قیام پاکستان: مسلمانان برصغیر کی طویل جدوجہد کا ثمر

قیام پاکستان: مسلمانان برصغیر کی طویل جدوجہد کا ثمر
 قیام پاکستان: مسلمانان برصغیر کی طویل جدوجہد کا ثمر

  

یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں نے اپنی جاہ وحشمت کے پرچم بلند کرکے، اس خطے میں اپنے قدم رکھے تو اس خطہ ارضی کی قسمت ہی بدل ڈالی۔ مسلمانوں نے تہذیبی طور پر اس بے آب و گیاہ اور تاریک علاقے کو اسلام کی روشنی سے منور کردیا۔ اسلامی ثقافت کی آمد اس خطے میں انقلاب کا باعث بنی۔ آہستہ آہستہ اسلامی تہذیب وتمدن نے اپنا مکمل اثر کرڈالا۔ اسلامی حکومت کے کارہائے نمایاں نے دنیا کی آنکھیں خیرہ کردیں۔ یورپی اقوام انگشت بدنداں رہ گئیں....تحریک پاکستان کو،جو دراصل تحریک اسلامی تھی، سبوتاژ کرنے کے لئے عیار انگریز نے تمام جتن کرلئے۔ اس نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے جبروقہر تک کی راہ اختیار کی۔ 19مارچ 1940ءکا دن ہمارے اس بیان کی توثیق وتصدیق کرتا ہے۔ معاملہ یہاں تک نہ رہا، بلکہ مغربی نظریات نے اپنی یلغار کی انتہا کردی، اس وقت اگر تمام مسلمان ایک جھنڈے اور ایک پلیٹ فارم پر یکجا نہ ہوتے تو تحریک پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی مسلمانوں کے نقصان کا پہلو نظر آیا، ان غیرمسلم قوتوں نے اجتماع کرکے تحریک پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود اب اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وانعام کے باعث ان غیرمسلم قوتوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ چنانچہ یہ دن، یعنی چودہ اگست مسلمانوں کے اتحاد اور کفر کے تمام طبقوںکی شکست وریخت کی یادتازہ کرتا ہے۔

آزاد ہونے کا احساس کس قدر طمانیت بخش ہے، اس کا اندازہ گلیوں، بازاروں اور کوچوں میں ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے بچوں ، بوڑھوں ، جوانوں اور عورتوں کے چمکتے دمکتے چہروں سے آج بھی کیا جاسکتا ہے۔ آزادی کی راہ میں درپیش مشکلات ومصائب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں جس کا راقم الحروف خود بھی چشم دید گواہ ہے۔ ابھی وہ نسل زندہ ہے جس نے اقبال ؒ کے افکار اور حضرت قائداعظمؒ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے برصغیر کے کونے کونے میں ”لے کے رہیں گے پاکستان“ کے نعرے کے ساتھ انگریز اور ہندو کی متحدہ قوت اور اپنوں کی ریشہ دوانیوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ نسل آگ اورخون کا وسیع سمندر عبور کرکے پاکستان کی خوش نصیب وخوش قسمت منزل سے ہمکنار ہوئی۔ 14اگست کا دن پاکستان کی آزاد وخود مختار ریاست اور مسلمانوں کے الگ وجود وتشخص کی پہچان کا دن ہے کہ اسلام کا رشتہ رنگ ونسل اور علاقے کی بنیاد پرنہیں، بلکہ قرآن وسنت پر استوار ہوتا ہے.... ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد میں باپ نے بیٹے اور بیٹے نے باپ کے خلاف شمشیر بلند کی۔ حضرت سلمان فارسی ؓ سے کسی نے ان کا حسب ونسب دریافت کیا تو آپ ؓ نے فرمایا: ”انا مسلمان ابن اسلام “ توجہ فرمائیے ان چند الفاظ میں اسلامی قومیت کی مکمل فلاسفی موجود ہے ۔ان کے اس فرمان سے یہ نکتہ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اسلام کفر کو خود میں پیوست نہیں کرسکتا اور نہ ہی کفر میں اسلام کا کوئی پیوند لگایا جاسکتا ہے، انہی معنوں میں برملا کہا جاسکتا ہے کہ 14اگست اسلام کا کفر سے قطعی جدا ہونے کا دن ہے۔

 اگرچہ گاندھی نے اپنے رفقاءسمیت قومیت کی بنیاد رنگ ونسل اور علاقے پر رکھنے کی کوشش کی، اپنے مو¿قف کی حمایت میں کفر کے تمام محرکات استعمال کئے، عیسائی مبلغوں نے عیسوی مذہب کی بھرپورانداز میں تبلیغ کی، جبرو قہر کی لاٹھی کا بھی استعمال کیا ، لیکن اسلام کے سچے فدائیوں نے ہرظلم سہا اور کفر کو ہرقدم پر مسترد کردیا اور کلمہ توحید پر بلاتمیز مسلک اجتماع کرلیا۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اگست کا مہینہ دیگر مہینوں میں آزادی کے حوالے سے ممتاز نظرآتا ہے۔ 1765ءمیں اگست ہی کا مہینہ تھا جب شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی عطا کی۔ 1758ءمیں اگست ہی کا مہینہ تھا جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ منظور ہوا تھا، جس سے برطانوی حکومت اور جبرو استبداد کا آغاز ہوا۔ اگست 1841ءمیں انڈین کونسل ایکٹ پاس ہوا۔ اگست 1920ءمیں ہندوﺅں کی زمام اقتدار موہن داس کرم چند گاندھی کے ہاتھوں میں آئی۔ اگست 1940ءمیں لارڈ لنلتھگونے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت یہ چاہتی ہے کہ ہندوستان کو مقبوضاتی درجہ عطا کیا جائے۔ 1942ءمیں کانگرس نے انگریزوں کے خلاف (Quit India) ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کی۔ 14اگست 1946ءکو مسلم لیگ نے یوم راست اقدام منایا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ بلاتاخیر ہندوستان کو دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کردے اور ملک چھوڑ دے، پھر برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا وہ عظیم دن تھا جب 14اگست 1947ءکو اس ملک کی تقسیم عمل میں آگئی اور نقشہ عالم پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ابھر آئی۔

ہمیں یہ فخر بجا طورپر حاصل ہے کہ ہمیں نقشہ عالم سے ہٹانے کے لئے جو بھی طوفان اٹھا، ہم اس کے سامنے آہنی دیوار بن گئے، لیکن امتحانوں اور آزمائشوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ،آزاد قوموں کے لئے یہ کبھی ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے۔ امریکہ جو آج دنیا کا امیرترین ملک کہلاتا ہے ۔ قومی پیداوار اور قومی آمدنی کے اعتبار سے دنیا کا کوئی ملک اس کی ہمسری کا دعویدار نہیں ہوسکتا، ابھی تک اپنے ملک اور عوام میں کلی طورپر افلاس کو دور نہیں کرسکا۔ بات ایسے عظیم معاشرے کی تشکیل کے منصوبوں تک پہنچتی ہے، جس میں کوئی مفلس اور محتاج نہ ہو۔ یہ جنگ ابھی ہماری کئی نسلوں کو لڑنی ہوگی، ہمیں ایثار اور قربانی کے جذبے سے کام لینا ہوگا کہ یہی جذبہ اور احساس سب سے قیمتی سرمایہ اور آزادی کے تحفظ کے لئے سب سے مو¿ثر ہتھیار ہے۔

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوگا کہ ابتداءہی سے برطانوی حکومت کی صلیبی روح ایک اسلامی مملکت کے قیام سے لرزتی تھی۔ وہ ہر حیلے بہانے اور ہر قیمت پر براعظم ہند کو متحد رکھنا چاہتی تھی۔ پاکستان اسلام کی نام لیوا ریاستوں میں آزاد ہونے والا پہلا ملک تھا،قیام ملک پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے مسلم ممالک کی قطار لگ گئی۔ حضرت قائداعظم ؒ کا آخری فیصلہ یہی تھا کہ اب پاکستان سے کم بات پر کوئی لائحہ عمل ظہور میں نہیں آسکتا ، کیونکہ براعظم اگر متحد رہے گا تو وہ ایک بہت بڑی ہندو ریاست پر ہوگا، وہ برطانیہ کا پورے بحرہند اور بحرہ عرب میں جانشین ہوگا اور اس صورت میں ہندو کی تاریخ اور اجتماعی نفسیات کے پیش نظر ہم تہذیبی اعتبار سے بھی نابود ہوجائیں گے اور دینی اعتبار سے بھی ۔ حضرت قائداعظم ؒ نے 24نومبر 1945ءکو پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمارا مذہب ، ہمارا کلچر، اور اسلام کی نظریاتی حیات آزادی حاصل کرنے کے لئے ہمارے محرکات ہیں۔ پاکستان کا مطلب صرف آزادی نہیں، بلکہ اس کا مفہوم اس مسلم آئیڈیالوجی کو محفوظ کرنا ہے جو ایک بیش بہا متاع کی صورت میں ہمیں ورثے میں ملی ہوئی ہے“۔

غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں کسی قوم کو اس صورت حال کا سامنا ایسے وقت میں کرنا پڑتا ہے ،جب وہ کسی ارتقائی مرحلے سے گزر رہی ہو، وہ کسی سفر میں ہو اور اسے کسی منزل پر پہنچنا ہو، یہی صورت حال اس وقت ہماری قوم اور وطن عزیز کو درپیش ہے۔ گوئٹے نے ایک بار کہا تھا کہ تاروں سے بھرے آسمان کی درخشندہ فضا، سیاروں کی مسلسل گردش ، فطرت کی راحت کس کام کی، اگر انسان اس دنیا میں آزادی اور خوشی سے سانس نہیں لے سکتا ۔ ہمارا وطن عزیز پاکستان بھی اس وقت ارتقائی دور سے گزر رہا ہے۔ جب مہنگائی، دہشت گردی،بدانتظامی، کرپشن، لوڈشیڈنگ ، پانی کی بندش، اقتصادی بدحالی، امن وامان کی رخصتی کا سبب بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ طویل رخصتی حکمرانوں اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں مبارک باد لینے کے لئے شریک ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار ناممکن ہے کہ اس وقت ہماری افواج نے ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے واقعات پر سنگین اور سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے جس بہادری ، شجاعت ، حب الوطنی اور قابل قدر عملی اقدام اختیار کئے ہیں اس کے لئے تمام قوم مکمل تعاون کے لئے سینہ سپر ہوچکی ہے اور اس مو¿ثر حکمت عملی کے ذریعے ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ کوئی بھی قوت اب ہماری ملکی و قومی سلامتی اور سرحدوں کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت تینوں اس وقت پاکستان کے اندر داخلی عدم استحکام پیدا کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ ہمیں ایک زندہ اور آزاد قوم ہونے کی حیثیت سے ان قوتوں کے مخفی عزائم سے ہردم باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ان تینوں قوتوں میں سے کسی کا نام بھی اعلانیہ طورپر لینے سے ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں، اس کی وجہ ہماری کمزور حکمت عملی اور کمزور خارجہ پالیسی بتائی جارہی ہے۔

بھارت کے خوفناک عزائم جو وہ پاکستان کے خلاف اختیار کرتا آرہا ہے، اس کے رنگے ہاتھوں تربیت یافتہ دہشت گردوں کی خبریں اتنی پرانی نہیں کہ بھلائی جاسکیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے تشخص کو اب تک دل سے قبول نہیں کیا اور وہ اشوکا ایمپائر کے خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے اپنی نئی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کردیا تھا کہ اگر کوئی بھی شخصیت ان کی راہ کی رکاوٹ بنے تو اسے ہٹا دیا جائے، امریکی صدر ہائزن آور نے کانگو کے مقبول سیاسی رہنما کو سی آئی اے کے ذریعے قتل کروایا تھا۔ چلی کے صدر کو برطرف کرادیا تھا۔ پانامہ کے صدر کو قید کرکے اسرائیلی جیل میں قید کردیا تھا۔ عراق کے صدر صدام حسین کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بھی امریکہ کا ہاتھ کارفرما ہے۔ امریکہ میں 31صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بھی شائع ہوا جس کا عنوان ” نیشنل سیکیورٹی سٹریجی“ ہے ،جس میں واضح ہے کہ امریکہ پوری دنیا میں کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس کی برابری کرے یا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرے۔ امریکہ اسلامی دنیا کو دہشت گردی کا منبع خیال کرتا ہے، ہمیں اپنی خود احتسابی ضرورت ہے۔

مزید : کالم