دنیا کا وہ علاقہ جہاں سائنسدانوں کو کئی کلومیٹر ’ آگ ‘ برف سے لپٹی ہوئی مل گئی

دنیا کا وہ علاقہ جہاں سائنسدانوں کو کئی کلومیٹر ’ آگ ‘ برف سے لپٹی ہوئی مل ...
 دنیا کا وہ علاقہ جہاں سائنسدانوں کو کئی کلومیٹر ’ آگ ‘ برف سے لپٹی ہوئی مل گئی

  


ایڈنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) براعظم انٹارکٹکا میں برف کی دبیز تہہ دیکھ کر کوئی گمان بھی نہ کر سکتا تھا کہ اس کے نیچے ابلتا لاوا بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین ارضیات نے انٹارکٹکا کے نیچے اتنی بڑی تعداد میں آتش فشاں دریافت کر لیے ہیں اور ان کے متعلق ایسی خطرناک خبر سنا دی ہے کہ دنیا پریشان رہ گئی ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایڈنبرا یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے انٹارکٹکا میں برف کے نیچے 100سے زائد انتہائی خوفناک آتش فشاﺅں کا پتہ چلا لیا ہے جو 2کلومیٹر گہرائی میں زمین کے نیچے موجود ہیں اور اتنے طاقتور ہیں کہ پھٹ پڑے تو دنیا کو ملیا میٹ کردیں گے۔اس دریافت کے بعد برف میں ڈھکا براعظم انٹارکٹکا آتش فشاﺅں کی تعداد کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا علاقہ بن گیا ہے جہاں کئی کلومیٹر پر محیط آتش فشاں موجود ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ رابرٹ بنگھم کا کہنا ہے کہ ”یہ آتش فشاں تباہ کن نتائج کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک آتش فشاں بھی پھٹ گیا تو انٹارکٹکا کی برف پگھلنے کی رفتار اس قدر تیز ہو جائے گی اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہو جائے گی کہ وہ زمین کو نگل جائیں گے۔تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ آتش فشاں کتنے متحرک ہیں۔ تاہم اس کے لیے ہم تحقیق کر رہے ہیں۔ “ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مغربی انٹارکٹکا میں برف پگھلنے کی رفتار بڑھ چکی ہے اور اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو برف کم ہونے کے باعث یہ آتش فشاں پھٹ سکتے ہیں، جو مزید برف پگھلنے کا باعث بنیں گے اور انجام کار دنیا تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس پر ہمیں کڑی نظر رکھنی ہو گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...