شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ کا خطرہ شدید ، اگر امریکا فیصلہ کرائے تو کتنے سیکنڈ میں ایٹم بم گرا سکتا ہے؟ تفصیلات جان کر آپ کا بھی منہ کُھلا کا کُھلا رہ جائے گا

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ کا خطرہ شدید ، اگر امریکا فیصلہ کرائے تو ...
شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ کا خطرہ شدید ، اگر امریکا فیصلہ کرائے تو کتنے سیکنڈ میں ایٹم بم گرا سکتا ہے؟ تفصیلات جان کر آپ کا بھی منہ کُھلا کا کُھلا رہ جائے گا

  


واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر دنیا کا طاقتور ترین صدر اس لیے بھی ہوتا ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہے اور اس کا صدر وہ واحد شخص ہے جو ان ایٹمی ہتھیاروں کو چلانے کا اختیار رکھتا ہے۔تاہم امریکی صدر کو ایٹمی حملہ کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے؟ بلومبرگ نیوز نے یہ سوال امریکہ کے سابق ’منٹ مین‘ (ایٹمی میزائل کو لانچ کرنے والا شخص) بروس جی بلیئر سے کیا۔ بروس جی بلیئر نے بتایا کہ ”امریکہ کا صدر بلا شرکت غیرے ایٹمی حملہ کرنے کا واحد مجاز شخص ہے۔ تاہم اگر اسے حملہ کرنا ہو تو وہ سب سے پہلے سول اور فوجی مشیروں کا اجلاس بلاتا ہے اور ان سے اس معاملے پر بات کرتا ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں یہ اجلاس ’سیچوئشن روم‘ میں منعقد ہوتا ہے۔ لیکن اگر امریکی صدر سفر میں ہو تو وہ ایک محفوظ لائن کے ذریعے دیگر حکام سے بات کرتا ہے۔ ان حکام میں پینٹاگون کا ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز بنیادی شخص ہوتا ہے جو نیشنل ملٹری کمانڈ سنٹر کا انچارج ہوتا ہے۔ یہ سنٹر ’وار روم‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہی سنٹرصدر کے حکم پر ایٹمی میزائل تیار رکھنے اور اسے داغنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔“

بروس کا کہنا تھا کہ ”یہ مشاورتی اجلاس صدر کی خواہش کے مطابق طویل ہوتا ہے لیکن اگر دشمن کا میزائل امریکہ کی طرف بڑھ رہا ہو تو صدر یہ اجلاس 30سیکنڈ میں بھی ختم کر سکتا ہے اور جوابی حملے کا حکم دے سکتا ہے۔کچھ مشیر صدر کا ذہن بدلنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اس کے نہ ماننے پر احتجاجاً مستعفی ہو سکتے ہیں لیکن انجام کار پینٹاگون کو اپنے کمانڈر انچیف (امریکی صدر)کا حکم ماننا پڑتا ہے۔صدر کی طرف سے حملے کا حکم ملنے پر پینٹاگون کا ’وار روم‘ تصدیق کرتا ہے کہ آیا یہ حکم واقعی صدر کی طرف سے آیا ہے۔اس کے لیے انہیں ایک ’کوڈ‘ بھیجا جاتا ہے، محض دو الفاظ پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ”ڈیلٹا، ایکو“۔یہ کوڈ امریکی صدر کے پاس موجود ایک کارڈ کے ذریعے بھیجا جاتا ہے جسے ”بسکٹ“ کہتے ہیں۔ اس کے بعد وار روم حملہ کرنے کی تیاری کرتا ہے۔ منٹ مین کو میزائل لانچ کرنے کے کوڈ فراہم کیے جاتے ہیں جو 150حروف و اعداد پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں موجود امریکی فوجی کمانڈز کو اس سے مطلع کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ابتدائی مشاورتی اجلاس کے بعد چند سیکنڈز میں ہو جاتا ہے۔ میزائل زمین یا آبدوز سے داغے جانے پر طریقہ کار تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ اگر ایٹمی میزائل زمین سے داغا جائے تو صدر کا حکم ملنے کے بعد زیادہ سے زیادہ 5منٹ لگتے ہیں اور تمام کوڈز کی تصدیق کرکے میزائل داغ دیا جاتا ہے اور اگر آبدوز سے داغا جائے تو 15منٹ درکار ہوتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں جب ایک بار میزائل داغ دیا جائے تو پھر اسے روکنا ناممکن ہوتا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...