اپنی مدد آپ کریں، اپنے آپ کی دیکھ بھال کریں، مثبت عادتیں اپنائیں، منفی اور غیر صحت مند عادتوں سے چھٹکارا حاصل کریں 

  اپنی مدد آپ کریں، اپنے آپ کی دیکھ بھال کریں، مثبت عادتیں اپنائیں، منفی اور ...
  اپنی مدد آپ کریں، اپنے آپ کی دیکھ بھال کریں، مثبت عادتیں اپنائیں، منفی اور غیر صحت مند عادتوں سے چھٹکارا حاصل کریں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:59
یہ آپ کا کام ہے کہ دوسرے آپ کے لیے بہتر طور پر کام آئیں:
کارکردگی میں اضافے کے حوالے سے تحریک و ترغیب کے موضوع پر میں نے ایک سیمینار کافی عرصہ پہلے منعقد کیا جس میں زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔ اس سیمینار کے دوران ہم نے اس خیال بعنوان آپ اپنے افعال کے ذریعے نہیں پہچانے جاتے بلکہ آپ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں کہ جس کے ذریعے آپ دوسروں کو اپنی مدد اور تعاون کے لیے آمادہ کر تے ہیں“ کے متعلق نہایت گہرائی سے گفتگو اور غور و فکر کیا گیا۔
اس گفتگو اور بحث کے ختم ہونے کے بعد میں نے ہر ایک شخص سے کہا کہ وہ اس نظریئے/ خیال کے اس کی اپنی زندگی میں کردار اور مفہوم کے ضمن میں ایک مختصر مضمون لکھے۔ اس حوالے سے لکھے جانے والے چند جوابات مندرجہ ذیل ہیں: 
”ایک سیلز مین نے کہا: ”میری کامیابی، میری اس صلاحیت کی مرہون منت ہے جس کے ذریعے میں لوگوں کو اپنی چیزیں خریدنے پر آمادہ کرتا ہوں، اس طرح وہ میرے مستقل گاہک بن جاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے سامنے میری اور مصنوعات کی تعریف کرتے ہیں، اور پھر دوسرے لوگ بھی مجھے پسند کرتے ہیں اور میری مصنوعات خریدتے ہیں۔“
”ایک پادری نے کہا ”میرے واعظ اور میری تبلیغ کے نتیجے میں لوگ میری اس صلاحیت کے باعث میرے اردگر اکٹھے ہو جاتے ہیں، جس کے ذریعے میں لوگوں کو اپنے گرجے میں جمع کر سکتا ہوں، نئے لوگوں کو بھی ان لوگوں میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے، میں ان میں اچھی اور بہتر زندگی گزارنے کا حوصلہ اور عزم پیدا کرتا ہوں، اور پھر چرچ اور اس میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں کے لیے روحانی اور مالی امداد اور تعاون کے لیے لوگوں میں تحریک و ترغیب پیدا کرتا ہوں۔“
”ایک استاد نے کہا: ”طالب علموں کے آخری امتحانوں کے موقع پر میری ان صلاحیتوں کا امتحان ہوتا ہے جس کے ذریعے میں طالبعلموں کے کردار، ان کے روئیے، ان کی عادتوں کی مدد سے ان کو پڑھنے کے لیے آمادہ کرتا ہوں کہ وہ کیسے بہتر طور پر معاشرے کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔“
”ایک ڈاکٹر نے کہا: میری زندگی کا مقصد بیمار اور دکھی انسانیت کا علاج ہے۔ لیکن مجموعی طور پر میرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں مریضوں میں حوصلہ، تحریک و ترغیب پیدا کروں کہ وہ اپنی مدد آپ کریں، اپنے آپ کی دیکھ بھال اور نگہداشت کریں، مثبت، اچھی اور صحت مند عادتیں اپنائیں، بری، منفی اور غیر صحت مند عادتوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -