یوم پاکستان اور ہماری قومی ذمہ داریاں

یوم پاکستان اور ہماری قومی ذمہ داریاں
 یوم پاکستان اور ہماری قومی ذمہ داریاں

  



14اگست1947ء کا دن ہماری تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی وہ عظیم جدوجہد رنگ لائی ، جس کے نتیجے میں دُنیا کے نقشے پر پاکستان آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا ۔ اس پاک وطن کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو دل خراش مناظر سامنے آئے آج سوچ کر بھی رونگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پورے اعداد و شمارتو معلوم نہیں ،لیکن اندازہ لگایا جا تا ہے کہ 2 ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ 10 ملین سے زائد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایسے دل خراش واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کا ولولہ اور جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں الگ وطن حاصل کرلیا ۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج 68 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اگر ہم جائزہ لیں تو کیا یہ وہی پاکستان ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اگر ہمارا جواب نہیں میں ہے، تو اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب کی قومی ذمہ داریا ں کیا ہیں، بلکہ ستم تو یہ ہے کہ ہم چودہ اگست کا دن صرف سیر سپاٹوں اور ہلڑ بازی میں گزار کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

ایک طرف تو قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایاکہ Failure is a word unknown to me. لیکن دوسر ی طرف دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے نوجوان بس ناکامیوں کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ڈکشنری سے ناکامی کا لفظ نکال پھینکیں اور دن رات ایک کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں خوشگوار تبدیلی آئے گی ،بلکہ ملکی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ خیراغیار نے تو نوزائیدہ مملکت کے لئے جان بوجھ کر روڑے اٹکائے اور اپنے ناپاک ارادوں سے پوری کوشش کی کہ یہ نئی مملکت چند ماہ چل سکے، لیکن وہی ملک ابتدائی مسائل اور مشکلات کا سفر طے کرکے دُنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور الحمدللہ پاکستان ایک طاقتور مُلک کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں ہمیشہ مشکل ترین مراحل سے گزریں،لیکن عزت کا مقام انہی قوموں نے پایا، جنہوں نے حالات کا سامنا جواں مردی سے کیا ۔اس وقت وطن عزیز کو بھی ان گنت چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔خدا نخواستہ پیارے وطن کو کمزور کرنے کے لئے پوری پلاننگ کے ساتھ دہشت گردی کی آگ میں جھونکا گیا ،لیکن آپریشن ضربِ عضب نے ملک دشمن عناصر کے تمام حربوں پر پانی پھیر دیااور وطن عزیز میں دہشت گردی کا ناسورتقریباً ختم ہو چکا ہے۔

اس موقع پر عوام سے بھی التماس ہے کہ وہ مُلک میں امن کی خاطر سکیورٹی اداروں سے بھر پور تعاون کریں اور مُلک دشمن عناصر کی نشاندہی کریں۔ اس کے علاوہ حکومت کی بہتر اقتصادی پالیسیوں کے باعث پاکستان ترقی کی راہوں پر گامزن ہے، لیکن منزل ابھی بہت دور ہے دنیا کی صف اول کی قوموں میں نمایاں ترین مقام حاصل کرنے کے لئے ہم سب کو ابھی سر پٹ گھوڑے دوڑانے ہوں گے، لیکن کتنے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مُلک کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی بجائے ہم ہی لوٹ کھسوٹ میں لگے ہوئے ہیں، جس سمت نظر دوڑائیں کو ئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جو انفرادی مفادات کی بجائے اجتماعی مفادات کی جنگ لڑرہا ہو۔ ملکی ترقی ، خوشحالی او ر مضبوطی کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کا م کرنا ہو گا، کیو نکہ ترقی کا سفر ابھی باقی ہے ۔ ہمیں مستقبل کی راہیں خود تلاش کرنا ہوں گی، لیکن ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں۔آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے کریں گے اور مضبوط قوت ارادی سے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دیں گے۔اس دعا کے ساتھ اجازت کہ :

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

آخر میں تمام اہلِ وطن کو جشن آزادی مبارک۔

مزید : کالم