھی ہے۔

نوجوانوں کو عید کی فلم دکھانے کے لیے مجھے کہانی کو فلیش بیک میں لے جانا پڑے گا جس کے ابتدائی سِین آج کل کے تھری ڈی ناظرین کے ذوق کی تسکین نہیں کر تے۔ آپ اِسے ایک پرانے، گھِسے پٹے بلیک اینڈ وائٹ ’ٹوٹے‘ کا شرطیہ نیا پرنٹ کہہ لیں۔ سب سے پہلے پس منظر میں حضرتِ علامہ کی ’اقبال منزل‘ سے کوئی آدھ کلو میٹر دُور کھلونوں کی ’ٹی ٹی، پا پاں‘ جیسی نیچرل ساؤنڈ۔ پیش منظر میں محلہ ککے زئیاں، ٹبہ ٹانچی اور نائیوں والی ’ڈھکی‘ سے اراضی یعقوب کی عمومی سمت میں پھدکتے ہوئے ہر سائز کے  بچے۔ ملبوسات ’پینڈو‘ ٹائپ مگر نئے، سامنے چھاتی پر ایک ایک ریشمی رومال اُس سیفٹی پِن کے ساتھ آویزاں جو عام طور پر  شیرخواروں کے لنگوٹ باندھنے کے کام آتی ہے۔ 

پھر عید گاہ کا منظر جہاں لوگوں کی موومنٹ دکھائی جائے گی اور چھ زائد تکبیروں سے پیدا ہونے والا دلچسپ گھپلا۔ کچھ ہی پہلے ایک متوسط درجہ کا خاندان سویاں کھاتے ہوئے جس میں چار اور پانچ سال عمر کے دو نہایت خوش باش لڑکوں کے کلوز اپ بھی ہیں۔ دونوں دل ہی دل میں گُٹک رہے ہیں کہ اب وہ اپنے کم گو مگر ’حرکتی‘ داد ا ابا کی قیادت میں نماز ادا کر کے واپسی پر میلہ دیکھیں گے۔ کیا پتا پچھلی عید کی طرح بچوں کو گول جھولے کی سیِٹوں پر بٹھا تے ہی خود ابا جی بھی کود کر گھومنے والے گھوڑے پہ سوا ر ہو جائیں۔ اِس کرتب سے جہاں بچوں کا دل پشوری ہو گا، وہاں اِس تاثر کی نفی بھی ہو گی کہ پچھلے دنوں ’ریلوائی‘ کے کام میں گھاٹا پڑنے سے ملک فضل الہی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ 

فضل الٰہی کی کمر تو الحمد للہ اُس وقت بھی نہ ٹوٹی جب 1931ء میں سید عطا اللہ شاہ بخاری کے حکم پر بیوی بچوں کو خدا کے آسرے  پہ چھوڑ کر وہ ’کشمیر چلو‘ تحریک کے سرفروشوں میں جا شامل ہوئے تھے۔ پہلی یورش سیالکوٹ کی جانب سے ہوئی۔ ماؤں نے بیٹوں کو، بہنوں نے بھائیوں کو اور بیویوں نے خاوندوں کو خوشی خوشی دعائیں دے کر ریاست میں داخل ہونے کے لیے رخصت کیا۔ قدرت اللہ شہاب کا اندازہ ہے کہ پندررہ دن میں صرف پنجاب سے پینتالیس ہزار نوجوان گرفتار ہوئے۔ جموں و کشمیر کی ادھم پور جیل اور پھر ٹھیکری پہرے والے فیروز پور کیمپ میں اسیری کے چالیس سال بعد جب مَیں نے پوچھا کہ ابا جی، آپ کو گرفتار ہوتے ہوئے  اپنے سات سالہ اکلوتے بیٹے اور  ایک سالہ واحد بیٹی کا خیال نہ آیاا تو  انہوں نے بڑی سادگی سے کہا ”بیٹا، وہ تو قومی کام تھا نا۔“  پھر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف لوک گائیکی کا یہ نمونہ گنگنانے لگے:

پردے دار  بیبیاں  تے لاٹھیاں  ورسا  کے

مال سارا لٹ لیا نیں گھراں وچ جا کے 

اٹھو  اٹھو  مومنو،  رُخ کرو کشمیر دا

راج کر  تباہ  سٹو  ڈوگرے بے پِیر دا  

انٹرول کے بعد کا منظر اگلی عید پر واہ کی مرکزی مسجد  کا لانگ شاٹ ہے۔ یہاں سے کیمرہ آہستہ آہستہ زوم کر کے پاکستان آرڈنینس فیکٹری کے شیروانی پوش ویلفئیر آفیسر پہ جا رکے گا جن سے معانقہ کرتے ہوئے دونوں سیالکوٹی لڑکوں کے والد کی آواز گونج رہی ہے ”واہ، جعفری صاحب، آپ کی توند سے ملنے کا مزا آ گیا۔ خوب سپرنگ لگے ہوئے ہیں۔“  سُن کر جان میں جان آتی ہے، ورنہ خطبہ ختم ہوتے ہی جب بہت سے مراد آبادی اور شاہجہانپوری بزرگ ’جانے نہ پائے‘ کے جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف لپکے تو یوں لگا تھا کہ نمازیوں میں ہا تھا پائی شروع ہو گئی ہے۔ ماضی میں سیالکوٹ کی  عید گاہ سے امام علی الحق شہید کے مزار تک جہاں میلہ لگتا، ہم نے کبھی کسی شخص کو عید مبارک کہتے یا گلے ملتے نہیں دیکھا تھا۔ 

نوجوان پوچھیں گے کہ پھر بچپن میں آپ نے دیکھا ہی کیا تھا۔ بھئی، ہم نے آبائی شہر میں بس سے اترتے ہی جوتے سر پہ رکھ لینے والی دیہاتی عورتیں دیکھ رکھی تھیں، تانگے کے ساتھ دوڑ لگا کر پائیدان پہ ’جھونٹا‘ لینے والے باہمت بچے دیکھے تھے اور راہ چلتے وہ نیم دیہی بزرگ جو عید کے دن بھی مِلتے تو یوں جیسے ایک دوسرے سے شرما رہے ہوں۔ بامعنی علیک سلیک کی نوبت کم ہی آتی۔ بہت ہوا تو ”آئے او“ ”آہو چاچا، آئے آں۔“  عید ملنا، ہاتھ ملانا، یہاں تک کہ باضابطہ سلام کرنا اُن کے نزدیک ’ایلیٹ‘ ہونے کی نشانی تھی۔ ممکن ہے یہ محض ایک علاقائی یا طبقاتی مسئلہ ہو، لیکن مَیں نے وسطی و شمالی پنجاب کے مرد و خواتین میں ایسی پسماندگی کے جزیرے بہرحال دیکھے۔

 ہاں، عید کا میلہ ایک ایسا جشن تھا جس میں علاقائی اور طبقاتی امتیاز مٹ جاتا۔ لاہور میں بیرون دہلی دروازہ کا میدان، سیالکوٹ میں امام علی الحق کا احاطہ اور واہ میں لائق علی چوک،  ہر جگہ ایک ہی منظر۔ منہ سے دن بھر رنگین گُڈی کاغذ نکالنے والا آدمی، بارہ من کی دھوبن کا نظارہ، روغنِ سرسوں سے نچڑے ہوئے لکڑی کے اونچے نیچے پنگھوڑوں کی مشفقانہ ’چوں۔ اوں۔۔۔ اوں‘  جس کی لَے پر ایک تسلسل کے ساتھ ’بھائی زور دی‘ کا کورس گونجتا رہتا۔ سید ضمیر جعفری نے ’عید کا میلہ‘  دیکھ کر بات یہاں ختم کی تھی: 

ہر سو خوشیوں کا  ریلہ  ہے، من  منگلا ، دل  تربیلہ  ہے

یارو،  یہ عید کا میلہ ہے 

فرق یہ پڑا کہ من منگلا، دل تربیلہ والی نہر آج کل فیشن ایبل علاقوں سے ہو کر نہیں گزرتی۔ مَیں یہ فلم خوشیوں کے ریلے پر ختم کرنا چاہوں تو مجھے آئندہ  عید پر شہر سے بہت دُور کسی ایسے میلے رخ کا رُخ کرنا پڑے گا جہاں دادا کی طرح کود کر گھوڑے والے جھولے پر سوار ہو سکوں۔ 

مزید :

رائے -کالم -