کاغان جاتے ہوئے جہاں کہیں قابل دید مقام نظر آتا ہم ٹھہر جاتے، باورچی کوئی ہلکی پھلکی شے بنا لیتا ساتھ گرم چائے کی پیالی ترو تازہ کر دیتی 

کاغان جاتے ہوئے جہاں کہیں قابل دید مقام نظر آتا ہم ٹھہر جاتے، باورچی کوئی ...
کاغان جاتے ہوئے جہاں کہیں قابل دید مقام نظر آتا ہم ٹھہر جاتے، باورچی کوئی ہلکی پھلکی شے بنا لیتا ساتھ گرم چائے کی پیالی ترو تازہ کر دیتی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:72
1975 میں مجھے ایک9 ماہ کے ایم آئی ٹی کورس کے لیے وظیفہ مل گیا۔ کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میں ایک مختصر سے دورے پر  کاغان کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ ٹیکسلا کے نزدیک خان پور ڈیم کے پرجیکٹ ڈائریکٹر احمد خان بھٹی اور میرے دیرینہ دوست نے اس دورے کا انتظام کیا تھا۔ میں اپنے بڑے بھائی یوسف مغل مرحوم کے ساتھ وہاں پہنچا۔ وہاں احمد خان اور ان کے ایکسیئن موجود تھے یوں ہم چار کا ٹولہ بناکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔ احمد خان کو ایسے تفریحی دوروں کا انتظام کرنے کا وسیع تجربہ تھا اور وہ چھوٹی سے چھوٹی باریکیوں کا بھی بہت خیال رکھتا تھا۔ ہمارے ساتھ د و جیپیں تھیں، ایک میں ہم چاروں سوار تھے اور دوسری جیپ میں باورچی اور کھانے پینے کا سامان تھا۔ جہاں کہیں بھی ہمیں کوئی قابل دید مقام نظر آتا ہم کچھ دیر کے لیے وہاں ٹھہر جاتے۔ اس دوران باورچی کھانے کے لیے کوئی ہلکی پھلکی شے بنا لیتا اور ساتھ گرم گرم چائے کی پیالی ہمیں ترو تازہ کر دیتی تھی۔ تاش کے پتے ہر وقت پاس ہی رہتے تھے سو جتنی دیر میں باورچی اپنا کام مکمل کرتا ہم اس کی دو چار بازیاں لگا لیتے تھے۔ان دنوں تاش، شطرنج وغیرہ قابلِ ذکر تفریحی مشاغل ہوا کرتے تھے۔ ہم کاغان روڈ پر ہی آگے بڑھتے گئے اور ناران پہنچ گئے جو مہمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نبٹنے کے لیے اب بتدریج  وسیع ہوتا جا رہا تھا۔ جھیل سیف الملوک ناران سے تقریبا ً 9کلومیٹر اوپر پہاڑوں پر تھی اور یہ یہاں کا ایسا مقام تھا کہ جسے دیکھے بنا اس علاقے کی سیر ہی مکمل نہیں ہوتی تھی۔ یہ پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہے جس کی بلندی سطح سمندرسے 10,578 فٹ ہے۔ اس کا رقبہ  2.75 مربع کلو میٹرہے۔ اس کا نظارہ بہت روح پرور اور مسحور کن ہوتا ہے۔ ہمارا اگلا پڑاؤ بابو سر ٹاپ تھا جو 13,690 فٹ اونچا ہے۔ یہاں ٹھہر کر ہم نے چاروں طرف بکھری ہوئی برفانی چوٹیوں کے نظارے دیکھے۔ مزیدار بات یہ کہ ہم اس ماحول میں ایسے گم ہوئے کہ ہم نے اس سارے سفر کے دوران نہ تو خبریں سنیں اور نہ ہی شیو کئے۔ ہمارا باورچی انواع و اقسام کے مزے دار کھانے بنا کر ہمیں کھلاتا رہا۔ جب ہم واپس خانپور پہنچے تو ہمیں علم ہوا کہ اس دوران پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے کو ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ بلاشبہ ایک بہت ہی نفیس اور دانشور انسان تھے۔ میرے وظیفے کا کیس ا نہوں نے جانے سے پہلے ہی منظور کر دیا تھا، لیکن اس کی معیاد گھٹا کر 9 مہینے کے بجائے اب 6 مہینے کر دی گئی تھی۔ اور یہ کورس سیراکیوس یونیورسٹی میں ہونا تھا۔ میں جدہ۔ قاہرہ اور لندن سے ہوتا ہوا سیراکیوس روانہ ہوا جس کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔ 
 ڈائریکٹر جنرل، ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ،پنجاب
 سیراکیوس میں اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد لاہورائیرپورٹ پر اترتے ہی مجھے خبر ملی کہ میری تعیناتی ڈائریکٹر جنرل، ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ ڈیپار ٹمنٹ پنجاب کی حیثیت سے ہو چکی ہے کیونکہ شفقت قریشی صاحب ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں جاپان جا چکے ہیں۔ یہ میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات تھی کہ صرف9 سال کی ملازمت کے بعد مجھے اس بڑے ادارے کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ میں اب پورے صوبہ پنجاب میں ہاؤسنگ اور پلاننگ کے منصوبوں کا ذمہ دار تھا۔ 
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -