کرکٹ میں ناکامیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

کرکٹ میں ناکامیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

سری لنکا میں کھیلے جانے والے پہلے ہی ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم شکست سے دوچار ہو گئی اور سات وکٹوں سے یہ میچ ہار گئی ہے۔ اس پر ملک کے اندر تنقید کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ہے اور بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔سری لنکا نے یہ میچ زیادہ بہتر کھیل سے جیتا تو اس میں امپائرنگ کا بھی عمل دخل نظر آیا ہے۔ بہرحال بُری کارکردگی کے لئے یہ کوئی جواز نہیں، پہلی اننگ میں451رنز بنانے والی الیون دوسری اننگ میں صرف 180رنز بنا سکی، جبکہ سری لنکا والوں نے533رنز بنا کر پہلی اننگ ڈکلیئر کر دی تھی ان کے9کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔میچ ہار جانے کے بعد تنقید کا نشانہ بلے باز ہیں جن کی بُری کارکردگی کے باعث یہ میچ ڈرا بھی نہیں ہو سکا، حد تو یہ ہے کہ پہلی اننگ میں177رنز بنانے والے یونس خان اور77رنز بنانے والے اسد شفیق بھی کچھ نہ کر سکے۔ واحد کھلاڑی سرفراز تھے،جنہوں نے50سے زیادہ رنز کئے۔ یہ اور بھی افسوس کی بات ہے کہ پہلی اننگ میں سکور کرنے والے بھی دوسری میں کچھ نہ کر سکے۔ بلے باز تو رہے اپنی جگہ، باؤلر بھی کوئی کمال نہیں دکھا پائے، حالانکہ دعویٰ یہ کیا جا رہا تھا کہ باؤلنگ کے شعبہ میں پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں نئے کوچ مقرر کئے، جن کو بھاری معاوضے بھی دیئے جا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے دعوے بھی بہت کئے گئے، لیکن انجام سامنے ہے۔یہ دراصل اس اتھل پتھل کا نتیجہ ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں مسلسل ہو رہی ہے، ابھی بھی بورڈ انتخابی عمل میں ہے، ضروری امر جہاں بورڈ کا استحکام ہے وہاں کرکٹ کو کھیل ہی رہنے دیا جائے۔ اس میں سے تعصب اور سازش کو نکال دیا جائے، نئے منتخب چیئرمین یا صدر کے لئے یہ چیلنج ہو گا۔

مزید : اداریہ