سیاسی مذہبی رہنما مخالفت کی سیاست سے بالا ہو کر قوم کی کشتی کو بھنو ر سے نکالیں ،مفتیان و مہتمم مدارس کی اپیل

سیاسی مذہبی رہنما مخالفت کی سیاست سے بالا ہو کر قوم کی کشتی کو بھنو ر سے ...

                                 لاہور (سٹاف رپورٹر)ملک کے جید و ممتاز مفتیان اور دینی مدارس کے مہتمم صاحبان نے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی ،ممکنہ مخدوش انتظامی صورتحال کے پیش نظر اورامن وامان کی خاطر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں ،پارلیمنٹیرینز اور اقابرین سے اپیل کی ہے کہ وطنِ عزیزکی سلامتی وبقاءکے لیے ذاتی وگروہی ترجیحات اورمخالفت برائے مخالفت کی سیاست سے بالاترہوکر قوم وملت کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کی کوشش کریں ۔غلط فہمیوں کی خلیج کوبھائیوںکی طرح اسلامی واخلاقی روایات کے تحت دورکیاجائے اورتبدیلی کے خواہاں حضرات اپنی جنگ آئین اور قانون کے دائرہ میں لڑیں ۔گزشتہ روز مشترکہ طور پر جاری کردہ اعلامیہ میں نامور علمی ودینی شخصیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مہتمم دارالعلوم کراچی،شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی ،مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مہتمم جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاو¿ن کراچی، مولانامحمد عبید اللہ مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور ،مولانا عبدالمجید شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑپکا ، مولانا انوار الحق نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا مفتی عبد الرحیم مہتمم جامعةالرشید کراچی، مولانا مفتی محمد جامعة الرشید کراچی، مولانا محمد حنیف جالندھری مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان نے حکومتی ،سیاسی اور مذہبی قیادت سے ملک کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیزکی موجودہ صورت حال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے پریشان کن اور کربناک ہے۔ حکومت اور سیاسی قوتوں کی باہمی کشاکش،مخاصمت اور عدم برداشت نے پوری قوم کو بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچارکردیا ہے ۔اور اس سال کے یوم آزادی پر خوشیوں اور مسرتوں کی بجائے پاکستان کے باشندے اس ملک کی بقاءاور سلامتی کے حوالے سے سخت اضطراب میں ہیں ۔ملک میں وزیراعظم کے مستعفی ہونے ،قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے اور فوجی مداخلت جیسے انتہائی اقدامات کی افواہیں گردش کررہی ہیں ۔ان تشویشناک حالات کے نتیجے میں کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیںاورمعیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔پوری قوم بے یقینی کی سولی پر لٹکی ہوئی ہے اورسیاسی لیڈروں کے شبانہ روز،تندوتیزبیانات سے سخت ذہنی اذیت کاشکار ہے ۔انہوں کہا کہ اگرچہ ملکی سیاست میں علماءکرام کی ایک قابل قدر تعدادموجود ہے اور وہ خلوصِ دل سے موجودہ بحران کے خاتمہ کے لیے کوشاںبھی ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنا قومی وملی فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستان کی سیاسی ومذہبی قیادت سے اللہ اور رسول ﷺ کاواسطہ دے کر نہایت دردمندی سے ملتمس ہیں کہ وطنِ عزیزکی سلامتی وبقاءکے لیے ذاتی وگروہی ترجیحات اورمخالفت برائے مخالفت کی سیاست سے بالاترہوکر قوم وملت کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کی کوشش کریں ۔غلط فہمیوں کی خلیج کوبھائیوںکی طرح اسلامی واخلاقی روایات کے تحت دورکیاجائے اورتبدیلی کے خواہاں حضرات اپنی جنگ آئین اور قانون کے دائرہ میں لڑیں ۔اہل سیاست سے وہ اصحاب اقتدار ہوں یا حزب اختلاف یہ حقیقت مخفی نہیں کہ اس وقت مُلک حالتِ جنگ میں ہے اور یہ جنگ ملک کے اندر لڑی جارہی ہے ان حالات میںاتفاق واتحاد اور وحدتِ ملی کی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ ملک سلامت ہے تو جمہوریت وسیاست بھی سلامت رہے گی ،جمہوریت رہے گی تو انتخابات بھی ہوتے رہیں گے اور سیاست دانوں کو اپنے اپنے لائحہ عمل کی تکمیل کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔ ہم نہایت دلسوزی و دردمندی کے ساتھ متحارب تمام قوتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مہم جوئی اور تصادم کی سیاست کا مظاہرہ کرنے کی بجائے حکمت ودانائی سے کام لیںاور قوم وملک کو موجودہ بحران سے نکال کراندرونی وبیرونی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔تزاحم وتصادم سے احتراز کریں ،سیاست کو سیاسی آداب کے تابع بنائیں اور افہام وتفہیم سے کام لیں اور مذاکرات کے ذریعے شکایات کا خاتمہ کریں اس لئے کہ یہی طریقہ آبرومندانہ اور شائستہ ہے ۔

 اپیل

مزید : صفحہ آخر