”ہماری لانگ مارچ پر مبنی سیاست “

”ہماری لانگ مارچ پر مبنی سیاست “

  

1990ءسے اب تک ہم وطن عزیز میں لانگ مارچ پر مبنی سیاست کا مشاہدہ کرتے آئے ہیںاور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بار لانگ مارچ صرف منتخب حکومتوں کے دور میں ہی ہوئے۔ بنیادی طور پر ان لانگ مارچوں کا مقصد ”آرمی کی آشیر باد سے حکومت کی تبدیلی“ کے لئے مشق کرنا ہے۔ 14 اگست سے شروع ہونے والا عمران خان اور طاہر القادری کا موجودہ ہلہ گلہ بھی ان کے سیاسی عزائم کی تکمیل کی خاطر اسی قسم کی ایک مشق ہے۔ان دونوں حضرات نے واضح کر دیا ہے کہ اگست کے اواخر تک نواز شریف کی حکومت ختم کر دی جائے گی اور ”تبدیلی نظام“ کے لئے انقلاب کی راہ متعین کی جائے گی۔آئیے ماضی میں ہونے والے لانگ مارچوں کے نتائج اور حالیہ لانگ مارچ کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔

1992ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد نے لاہور سے لانگ مارچ شروع کیا اور ان کی والدہ محترمہ بیگم نصرت بھٹو نے لاڑکانہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کی قیادت کی لیکن دونوں لانگ مارچ ناکامی سے دوچار ہوئے۔ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا گیااور وہ زخمی ہوکر ہسپتال جا پہنچیں جبکہ بے نظیر بھٹو کو گرفتار کر کے لاڑکانہ میں نظر بند کر دیا گیا۔اس طرح یہ لانگ مارچ ناکامی سے دوچار ہوا کیونکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے انہیں”پذیرائی نہیں بخشی“ اور نواز شریف کو لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے فری ہینڈ دے دیا گیا تھا۔ محترمہ کے اس لانگ مارچ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اسے کامیاب بنانے کے لئے مناسب ”ہوم ورک “ نہیں کیا تھا۔

اگلے سال یعنی 1993 ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک اور لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کی جو شروع ہوا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسلام آباد پہنچتیں ‘ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑنے ان کے لئے راہ ہموار کرادی تھی اورمداخلت کر کے اس شرط پر صدر اور وزیر اعظم کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر راضی کرلیا تھاکہ وہ نوے دنوں کے اندر انتخابات کرادیں گے۔اس طرح بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ ختم کر دیا اور1993ءکے آخر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ بلا شبہ اس لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے انہوں نے مناسب ”ہوم ورک “ کیا تھا۔

1996 ءمیں بے نظیربھٹو کے متعین کردہ اوران کی اپنی ہی پارٹی کے سینئر ترین راہنما سردار فاروق احمد خان لغاری نے ان کی حکومت ختم کردی جس کے بعد نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔لیکن ابھی نواز شریف کی حکومت قائم ہوئے بمشکل دوسال ہی گزرے تھے کہ بے نظیر بھٹو نے‘ نوابزادہ نصراللہ خان کے گیارہ جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد؛ عوامی نیشنل پارٹی؛ ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کو ملا کر 1998 ءمیں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس قائم کیا اور واشنگٹن کی سرپرستی اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اس یقین دہانی پر تحریک شروع کر دی کہ ”وہ نواز شریف کو اقتدار سے الگ کر کے نوے دنوں کے اندر انتخابات کرائیں گے اور اقتدارانتخابات جیتنے والی پارٹی کے حوالے کر دیں گے۔“ یہی وہ وقت تھا جہاں بے نظیر بھٹو جیسی زیرک سیاستدان ایک جرنیل کے دھوکے میں آگئیںجو آئندہ دس سال تک خودمسند اقتدار پر براجمان رہا۔

2009 ءمیں وکلاءکی بحالی عدلیہ کی تحریک اگرچہ اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن اس کی کامیابی کے کوئی آثار نہیں تھے۔اس وقت نواز شریف نے بڑی آسانی سے وکلاءکی تحریک کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لی اور لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ابھی انہوں نے بمشکل راوی کا پل ہی عبور کیا تھا کہ انہیںاس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے پیغام ملا کہ ان کے مطالبات مان لئے گئے ہیں لہذا لانگ مارچ کو ختم کر دیا جائے‘ جس پر نواز شریف نے شکریہ ادا کیا۔اس طرح انہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جو 2013 ءکے انتخابات میں ان کی کامیابی کی اہم وجہ بنی۔

آج 14 اگست 2014 ئ ہے جب پاکستانی قوم کو طاہر القادری کے معجزاتی انقلاب اور عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے نتائج کا انتظار ہے۔دونوں ہی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ نواز شریف کو ان کی کرسی سے ہٹا کر عنان اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔عمران خان اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ پاکستان کو مثالی ریاست بنا دیں گے۔درحقیقت یہ انقلاب لانے والوں کی خواہشات پر مبنی کھوکھلے دعوے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ لانگ مارچ کے مقاصدمیں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ان کا ”ہوم ورک“ مکمل نہیں ہے۔ان کا انجام بھی بے نظیر بھٹو کے 1992 ءوالے لانگ مارچ کی طرح ناکامی ہی ہو گا‘ جہاں انہیں لاڑکانہ میں نظربند ہونا پڑا اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کو لہو لہان ہو کر ہسپتال منتقل ہونا پڑا۔ابھی طاہرالقادری کے کارکنوں کوحکومت کے ساتھ جھڑپوں میں شدید ضربیں لگی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 14 اگست کو عمران خان کا کیا حشر بنتا ہے، اگرچہ انھیں قتل کرنے کی قطعا© کوئی ضرورت دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ گذشتہ چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حضرات ”جنگ جیتنےکے لئے بالواسطہ حکمت عملی“ پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد عوامی طاقت سے بدامنی پھیلا کرحالات کو اس نازک موڑ پر لے آنا ہے کہ حکومت کو مجبور ہوکرسول انتظامیہ کی مدد کی خاطر آرمی کو بلانا پڑے۔ عمران خان نے تو پہلے ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ ”حالات کو سنبھالنے کے لئے حکومت آرمی کو بلا نے کا فیصلہ کر چکی ہے۔“ اور یہی عمران اور قادری کا مقصد ہے۔

جہاں تک طاہرالقادری کے انقلاب کا سوال ہے تو شاید خودانہیں بھی انقلاب کی سختیوں اوراس کے نقصان دہ اثرات کا اندازہ نہیں ہے۔ ماضی قریب میں ایران اور افغانستان جیسے ممالک ہی انقلاب کی سختیوں کو برداشت کر سکے ہیں جبکہ یوگوسلاویہ ‘ چیکوسلواکیہ‘ عراق اور یوکرائن جیسے ممالک انقلاب کے جھٹکوں کو برداشت نہیں کر سکے، کیونکہ پاکستان کی طرح یہ ممالک بھی من حیث القوم اندر سے اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ انقلاب کی سختیوں کو برداشت کرسکیں۔لہٰذا ہمیں انقلاب کے کھوکھلے نعروں کو فوری طور پر رد کردینا چاہئے اور نظام کی تبدیلی کے لئے آئینی اورجمہوری راستہ اختیار کرنا چاہئے جس سے قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے ہوتے ہوں۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس تحریک کے پس پردہ کوئی سیاسی و نظریاتی ایجنڈا کارفرما ہے ۔غور فرمائیے کہ ماضی قریب میں الجیریا اور مصر میں کس طرح سے سیاسی اسلام کو سیکولراسلام سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔پاکستان میں شروع ہونے والی اس تحریک کا مقصد بھی کہیں ایساہی تو نہیں؟ جب 2013 ءمیںطاہرالقادری انتخابات کی تیاری کو روکنے کیلئے پاکستان آئے تھے کیونکہ انہیں نواز شریف کی کامیابی کا قوی یقین تھا لیکن قادری صاحب پی پی حکومت سے مذاکرات کے بعد پسپا ہو گئے تھے ۔حد تو یہ ہے کہ عمران خان نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے بدترین دور حکمرانی پر انگلی تک نہیں اٹھائی تھی لیکن اب دونوں مسلم لیگ کی دائیں بازو کی حکومت کے درپے ہیں۔

 نظریہ پاکستان ایک مقدس امانت ہے جس کی تشریح ہمارے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: ”پاکستان کا نظام جمہوری ہوگا جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے زریں اصولوں پر مبنی ہو گی۔“یہی ہمارا قومی نظریہ حیات بھی ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے اور حب الوطنی کا تقاضا بھی ہے۔

   

مزید :

کالم -