ہمارے دوست کے سامنے لسی کا نام لیا جاتا ہے تو نئی نویلی دلہن کی طرح کانوں کی لوئیں سرخ ہو جاتی ہیں,بڑی دیر تک شرمایا رہتا ہے 

ہمارے دوست کے سامنے لسی کا نام لیا جاتا ہے تو نئی نویلی دلہن کی طرح کانوں کی ...
ہمارے دوست کے سامنے لسی کا نام لیا جاتا ہے تو نئی نویلی دلہن کی طرح کانوں کی لوئیں سرخ ہو جاتی ہیں,بڑی دیر تک شرمایا رہتا ہے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:241
جب وہ ریاض کے پاس الخرج نامی قصبے کے ایک فارم میں کام کرتا تھا، تو تنہا ہونے کے باوجود اس نے مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو اپنی فیملیز سمیت دعوت پر بلایا اوراکیلے ہی 5 مزے دار قسم کے مختلف کھانے تیار کیے۔ اسی دوران اس نے ایک نیا مشروب بھی ایجاد کیا جو اس سے پہلے کسی نے دیکھا نہ سنا تھا، لسی میں روح افزاء ڈال کر وہ جو کچھ بنانا چاہتا تھا، وہ تو شاید نہیں بنا،ہاں وہ خودسب کے لیے تبسم کا باعث ضرور بن گیا، یہ غالباً لسی پینے والوں کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ ان کے ہونٹوں پر سفید کے بجائے سرخ رنگ کی مونچھیں بنی تھیں۔ اس دن کے بعد اسکے سا منے روح افزاء والی لسی کا نام لیا جاتا ہے تو کسی نئی نویلی دلہن کی طرح اس کے کانوں کی لوئیں سرخ ہو جاتی ہیں اور وہ بڑی دیر تک شرمایا شرمایا رہتا ہے۔
 اس کی فٹا فٹ کام کرنے کی عادت ابھی تک نہیں گئی، اب بھی جب اسے کوئی ورغلاء کر اچھی خاصی لگی لگائی ملازمت چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کو اکساتاہے تو وہ ذرا بھی تامل نہیں کرتا اور فوراً وہ کام چھوڑ کر ساتھ چل دیتا ہے۔ پارے کی طرح پھڑکتی طبیعت کی وجہ سے کسی ایک جگہ جم کر نوکری کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے وہ آج اس شہر میں کل نئے شہر میں ہی پایا جاتا ہے۔
 ٹیلیفون پر بات ہونے پر اس سے پہلا سوال ہی یہ ہوتا ہے کہ”دوست آج کل کہاں ہو“ جواب میں وہ اکثر مختلف شہروں کا ذکر کرتا ہے۔ حصول رزق حلال کی خاطر اس نے سعودی عرب کا چپہ چپہ چھان مارا ہے، پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود وہ کہیں بھی قدم جما کر نہ بیٹھ سکااور ہر وقت عالم سفر میں ہی رہا۔میرا یہ بھائی چند برس پہلے واپس اپنے ٹھکانے پر لوٹ آیا ہے۔ تاہم اپنی سیمابی طبیعت کے زیر اثر یہاں بھی جم نہیں سکا اور اب بھی بے چین روح کی طرح ادھر سے اُدھر کُرلاتا پھرتا ہے۔ 
خالد، مجبوری ہے!
 چھوٹے بھائی خالد کا ذکر پہلے بھی تواتر سے کئی مرتبہ آ چکا ہے، دراصل اس کا ذکر اتنا زیادہ پھیلا ہوا ہے کہ اس کیبیان کے لیے بار بار گنجائش نکالنا ہی پڑتی ہے۔ میرے سعودی عر ب میں جانے کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان سے خبر آئی کہ خالد ٹھیک ٹھاک جوان ہو گیا تھا، پتہ ہی نہ لگا کہ اس پر جوانی نے یہ جان لیوا حملہ کب کیا تھا۔ وثوق سے تو نہیں کہہ سکتالیکن ہو سکتا ہے اس کے پیچھے کچے پکے عشق کی کوئی واردات موجود ہو، کیونکہ سعودی عرب میں ایک دن مجھے خالد کی طرف سے ایک چھوٹا سا پارسل ملا جس میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی ایک کیسٹ تھی۔ ساتھ لکھی گئی چھوٹی سی تحریر میں اس نے مجھے بار بار تاکید کی تھی کہ میں یہ المیہ گانے ضرور سنوں اور ان کی شاعری پر خصوصی توجہ دوں۔ ان دنوں دکھی دلوں کے درد کا سفیر شاید یہی گلوکار تھا جسے میرے پاکستان سے رخصت ہونے کے بعد عیسیٰ خیل کے کسی دور افتادہ گاؤں سے دریافت کیا گیا تھا۔ اس کیسٹ میں دو تین گانے تو ایسے اذیت ناک تھے کہ سننے والے کی آنکھوں سے ڈھلکتے آنسو صاف نظر آجاتے تھے۔ خاص طور پر جب وہ گاتا کہ ”ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا، ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی“ تو یہ کوئی اتنے اچھے آثار نہیں تھے۔ جنازے اور دلہن وغیرہ کا ذکر ایک ساتھ آنا اچھا شگون ہرگز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ قدرتی طور پر میں تو پردیس میں رہ کر اس کے لیے سخت پریشان ہو گیا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -