الزامات کی سیاست

الزامات کی سیاست
 الزامات کی سیاست

  

مہذب دنیا میںالیکشن کے بعداستحکام آتا ہے۔ ہارنے والی جماعت جیتنے والی کو مبارک باد پیش کرتی ہے اور ملک کی تعمیر اور ترقی میں ہر قسم کا تعاون کرتی ہے اور ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔ہمارے ہاںتقریباً14ماہ گزرنے کے باوجود شوروغوغا اب تک جاری ہے گویا کہ الیکشن کل ہی ہوئے ہیں۔ زیر نظر سطورمیں اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ کیاموجودہ بحران کے تناظر میںپاکستان تحریک انصاف کی شکایات جائز ہیں، بقول شاعر:

اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے دنیا سے

ہم نے ہر شخص پہ الزام لگا نا چاہا

گزشتہ سال الیکشن کے بعد رواں سال 31مئی تک مختلف الیکشن ٹریبیونل کے پاس 410شکایات فائل کی گئی جن میں سے 301کا فیصلہ سامنے آچکا ہے۔ ان میں سے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے درج کردہ 58شکایات پر 37کا فیصلہ آچکا ہے۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے 66شکایات درج کی گئی جن میں سے 38شکایات پر حتمی فیصلہ آچکا ہے۔

کچھ حقائق قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کیے جارہیں :۔

NA-110خواجہ آصف صاحب کی سیٹ پر پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن ٹر یبیو نل میں شکایت درج کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو کیس کی پیروی نہ کرنے پر جرمانہ ہوا اور فیصلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہوا۔

NA-19پر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف دھاندلی کی شکایت کی جہاں پولنگ ا سٹیشن پر دھاندلی کے ثبوت مل گئے اس لئے پولنگ دوبارہ ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے خیبر پختونخوا حکومت کے زیرانتظام یہ الیکشن جیت لیا۔

NA-125میں حامد خان نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف پٹیشن دائر کی ۔ اب حامد خان صاحب تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیںاور عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ان کو چیلنج کیا ہے کہ اگر ان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالت میںیا اسمبلی کے فلور پر اپنا مقدمہ کیوں نہیں لڑ رہے ہیں۔

NA-53راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی جعلی ڈگری کی بدولت نااہل قرار دیے گئے اب وہ عدالت سے Stay Orderلے کر بحال ہو چکے ہیں۔

NA-47میں پاکستان تحریک انصاف کے قیصر جمال منتخب ہوئے تھے۔ دھاندلی کے ثبوت ملنے پر یہاںچند پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ الیکشن ہو ا اور وہ اس سیٹ پر دوبارہ منتخب ہوئے۔

NA-55میں شیخ رشید احمد جو پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی حلیف بھی ہیںعدالت سے Stay Orderلے کر آگئے ہیں کہ ان کے حلقے میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ نہ کروائی جائے۔ ان کو خطرہ تھا کہ دوبارہ گنتی کی صورت میں ان کی اکلوتی سیٹ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ورنہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ NA-1پشاور میں پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں 90,000ووٹ حاصل کیئے تھے لیکن اسی حلقے میںتین ماہ بعد ضمنی انتخابات ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف کو صرف 29,000 ووٹ ملے اور شکست اس کا مقدر بنی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تین ماہ کی قلیل مدت میںنشست سے ہاتھ دھو دینا پاکستان تحریک انصافمقبولیت کم ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے یا کسی انقلاب کی طرف پیش رفت ہے۔

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے زیرانتظام کئی ضمنی الیکشن ہوئے جن میںپاکستان مسلم لیگ(ن)کو کامیابی ہوئی۔ ان میں سب سے دلچسپ مقابلہPK-45 میں ہوا جہاں میدان سیاست میںنو وارد سردارفرید خان نے پاکستان تحریک انصاف کے عمر اصغرخان کو تقریباً6 ہزار ووٹ سے ہرادیا۔ عمران خان نے اس صوبائی حلقے میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہوئے بھرپورانتخابی مہم چلائی ۔ 4سونامی جلسے ،کئی کارنرمیٹنگز کیں اور لمبی لمبی ریلیاں نکالیں اور صوبائی حکومت کے اہل کاروں اوروسائل کو بے دریغ استعمال کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑالیڈر اس حلقے میں جلسہ کرنے نہ آیا اس کے باوجو د سردا فرید خان نے تن تنہا پاکستان تحریک انصاف کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک صوبائی حلقے میںعمران خان صاحب کی ذاتی دلچسپی اور صوبائی حکومت کی مکمل مشینری کے استعمال کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے یہ نشست کھو دی۔ اس سے انہیں اپنی مقبولیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کو 147نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف نے صرف 19کے نتائج کو چیلنج کیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میںپاکستان مسلم لیگ (ن)کے پا س بشمول خواتین سیٹوں 186کی اکثریت موجودہے جس میں صرف 23سیٹیں بوجہ پٹیشن متنازع بنی۔ جس میں 64%کے فیصلے سامنے آچکے ہیں۔ باالفرض اگر پاکستان تحریک انصاف یہ ساری سیٹیں بھی جیتی تو میںپاکستان مسلم لیگ(ن) کی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عمران خان صاحب نے تقریباً ایک سال سے 4حلقوں کی رٹ لگا رکھی ہے۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اب تک 37حلقوں پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے آچکے ہیںاور ان سب میں ا±ن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اگر ا±ن کی انتخابی عذرداریوں میں تھوڑی سی جان ہوتی تو وہ ضرور سپریم کورٹ سے رجوع کرتے۔

پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا کی حکومت بنانے کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن)کا مشکور ہونا چاہیے۔ جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر ز کی کم تعداد ہونے کے باوجود تحریک عدم اعتما د کی سپورٹ نہیں کی ۔اگرپاکستان مسلم لیگ (ن)چاہتی تووہ ہم خیال جماعتوںاور آزاد امیدواروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے آسانی سے صوبائی حکومت بنا سکتی تھی۔الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے اندر جمہوری نظام کو زندہ کرنے کیلئے پارٹی الیکشن کروائے ۔ ان انتخابات میں جو دھاندلی،بد انتظامی اور ناانصافی ہوئی وہ پاکستان تحریک انصاف کی شکست کی بڑی وجہ بنی۔ ہارنے والے امیدواروں نے دھاندلی کی شکایت کی۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس جماعت کے لیڈر دھاندلی سے منتخب ہوئے ہوں وہ ملکی انتخابات میں دھاندلی کا رونا کس منہ سے رو رہے ہیں۔

اب ضرور ت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بجائے اور کسی غیر جمہوری قوت کو دعوت دینے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ پاکستان تحریک انصاف آئے دن دھرنوں اور ریلیوں کی سیاست کو ترک کر کے ملک کی تعمیر اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریںاور وزیراعظم کی عدلیہ کے اعلیٰ سطح بنچ کے ذریعے دھاندلی کی شکایا ت کی تحقیقات کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مثبت انداز سیاست اپنا لیں۔

مزید : کالم