جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کا مطالبہ

جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کا مطالبہ


وزیراعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ وہ ملک کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے 2013 ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک کمیشن قائم کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ یہ کمیشن عدالت عظمیٰ کے تین جج صاحبان پر مشتمل ہو گا جس کی تشکیل چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ اسے الزامات کی مکمل چھان بین کے بعد اپنی حتمی رائے دینا ہو گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اس اقدام کے بعد کسی احتجاج کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہرطرح کے مذاکرات کا خیرمقدم کریں گے لیکن کسی کو بھی سیاسی نظام کو یرغمال بنا نے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف انہی ملکوں نے ترقی و خوشحالی کی منز ل پائی جہاں سیاسی استحکام رہا۔ اللہ کے فضل سے آج وطن عزیز جمہوریت کی راہ پر چل رہا ہے۔ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ ہماری عدلیہ پوری قوت کے ساتھ آئین اور جمہوریت کی پشت پر کھڑی ہے۔ 2013ء کے انتخابات پہلی بار اتفاق رائے سے چنے گئے چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں ہوئے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انتخابی اصلاحات ان کے منشور کا حصہ ہیں۔ اس مقصد کے لئے پارلیمانی جماعتوں کے 33ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ آئینی اور قانونی دائروں کے اندر رہتے ہوئے پر امن احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے اس ساری صورت حال میں میڈیا کو بھی اپنے کردار کا جائزہ لینے کو کہا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کہیں میڈیا کی آزادی کو کچھ عناصر اپنے پر تشدد اور غیر آئینی ایجنڈے کے لئے تو استعمال نہیں کر رہے؟

وزیراعظم کے خطاب کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشنل کمیشن بننے سے پہلے وزیراعظم کو استعفیٰ دینا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فیصلہ کر لے،راستہ دے یا خود اپنی قبر کھود لے،عوام کے سمندر کو اب کوئی نہیں روک سکے گا اور بادشاہت کے خاتمے کے لئے وہ خون بہانے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوامی مینڈیٹ چوری کیا ہے، تحقیقات ہوں گی تو پتا چل جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) کو ڈیڑھ کروڑ ووٹ کیسے پڑ گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔ عمران خان نے نواز شریف حکومت کے خاتمے، دھاندلی کی تحقیقات اور نئے انتخابات کرانے کے لیے ٹینکوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

عمران خان اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں کہ وزیراعظم ہر حال میں استعفیٰ دیں، اس کے بعد جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو 2013 ء کے انتخابات کی تحقیقات کرائے۔یہ اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ ہے جہاں الزامات لگائے جا رہے ہیں اور سزا بھی خود ہی تجویز کی جا رہی ہے۔ خواہش یہ ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد تحقیقات کرائی جائیں، یعنی قتل ابھی ثابت نہیں ہوا اور پھانسی پہلے دے دی جائے۔ گویا اگر جرم ثابت نہ ہوا تو پھانسی لگنے والے سے معافی مانگ لی جائے گی، لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ معافی مانگی کیسے جائے گی اور اگر سزا فوراً دینا ہے تو پھر تحقیقات کس بات کی۔اگر حکومت ختم ہو گئی تو ان کی کیا ضرورت باقی رہ جائے گی؟

عمران خان کا کچھ عرصہ پہلے تک یہ مطالبہ تھا کہ تین ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے،وہ متعدد بار یہ تسلیم بھی کر چکے ہیں کہ انہیں چیف جسٹس پر مکمل اعتبار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیشن دو ہفتوں میں رپورٹ مرتب کر لے تو وہ لانگ مارچ نہیں کریں گے، لیکن آج جب یہ کمیشن بنایا جا رہا ہے اور اس کی تشکیل کا اختیار بھی چیف جسٹس کو دیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی موجودگی میں شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔جب وہ یہ مطالبہ کر رہے تھے تو تب بھی تو حکومت یہ ہی تھی۔

عمران خان نے ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے اگر ایسی کوئی حکومت بننا ہے تو یہ کیسے بنے گی، کون بنائے گا یہ ابھی انہوں نے نہیں بتایا، شاید اگلی پریس کانفرنس میں بتا دیں۔ پھر ان کی مرضی کے مطابق اس حکومت کی آئین میں گنجائش ڈھونڈنا مشکل کیا ناممکن ہے۔

عمران خان صاحب لانگ مارچ کے فیصلے پر قائم و دائم ہیں۔ وہ ہر حال میں اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ زیرو پوائنٹ سے کشمیر چوک تک دھرنا دیں گے مطلب اپنے لئے آزادی اوردوسروں کے لئے قید و پابندی؟ان کا مسلسل اصرار ہے کہ احتجاج پُرامن ہو گا۔ وہ غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دیں گے، راستہ روکیں گے،لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگائیں گے، مشکلات کھڑی کریں گے اور پھر بھی امن برقرار رہے گا؟

ان حالات میں جب ڈاکٹر طاہر القادری چودھری برادران، شیخ رشید وغیرہ جوش و خروش سے عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کی اپنی جماعت کے کئی رہنما کٹے کٹے نظر آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی ملتان واپس چلے گئے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ شائد وہ لانگ مارچ میں شرکت نہ کریں۔ اس وقت اگرچہ ایک تین رکنی وفد انہیں منانے بھی گیا ہوا ہے۔حامد خان امریکہ میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ہی کے رہنما جسٹس وجیہہ الدین نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر جوڈیشل کمیشن کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کے لئے ٹائم فریم دے دیا جائے تو پھر معاملات سلجھ سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ ایک اچھی تجویز ہے اور ایسے میں عمران خان اگر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی پیشکش کو مان لیتے ہیں تو ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ درست ہو سکتا ہے کہ حکومت نے کمیشن کے قیام میں تاخیر کی ہے،لیکن پانی ابھی سر سے گزرا نہیں۔ اگر جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں بڑے پیمانے پر اور منظم دھاندلی ثابت ہو جائے تو پھر حکومت ختم کر کے مڈ ٹرم الیکشن کروائے جاسکتے ہیں اور جیتنے والی جماعت کو حکومت کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے۔ آئین اور دستورکے خلاف اٹھنے والا ہر قدم ملک کو انتشار کی طرف دھکیلے گا، عدم استحکام پیدا کرے گا ، اس کی ذمہ داری تمام فریقین پر عائد ہو گی۔

مزید : اداریہ