انہتر وا ں یومِ آزادی

انہتر وا ں یومِ آزادی
 انہتر وا ں یومِ آزادی

  

تاریخی لحاظ سے پاکستان ایک انفرادی حیثیت کا حامل مُلک ہے ، انفرادیت پاکستان کا خاصہ رہی ہے، لیکن یہ ہمیشہ مسائل کو پچھاڑتے ہوئے قائم و دائم رہنے والا مُلک ہے۔ جب اس کو قائم کرنے کے لئے کوششیں کی جارہی تھیں تو اس وقت بھی ہمارے آباؤ اجداد جانتے تھے کہ جس سفر کا انہوں نے آغاز کیا ہے، اس کا اختتام محض ایک الگ مُلک کا قیام نہیں،جیسا کہ دُنیا میں اس سے قبل بھی ہوتا آیا ہے اور نئے مُلک بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں۔اس کے برعکس جناح ؒ اور اقبال ؒ سمیت اس دور کے دیگر بہت سے مفکرین اس بات سے آگاہ تھے کہ پاکستان بنانے کا عمل ایک ایسا تجربہ ہے، جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔یہ ایک ایسی قوم نہیں ہو گی کہ جس کا انحصار محض ثقافت ،لسانی اور نسلی تفاخر پر ہو، بلکہ یہ ایک ایسی قوم بنے گی، جہاں صحیح معنوں میں ہر فرد کو آزادی حاصل ہو گی،جہاں صدیوں سے چھائے ہوئے گھٹن کے ماحول سے آزادی ملے گی،جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق نظام سلطنت چلایا جائے گا اور جہاں شہریوں کوبلا امتیاز مذہب و فرقہ مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

پاکستان کو یہ ذہن میں رکھ کر بنایا گیا تھا کہ یہ مایوس،پسے ہوئے اور سماج سے کٹے ہوئے لوگوں کے لئے امید کی کرن اور ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو گا۔۔۔ مواقع سے بھر پور مُلک، جہاں ان کی اپنی حکومت ہو گی ، جہاح نئی قوم اور نئے لوگ پروان چڑھیں گے اور اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک نئی دولت مشترکہ کا قیام عمل میں لائیں گے،جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور ان سے ہر معاملے میں انصاف روا رکھا جائے گا۔ ایک ایسی قوم جہاں کسی صاحب حیثیت شخص کا ہمسایہ کبھی بھوکا نہیں سوئے گا، جہاں ناانصافی کا شائبہ تک نہیں ہو گا۔ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہو گا،جہاں انسان اور انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام اور اخلاقیات کے جملہ اصول صحیح معنوں میں نافذ العمل ہوں گے ۔ ایک غالب مسلم اکثریت والی ایسی ریاست جو نہ صرف مسلمانوں، بلکہ ہندوستان میں بسنے والے تمام پسے ہوئے طبقات اور اقلیتوں کو بھی اپنے دامن میں پناہ دے گی۔

پاکستان کی تخلیق کے دوران میرے لئے سب سے حیران کن بات، محض اس مُلک میں بسنے کی خاطر لاکھوں لوگوں کا قربانیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنے کا عمل ہے۔تقسیم کے وقت کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات،حتیٰ کہ قتل عام جیسے واقعات سے سب لوگ آگاہ تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی زندگی ،اپنے اعضاء ،اپنے گھر بار ،اپنی جائیداد غرض اپنا سب کچھ پاکستان پر لٹانے کے لئے تیار تھے اور اس کے بدلے میں چاہتے تھے تو صرف اتنا کہ کسی طرح اس سرزمین تک پہنچ کر ایک عظیم تجربے کا حصہ بن جائیں۔ان مہاجرین میں ایک روح،قوت اورجوش و ولولہ تھا جو آج کے دور میں نظر نہیں آتا۔مجھے تو کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ وہ روح،قوت ،جوش وولولہ شائد اب ناپید ہو چکا ہے۔اس وقت، جبکہ ابھی پاکستان معرض وجود میں بھی نہیں آیا تھا،اس کے لئے ہماری محبت آج کی نسبت کہیں بڑھ کر تھی اور اس جذبے کا اظہار کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

بدقسمتی سے ہم عصر زمانے میں پاکستان ان قوموں کے درمیان کھڑا ہے، جن میں تمام وہ برائیاں موجود ہیں جو جدید طرز زندگی کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں،ان میں دہشت گردی، بد دیانتی، کرپشن،غربت، ناانصافی، ناخواندگی اور اقربانوازی کی روش ہے۔بادی النظر میں پاکستان بنانے کا تجربہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔ وہ خواب،امیدیں،بلند نظری،لاکھوں لوگوں کی قربانیاں اور کئی نسلوں تک پھیلی جدو جہدآہستہ آہستہ ماضی کی آغوش میں گم اور فراموش ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ تاہم مایوسی کا اظہارکرنا دوسرے لفظوں میں ان قربانیوں کو نظر انداز کرنے اور اس جذبے سے پہلو تہی کرنے کے مترادف ہے۔ہمیں اس بات کونہیں بھولنا چاہئے کہ بانیان پاکستان نے ان مسائل کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا، جن مسائل کا سامنا پاکستان کو قیام کے بعد کرنا پڑا۔ آزادی کے بعد سے ہی ملک سیاسی عدم استحکام،معاشی مسائل اور عالمی طاقتوں کی جغرافیائی سیاسیات کے گرداب میں پھنس کر رہ گیا۔ میرے خیال میں جناح ؒ ، اقبالؒ اور پاکستان کے قیام کے حامی ان کے دیگر ساتھی اس حقیقت پر فخر کریں گے کہ ہم نے اب تک اس ملک کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔اگرچہ اس کی اہمیت اور صحیح وقار کو قائم رکھنے اور بزرگوں کے خواب کو تعبیر دینے میں ہماری نسل کامیاب نہیں رہی ، لیکن کم از کم آنے والی نئی اور پُرجوش پاکستانیوں کی نسل سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ضرور نبھائے گی، کیونکہ اس کے پاس اب بھی موقع ہے۔

مزید :

کالم -