پہلی بار گلیوں بازاروںمیں سوہنی دھرتی جیسے ملی نغمے گونجے نہ جشن کا سماں دیکھنے میں آیا

پہلی بار گلیوں بازاروںمیں سوہنی دھرتی جیسے ملی نغمے گونجے نہ جشن کا سماں ...

  

تجزیہ : شہباز اکمل جندران

اعصاب شکن انتظار کے بعد 14اگست کا دن آہی گیا ۔ یوم آزادی یوم امتحان بن گیا۔ تخت یا تختہ فیصلہ آج ہوگا۔14اگست کواحتجاج کرکے عمران اور قادری نے غلط روائت تو قائم کردی ہے لیکن جوڈیشل کمیشن کا آپشن چند دن پہلے آ جاتا تو حالات یقیناً مختلف ہوتے۔ قوم کو68واں یوم آزادی ہمیشہ یاد رہیگا۔ آج کے دن حکومت کے ساتھ تحریک انصاف ، عوامی تحریک، پولیس ، بیوروکریسی اورضلعی انتظامیہ کا بھی امتحان ہوگا۔کئی ہفتوں کے اعصاب شکن انتظار کے بعد 14اگست کا دن آہی گیاہے آج کیا ہوگا۔ ملک کی 18کروڑ عوام یہ جاننے میں کامیاب ہوجائیگی کہ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک بالترتیب آزادی و انقلاب مارچ کے لیے نکلیں گی تو دوسری طرف حکومت جگہ جگہ کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں اور فورس کے ذریعے دونوں پارٹیوں خصوصاً عوامی تحریک کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاﺅ ن تک محدود رکھنے کی کوشش کریگی۔ آج فیصلے کا دن ہے۔ عمران خان نے وزیر اعظم کی تین رکنی جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ ان کی اپنی پارٹی کے بعض اہم رہنما اس تجویز کے حامی ہیںلیکن عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہوں تو جوڈیشل کمیشن کی تجویز قبول ہے۔حکومت کی طرف سے یہ تجویز اگر چند دن یا دوہفتے پہلے سامنے آجاتی تو یقیناً حالات مختلف ہوتے۔اور تحریک انصاف اس حد تک نہ جاتی کہ جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔اس وقت عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ذہنوں میں یہ بات موجود ہے کہ ان کے لیے واپسی یا ناکامی کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ آج عوام بھی پریشان ہوگی لیکن آج کا دن حکومت ، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ساتھ لاہور ، راولپنڈی ، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں کی ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور اعلی بیوروکریسی کے لیے بھی یوم امتحان ہوگا۔ ایسا دن جس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوگی۔جب جیتنے والا تخت پر ہوگا تو ہارنے والے کا تختہ ہوجائیگا۔ وہ حکومت ہو یا پی ٹی آئی اور عوامی تحریک ، ناکام ہونے والا اپنی موجودہ حیثیت پر قائم نہیں رہیگا۔ 14اگست کو احتجا ج کرکے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے ملکی تاریخ میں ایک غلط روائت کو جنم دیا ہے۔جس کی مستقبل میںر وک تھام یقیناً مشکل ہوگی۔اب کی بار اگست میں نہ تو قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر ہوا ۔ نہ ہی میڈیا پر تحریک پاکستان کے کارکن نظر آئے ،نہ ہی گلی ،کوچوں میں سوہنی دھرتی جیسے ملی نغمے گونجے نہ آزادی کا جشن منایا گیا۔پوری قوم سیاسی بخار میں مبتلا رہی اور رہی سہی کسر لاہور ، اسلام آباد ، راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں جگہ جگہ کھڑی رکاوٹوں اور بندشوں نے پوری کردی۔

نغمے گونجے

مزید :

تجزیہ -