واہ ڈاکٹر طاہر القادری!

واہ ڈاکٹر طاہر القادری!
واہ ڈاکٹر طاہر القادری!

  

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کمر کی پریشان کن تکلیف کے باوجود بڑے متحرک اور انتھک ہیں۔ جب سے وہ کینیڈا سے براستہ برطانیہ واپس آئے ، تب سے اپنے یوم انقلاب (جو اب انقلاب مارچ ہے) کے لئے پُرجوش ہیں اور اس جوش میں وہ اپنی روایت کو چھوڑ نہیں پائے۔ ہمارا ان کے ساتھ ادب اور خلوص کا رشتہ تھا، جو ان کی اپنی وجہ سے نہ جانے کہاں گم ہو گیا۔ تاہم ہمارے نزدیک ان کی عزت اور احترام اب بھی واجب ہے اور اِسی ناتے ہم جو بھی عرض کرتے ہیں اس میں یہ پہلو ضرور موجود ہوتا ہے۔ اب بھی ہم اِسی ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوئے کہ ڈاکٹر طاہر القادری پر یہ انکشاف کب ہوا کہ ان کے لئے صرف الیکٹرونک میڈیا ہی نعمت اور برکت ہے، پرنٹ میڈیا کی کوئی اہمیت نہیں رہی، منہاج القرآن سیکرٹریٹ اور خود ان کی رہائش کے اردگرد جو سانحات اور واقعات ہوئے ان کی کوریج اگر الیکٹرونک میڈیا نے کی تو پرنٹ میڈیا بھی پیچھے نہیں رہا، تاہم اپنی رہائش کے باہر انہوں نے جب میڈیا کے لئے تشکر کا اظہار کیا تو اُن کے چہرے پر روائتی مسکراہٹ اور رونق تھی اور انہوں نے بڑے اچھے انداز میں شکریہ ادا کیا، لیکن یہ سب الیکٹرونک میڈیا کے لئے تھا، اُن کے مطابق نوجوان رپورٹروں سے کیمرہ مینوں تک سب نے بڑے خلوص کے ساتھ اوقات کار کی پرواہ کئے بغیر کوریج کی۔ وہ اظہار کر رہے تھے کہ اُن کی توجہ خود ان کے معتقد نے دلائی تو ان کے مُنہ سے صرف لفظ پرنٹ میڈیا ہی نکلا اور پھر خاموش ہو کر پنڈال چھوڑ گئے۔

ہم نے یہ سب ”دنیا“ ٹی وی پر لائیو کوریج کے دروان دیکھا تو ان کے رویے کو جانتے ہوئے بھی بہت دُکھ ہوا کہ ڈاکٹر طاہر القادری جیسی شخصیت بھی وقتی مفاد کی خاطر یہ سب کر گزرتی ہے۔ویسے انہوں نے الیکٹرونک میڈیا کی تعریف کی تو یہ بھی کہہ گئے کہ میڈیا نے لاکھوں روپے کا وقت ان کو دیا (کسی نے شبہ ظاہر کیا۔ یہ اس لئے کہا کہ جتا دیا جائے۔ کہ ایسا کِیا بھی گیا) بہرحال پرنٹ میڈیا سے ان کی تازہ مخاصمت اور الیکٹرونک سے محبت سمجھ میں آتی ہے خود ان کے اپنے الفاظ میں کہ ان کی تقریب اور تقریر نہ صرف پارک میں موجود حاضرین دیکھ اور سن رہے ہیں، بلکہ ٹیلیویژن سکرین پر پاکستان کے 18کروڑ عوام (کسی کو کوئی اور کام نہیں تھا) اور دنیا بھر کے لوگ بھی دیکھ اور سُن رہے ہیں۔ یہ تو ہمیں شکوہ کرنا تھا ورنہ تو ہمیں فروری، مارچ1999ءکے حالات اور واقعات یاد آ رہے تھے، تب بھی محمد نواز شریف وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت تھی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد ان کے خلاف تحریک چلا رہا تھا۔

فروری میں ایم آر ڈی سے پاکستان عوامی اتحاد بننے اور اس کے ٹوٹنے اور اس میں ڈاکٹر طاہر القادری کے کردار کے بھی ہم عینی شاہد ہیں (قارئین! سے معذرت کہ ایک پچھلے کالم میں ہم نے ایم آر ڈی کی بجائے اے آر ڈی تحریر کر دیا تھا اور برادرم رﺅف طاہر نے توجہ مبذول کرائی تھی) 1999ءکے ابتدائی دن وہ تھے جب پیپلزپارٹی کے ساتھ تو مسلم لیگ (ن) کی محاذ آرائی تھی۔ نوابزادہ نصر اللہ بھی ناراض تھے کہ اپنی روایت کے مطابق زیادہ جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے بڑا اتحاد بنانے جا رہے تھے اس میں ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی شامل کرنا مقصود تھا۔ یہ واقعہ ہم تحریر کر چکے ہوئے ہیں کہ محترم نے کس طرح نوابزادہ نصر اللہ کو مجبور کیا۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں اجلاس رکھا اور پھر نوابزادہ سے ساز باز کر کے بانی صدر بن گئے، بے نظیر ناراض تھیں اس کے باوجود بابائے جمہوریت کا لحاظ کرنا پڑا اور انہوں نے بھی برداشت کیا،لیکن ڈاکٹر طاہر القادری زیادہ دیر نبھاہ نہ کر سکے اور اگلے ڈیڑھ دو ماہ کے دوران ہی انہوں نے اسلام کے نام پر پیپلزپارٹی کے ساتھ پھڈا لیا اور نہ صرف اتحاد سے الگ ہو گئے، بلکہ پاکستان عوامی اتحاد پر بھی قبضہ کر لیا، بعد ازاں نوابزادہ نصراللہ کو دوسرا اتحاد بنانا پڑا۔

 ڈاکٹر طاہر القادری اس دور میں بھی ایسے ہی کام کیا کرتے تھے، ہمارا ان کا ایک مودبانہ مکالمہ جاری رہتا ہمارا موقف یہ تھا کہ ایک دینی سکالر اور شعبہ تعلیم کے بہتر منتظم ہونے کی وجہ سے ان کو اندرونِ اور بیرونِ ملک وی وی آئی پی جیسا احترام ملتا ہے جو کسی بھی طرح وزیراعظم سے کم نہیں بنتا، اس لئے وہ سیاست کو چھوڑ دیں اور شعبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی محاذ پر بھی کام جاری رکھیں، وہ اس سے اتفاق تو کرتے، لیکن عمل تاخیر سے کیا، جب انہوں نے قومی اسمبلی کی اکلوتی نشست سے استعفا دیا اور پاکستان عوامی تحریک کو سرد خانے کی نذر کر کے بیرون ملک روانہ ہوئے تو انہوں نے پریس کانفرنس میں برملا ہماری ذات کو آڑ بنایا اور بھری مجلس میں کہا ” انہوں نے مجھے مجبور کیا ہے“۔

یہ تو یاد ماضی والی بات ہے اور یوں یاد آ گئی کہ حال ہی میں ڈاکٹر موصوف نے یہ انکشاف کیا کہ وہ تو35سال سے اس یوم انقلاب کی تیاری کر رہے تھے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ سیاست سے علیحدگی کا اعلان بھی حکمت عملی کا حصہ تھا اور اس کے بعد سے ان کی زیادہ توجہ بھی منہاج القرآن کے تعلیمی شعبہ کی طرف ہو گئی اور ان کے خیال میں اب وقت آ گیا تھا کہ اس عرصے میں دی گئی تربیت کو کیش کروایا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ادارہ منہاج القرآن کے نیٹ ورک اور طلباءو طالبات کی وجہ سے اب انقلاب کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے۔

ترکی کے دانشور فتح اللہ گولن نے بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کیا اور تعلیم کے ذریعے نوجوانوں کو برگشتہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ترکی میں طیب اردوان نے گولن تحریک کو جمہوری طریقے سے ناکام بنایا اور اب یہاں ڈاکٹر طاہر القادری ویسے ہی مشن پر ہیں اور ان کی حرکات کے باعث یہاں فساد بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 35سال سے تیاری کر رہے ہیں اور اب اقتدار ان کا حق ہے اور اِسی بھروسے وہ انقلاب مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی ہنر مندی یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے اپنی گرفتاری (اگر کہیں ایسا ارادہ ہے تو) مشکل سے مشکل تر بنا دی کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو شب قدر سے بھی زیادہ فضیلت کی بشارت دی اور قسم لے کر اپنی رہائش اور سیکرٹریٹ کے باہر24گھنٹے رہنے پر مجبور کر دیا کہ اتنے ہجوم میں گرفتاری مشکل عمل ہے کہ کارکن مقابلے پر اُتر آتے ہیں۔ یہاں تو ایک حادثہ ہو بھی چکا ہوا ہے، وہ اب کارکنوں کی حفاظت میں ہیں، ان کو کسی اچھی جگہ نظر بند کر کے رکھا جانا چاہئے۔

مزید : کالم