پاکستان، ناکامیاں کم، کامیابیاں زیادہ، قائداعظمؒ کے بعد کوئی لیڈر نہیں مل سکا

پاکستان، ناکامیاں کم، کامیابیاں زیادہ، قائداعظمؒ کے بعد کوئی لیڈر نہیں مل ...

  

تجزیہ : شہبا ز اکمل جندران

وطن عزیز کی آج سالگرہ ہے۔ گزرے 68برسوں پر نظر دوڑائیں تو بحیثیت قوم اور بحیثیت مملکت پاکستان کی کامیابیوں کی تعداد ناکامیوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ہمارا جغرافیہ سٹریٹجک حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، روس اور چین جیسی طاقتیں ہمارے پڑوس میں بستی ہیں،لیکن ہماری خارجہ پالیسی پر غیروں کے ہماوقت چھائے رہنے والے اثرات کی وجہ سے ہم اپنے ان پڑوسیوں سے اس حد تک قریب نہ ہوسکے جتنا کہ ہوسکتے تھے۔چین سے ہماری دوستی باہمی مفاد سے ہٹ کر کسی حد تک خارجہ پالیسی کی ایک کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔پاکستان میں حکمرانی کو دیکھیں تو لیاقت علی خان سے میاں نواز شریف تک اور سکندر مرزا سے ممنون حسین تک کسی بھی وزیر اعظم اور صدر کو کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔پاکستان میں قائد اعظم کے بعد حکمران تو بہت سے آئے لیکن قوم کو لیڈر نہ مل سکا۔کوئی بھٹو کو تو کوئی ایوب خان کو مثالی حکمران سمجھتا ہے لیکن وقت نے دونوں کو معاف نہ کیا۔پاکستانی قوم کی لیڈر کے لیے تلاش آج بھی جاری ہے۔اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہ تلاش پہلے سے بھی زیادہ تیز ہوچکی ہے۔پاکستان کی عدلیہ پر آج بھی آئین اور قانون سے ہٹ کر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے سنانے کا الزام ہے۔ملک کی انتظامیہ ، بیوروکریسی آج بھی عوام کی نوکری کرنے کی بجائے ان پر حکم چلاتی ہے۔ٹاٹ سکولوں اور کچے فرشوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے جب بیوروکریٹ بنتے ہیں تو انہیں غریبوں کے پسینے کی بو ہی نہیں ستاتی بلکہ بھاگتے جراثیم بھی نظر آنے لگتے ہیں۔اناہزارے نے جب بھارت میں کرپشن کے خلاف مہم شروع کی تو پاکستان میں اس وقت بھی کرپشن ،بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور اقربا پروری جیسے ناسوروں سے نمٹنے کے لیے اینٹی کرپشن ایکٹ ، ایف آئی اے ایکٹ ،اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ ،تعزیرات پاکستان،منی لانڈرنگ ایکٹ ،الیکٹرانک ٹرانزکشن ایکٹ اور دیگر قوانین موجود تھے اور کرپشن کے خلاف بعض قوانین تو1947سے نافذالعمل ہیں۔نہ تو ملک سے کرپشن ختم یا کم ہوسکی ہے۔ اور نہ ہی اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے ، نیب اور دیگر محتسب اداروں کی کارکردگی کو شاندار قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لیے موجود محکموں کے اندر کرپشن سرائیت کرچکی ہے۔تعلیم کا میدان ہویا کمپیوٹر کی دنیا،نت نئی ایجادات کی کہانی ہو یاسائنس و ٹیکنالوجی کی دوڑ،کسی بھی شعبے میں ہم خود کو سب سے اعلیٰ و افضل قرار نہیں دے سکتے۔ 68برس گزرنے کے بعد بھی ہم روزمرہ اشیاء کی قیمتیں طے کرنے کا قانون یا فارمولا نہیں بناسکے۔ایک ہی چیز شہر کے ایک کونے میں مختلف ریٹس پر بکتی نظرآتی ہے۔میٹروبس تو بنالی لیکن دودھ ، پانی اور اشیاء خورونوش میں ملاوٹ کے خلاف قوانین نہ بناسکے۔ہم نے ہر سال کاغذوں میں شجر کاری مہم تو چلائی لیکن عملی طورپر جنگلات کی ایک لاکھ ایکڑ سے بھی زائد اراضی پر قبضہ کرکے جنگل ہی نہیں جنگلی حیات کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔اورجنگلات کی اراضی پر عوام ہی نہیں سرکاری اداروں نے بھی ہاتھ صاف کیا ہے۔ہم میڈیکل کے شعبے میں گراں قدر اور نمایاں ترقی تو نہیں کی لیکن شہر ، شہر پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کے ساتھ ساتھ ادویہ ساز کمپنیوں کی بھر مار نظر آتی ہے۔ہر ہسپتال اور لیبارٹری کے علاج و معالجے اور ٹیسٹوں کا اپنا ریٹ ہے۔کوئی 10ہزار میں تو کوئی 30ہزار روپے میں بڑا آپریشن کرنے کا اشتہار دیتا ہے۔ہمارے ہاں آپریشن کے دھاگے سے لیکر مہنگے ترین جان بچانے والے انجکشنوں تک ہر طرح کی جعلی میڈیس با آسانی دستیاب ہے۔جعلی یا زائد المعیاد ادویات کے استعمال سے سینکڑوں اموات ہوتی ہیں۔لیکن ذمے دار بچ نکلتے ہیں۔یہاں کی پولیس سیاسی ہی نہیں ذاتی بھی بننے میں عار محسوس نہیں کرتی۔یہاں قانون ہی انصاف پر بھی بکاؤ ہونے کا الزام لگتا ہے۔ہم ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔لیکن ہماری استطاعت 20ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی ہے۔جبکہ ہماری طلب صرف 16 سے 17ہزار میگا واٹ ہے۔اس کے باوجود ہم 12ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہی نہیں کرپاتے۔ہم ایسی قوم ہیں جو مال و اسباب کے ہمراہ سیلاب میں بہنا پسند کرتی ہے لیکن کالا باغ جیسا ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہوتی۔ملک میں ہزاروں فیکٹریاں قائم ہیں لیکن مزدورکے حقوق تو دور انہیں حکومت کی طرف سے طے کردہ کم از کم اجرت بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی فیکٹریوں کے قوانین لاگو کرسکے ہیں۔ہم قوانین کی موجودگی میں رمضان میں کھلے عام کھاتے پیتے ہیں،ہوٹل اور ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔لاؤڈ سپیکر پر چیختے چلاتے ہیں،ہم نے شہر تو بسائے لیکن اربنائزیشن کے قواعد پر عمل درآمد نہ کرواسکے۔کسی بھی حکومت کا بنیادی کام اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تو حکمران تک بھی محفوظ نہیں ہیں۔کوئی جتنا بڑا حکومتی عہدیدار ہے، اس کی جان کو اتنا ہی خطرہ ہے اور وہ اسی قدر بڑے حفاظتی لاؤ لشکر کے ساتھ باہر نکلتا ہے۔68برسوں میں پاکستان میں جرائم میں کی شرح میں کمی تو نہ آئی لیکن نت نئے جرائم اور جرائم کے نت نئے طریقے ضرور سامنے آئے ۔خود کش بمبار یا ڈرون حملے کیا ہوتے ہیں؟ ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ایک وقت تھا کہ ہم کرکٹ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ رہے لیکن اب کرکٹ کی دنیا ہم سے روٹھ چکی ہے۔ملالہ یوسف زئی نے نوبل جیت کر، ارفع کریم نے کم عمر ترین سافٹ وئیر انجینئر بن کر ،شرمین عبید چنائے نے آسکر ایوارڈ جیت کر،کئی کم عمر نوجوانوں نے او اور اے لیول میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا۔ لیکن ملالہ زئی اور سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد وں کے حملوں،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں مبینہ موجودگی اور ہلاکت، میمو گیٹ سکینڈل،لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کی شہادت اور آرمی پبلک سکول پشاور جیسے واقعات سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔پھر بھی کہنے میں عار نہیں ۔

ہم زندہ قوم ہیں۔پائندہ قوم ہیں۔

پاکستان

مزید :

تجزیہ -