پاکستان: 10 لاکھ شہداءکی قربانیوں کا نتیجہ

پاکستان: 10 لاکھ شہداءکی قربانیوں کا نتیجہ

انگریزوں اور ہندو¶ں کی سازشوں اور پُر زور مخالفت کے باوجود 14اگست 1947ءکو پاکستان ظہور میں آیا۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں قیام پاکستان کے لئے بے شمار اور عظیم قربانیاں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم کی فراست، تدبر، خلوص اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 40 کی دہائی میں قائد اعظم کی صحت روز بروز بگڑ رہی تھی، کیونکہ انہیں تپ دق کی بیماری لاحق تھی۔ قائد اعظمؒ اور ان کے معالج نے اس مرض کا راز افشا نہ ہونے دیا، کیونکہ قائد اعظمؒ اس سے بخوبی واقف تھے کہ اگر ڈاکٹروں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشیں جاری رکھیں تو پھر شاید پاکستان دنیا کے نقشے پر کبھی نمودار نہ ہو سکے گا۔پاکستان کا قیام فوری عمل میں آنا چاہیے تھا، ورنہ پھر کبھی بھی پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔

انگریزوں نے چونکہ مغل مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھینا تھا، اس لئے وہ کسی صورت میں بھی پاکستان کا قیام نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے انگریزوں کی سرتوڑ کوشش تھی کہ برصغیر میں پاکستان قائم نہ ہو۔ اسی طرح ہندو بھی یہی چاہتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان بنے۔ اس لئے انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکار رہے تھے، لیکن آفرین ہے قائد اعظمؒ کی فراست اور تدبر پر کہ انہوں نے انگریزوں اور ہندو¶ں کی اس سازش کو بخوبی بھانپ لیا اور اس بات کا عزم کر لیا کہ وہ مسلمانوں کے لئے اپنی زندگی میں ہر صورت پاکستان قائم کر کے دم لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی دعائیں سن لیں اور بابائے قوم کے خلوص اور انتھک محنت کے باعث 14 اگست 1947، 27 رمضان المبارک ،یعنی شب قدر کے مبارک موقع پر پاکستان دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہوا۔

 کانگریس کی قیادت.... گاندھی، پنڈت نہرو اور پٹیل.... کا خیال تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔ کانگریس کی قیادت نے قیام پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا۔ کانگریس، پنڈت نہرو، اندرا گاندھی، لال بہادر شاستری اور نرسہمارا¶ کی قیادت میں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ مملکت ِ خدا داد پاکستان، مسلمانان برصغیر کی عظیم جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ علامہ اقبال ؒ کا خواب اور قائد اعظمؒ کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جو خود مختار ہو، جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو، معاشی مساوات، عدل و انصاف، حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کا احترام اور اَمانت و دیانت جس کے معاشرتی امتیازات ہوں۔ جہاں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، جہاں فوج آزادی و خود مختاری کی محافظ ہو، جہاں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو اور جلد اور سستے انصاف کی ضامن ہو۔ جہاں کی بیورو کریسی عوام کی خادم ہو،جہاں کی پولیس اور انتظامیہ عوام کی محافظ ہو۔ الغرض یہ ملک ایک آزاد، خود مختار، مستحکم، اِسلامی، فلاحی ریاست کے قیام کے لئے بنایا گیا تھا، لیکن آج ہمارا حال کیا ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

  قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے اور ا±س قوم کو ایک ملک کی تلاش تھی جبکہ آج 67 برس بعد ملک تو موجود ہے، مگر اِس ملک کو قوم کی تلاش ہے۔ 1947ء میں ہم ایک قوم تھے، اللہ رب العزت کی مدد و نصرت ہمارے شاملِ حال ہوئی اور ا±س قوم کی متحدہ جد و جہد کے نتیجے میں ہمیں یہ ملک ملا۔ ابھی 25 برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ہم نے باہمی اِختلافات کے باعث آدھا ملک کھو دیا۔ آج آدھا ملک موجود ہے، مگر کس قدر دکھ کی بات ہے کہ قوم مفقود ہے۔ اب جبکہ ہماری قوم منتشر ہو چکی ہے، یہ کروڑوں اَفراد کا بے ہنگم ہجوم بن چکا ہے، ہماری قومیت گم ہوگئی ہے، محبت کا جو جذبہ ہم اپنے بچپن اور جوانی کے دور میں دیکھا کرتے تھے، وہ بھی ناپید ہوگیا ہے، ہم دوبارہ اس قوم کو وحدت میں پرونا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک کو مسلمانوں کی ا±میدوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لئے ہمیں کچھ جرات مندانہ کام کرنے پڑیں گے اور کچھ احتیاطیں برتنی پڑیں گی۔

ہمیں سنجیدہ ہو کر اس ملک میں جاری نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کیوں؟ اس لئے کہ پاکستانی قوم کو بے شعور بنا دیا گیا ہے۔ اِنصاف اس وقت مقتدر طبقات کی لونڈی ہے، جمہوریت ان کی عیاشی ہے، اِنتخاب اِن کا کاروبار ہے اور عوام ان کے غلام ہیں۔ 5 سال کے بعد انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے، یہ کسی طرح بھی جمہوریت نہیں ہے۔ نہ یہ حقیقی نظامِ اِنتخاب ہے اور نہ ہی اس طریقے سے کبھی تبدیلی آئے گی۔ پاکستان ہرگز ایک معمولی حیثیت رکھنے والا ملک نہیں ہے، پاکستان کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا، اسے معرض وجود میں لانے کے لئے مسلمانان برصغیر نے لاکھوں شہدا کا خون دیا، اس کی فکری اور نظریاتی اساس کلمے پر رکھی گئی۔ ہمیں پھر سے وہی قائد اور علامہ والا پاکستان چاہیے، اس کے لئے اس ملک کے ہر ذی روح کو صرف اور صرف وطن عزیز کی خاطر سوچنا ہوگا۔

مزید : کالم