تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان نے منافقانہ رویوں کو دنیا میں جنگ و جدل کی بنیادی وجہ قرار دیدیا

تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان نے منافقانہ رویوں کو دنیا میں جنگ و جدل کی ...
 تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان نے منافقانہ رویوں کو دنیا میں جنگ و جدل کی بنیادی وجہ قرار دیدیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (  ڈیلی پاکستان آن لائن ) تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ ایرانی ردعمل پر سیخ پا ہونے والے ممالک و ادارے غزہ و مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم پر کیوں مہر بلب ہیں۔ عالمی امن کے ذمہ دار اداروں کا منافقانہ رویہ دنیا میں جنگ و جدل کی بنیادی وجہ ہے۔ اقوامِ متحدہ عالمی استعماری جارحیت کو روکنے کے بجائے اسے جواز فراہم کرنے کے کام آ رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مسلم اُمہ دنیا میں دہشتگردی اور اسکی سرپرستی  کرنیوالوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے، اگر مسلم ممالک متحد نہ ہوئے تو ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے کی باری آتی رہے گی۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے یومِ ترحیم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کِیا جس کا انعقاد نوشکی بلوچستان میں مسافر بس کے مسافروں سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کے مختلف واقعات میں جاں بحق ہونیوالوں کی بلندیِ درجات کیلئے کِیا گیا۔

 تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان کے سربراہ  کا مزید کہنا تھا کہ  وطنِ عزیز پاکستان کو نظریۂ اساسی اور امتِ مسلمہ کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کی سزا دینے کیلئے دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماضی میں دہشتگردوں کو مراعات کے ذریعے مطمئن کر کے دہشتگردی سے باز رکھنے کی کوششوں کے بجائے اگر نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تمام کالعدم دہشتگرد جماعتوں اور انکے سہولت کاروں پر عملی پابندی عائد کر دی جاتی تو دہشتگردی کی آگ پر قابو پایا جا چکا ہوتا، ملک کے اندر موجود کالعدم دہشتگرد جماعتیں پاکستان دشمن بیرونی ایجنسیوں کیلئے مقامی سہولت کاری کا کام کر رہی ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاکستان کی بہادر افواج کی پشت پر ایستادہ ہے جس نے انسدادِ دہشتگردی کیلئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں، نوشکی بلوچستان میں غریب مزدوروں سمیت دہشتگردی کے مختلف سانحات میں نشانہ بننے والے بیگناہوں کا خون حکومت سے دہشتگردی کے انسداد کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔

 علامہ حسین مقدسی نے باور کرایا کہ دنیا میں جنگل کا قانون رائج کر دیا گیا ہے جہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس ہے، عالمی امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ فلسطین و کشمیر کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں جنہیں نہ صرف غیروں بلکہ اپنوں نے بھی نظر انداز کر دیا۔ حدیثِ نبویؐ کے مطابق مسلمان ایک ملت ہیں جو ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کا کوئی ایک حصہ بھی تکلیف میں ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن آج مسلم اُمہ کی یہ حالت ہے کہ باہم متفرق و منتشر ہیں اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے ایک ہونے کے بجائے عالمِ کفر سے تعلقات استوار کرنے اور انہی سے مفادات وابستہ کرنے میں سرگرم ہیں۔

علامہ حسین مقدسی نے واضح کِیا کہ ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اگر مسلم اُمہ بدترین زبوں حالی کا شکار ہے تو اسکی وجہ اسلام سے دوری اور مشاہیرِ اسلام سے بے وفائی ہے۔

 یومِ ترحیم کے موقع پر ملک بھر میں نوشکی بلوچستان سمیت دہشت گردی میں لقمۂ اجل بننے والے اہلِ وطن کی بلندیِ درجات اور افواجِ پاکستان کی کامیابی، عالمِ اسلام کے مصائب و آلام کے خاتمہ، مسائل کے حل اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام و ترقی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔