ِ ِپاکستان بنام پاکستانی قوم

ِ ِپاکستان بنام پاکستانی قوم
 ِ ِپاکستان بنام پاکستانی قوم

  


میں پاکستان ہوں تقریباً بائیس کروڑ انسانوں کا ملک۔آج میں 70 سال کا ہو گیا ہوں آج آپ لوگ میری سترویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں۔جشن کی ان گھڑیوں میں آؤ میں تمہیں اپنے گزرے ماہ وسال کی سیر کراؤں۔ 14اگست 1947ء کا وہ دن بھی کیا خوبصورت و مبارک دن تھا۔ جب میں پیدا ہوا۔میرا نام پاکستان رکھا گیا یعنی پاک زمین۔سنا ہے کہ میری پیدائش کے دن صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ آسمانوں پر بھی جشن منایا گیا تھا کہ آخر کومیں رب کائنات کے خاص ارادے اور اس کی منشاء سے وجود میں آیا۔آپ سب لوگوں نے میری پیدائش پر خوشیاں منائیں ااور عہد کیا کہ مجھے صحیح معنوں میں پاک سر زمین بنائیں گے۔ ایک ایسا ملک جہاں کے باسی رنگُ نسل ، ذات پات مسلکی اور مذہبی تعصبات سے بالا تر ہوکر مل جُل کر میری تعمیر کریں گے۔ ایک روشن کل کی تعمیر کے لئے یقیناًآپ لوگوں نے صحیح سمت میں سفر شروع کر دیا تھا۔پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان نامی ملک بہت جلد دنیا کا ایک اہم ملک اور خطے کا لیڈر بننے والا ہے ۔

ترقی کا سفر شروع ہو گیا۔افسوس میری پیدائش کا خواب دیکھنے والے حضرت اقبالؒ تو میرے وجود میں آنے سے قبل ہی خدائے برزگ و برتر کے حضور چلے گئے اورہمارے قائد اعظم محمد علی جناحؒ دنیا جن کی ذہانت کی معترف تھی، بھی ایک سال کے اندر اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سردار عبدالرب نشتر اور لیاقت علی خان جیسے زعما ء کی موجودگی کی وجہ سے میرا قائد سے جدائی کا غم قدرے کم ہو گیا۔میرا یقین کامل تھا کہ یہ لوگ میرا جی جان سے خیال رکھیں گے اور جب تک یہ زعماء دنیا میں رہے میری بہتری کے لئے کوشاں رہے پہلے دو عشرے کچھ سیاسی غلطیوں کے باوجود ترقی کے لئے بہترین ثابت ہوئے ۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب سرکاری افسران دفتروں میں کامن پن نہ ہونے کی وجہ سے چھٹی والے دن کانٹے چنا کرتے تھے تاکہ ان کانٹوں سے کامن پنوں کا کام لے سکیں۔ہر سرکاری اہلکار حکومتی خزانے کا امین سمجھا جاتا تھا۔ رشوت اور اقربا پروری کا نام و نشان تک نہ تھا۔جان فشانی اور ایمانداری میرے سرکاری اہلکاروں کا طرۂ امتیاز تھا۔سیاسی داؤ پیچ کے باوجود اکثر زعما کرپشن سے دور تھے لیکن پھر یہ ہُوا کہ کچھ اپنی غلطیوں اور کچھ غیروں کی سازشوں کی وجہ سے میرے دو ٹکڑے کر دیئے گئے۔

16دسمبر 1971ء کا وہ دن شاید معلوم تاریخ انسانی کا سیاہ ترین دن تھاجب آسمانوں پر بھی ایک کہرام برپا تھا کہ دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت دو لخت ہورہی تھی۔کوئی اس کا ذمہ دار شیخ مجیب الرحمن کو سمجھتارہا کوئی یحییٰ خان کو تو کوئی بھٹو کو لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ میرے دو لخت ہونے کے پیچھے ان تینوں کی غلطیوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور عوامل بھی کار فرما تھے اس وقت کی لیڈر شپ کو احساس زیاں ہی نہ تھا۔سب اپنے مفادات کی کھونٹی سے بندھے رہے کسی نے میرا نہ سوچاسب کو اگر فکر تھی تو صرف اپنے حصے کی ۔دشمن کی سازشیں اپنی جگہ لیکن میرا اصل مان تو آپ لوگ تھے آپ نے بھی میرا ساتھ نہ دیامجھے غیروں کے ہاتھوں رسوا کر دیا ۔میں آج بھی وہ منظر یاد کروں توکلیجہ منہ کو آتا ہے جب جنرل نیازی نے جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار پھینکے ۔اے کاش جنرل نیازی تمام تر سیاسی مجبوریوں کے باوجود جرات کا مظاہرہ کرتے اور دنیا کو بتا دیتے کہ ہم یہ ذلت آمیز شکست برداشت نہیں کر یں گے اور آخری سانس تک لڑیں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہوا۔ایک بازو الگ ہونے کے بعد کسی کا جو حال ہوتا ہے وہ بخوبی آپ سمجھ سکتے ہیں لیکن جیسے تیسے میں زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ نئے سرے سے سفر کا آ غاز ہو گیا کئی صبر آزما اور تکلیف دہ مراحل اور ادوار سے گزرنے کے بعد آخر کار مجھے ایک حقیقی خوشی نصیب ہوئی جی ہاں 28 مئی 1998ء کا وہ دن میرے لئے یاد گار دن تھا جب میں ایٹمی طاقت بنا دنیا بھر میں میرے نام کا ڈنکا بج اٹھا۔ سب حیران تھے کہ اتنے زخم کھانے کے باوجود میں کیونکر ایٹمی طاقت بن گیالیکن افسوس کہ آپ لوگوں نے گزشتہ تیس چالیس برسوں میں جس طریقے سے میرے سینے پر بدعنوانی کے جنگل کو اگادیا ہے اس نے میرا سانس لینا بھی دوبھر کر دیا ہے ایک عجیب سا درد ہے جو مسلسل سینے میں رہتا ہے ۔کہاں پہلے دو عشرے اور کہاں آج، ذرا سوچیے کہ آپ اوجِ ثریا سے زمین پر مجھے کیسے لے آئے میں نے تو دنیا کا لیڈر بننا تھا لیکن آپ لوگوں کی بڑھتی ہوئی حرص و طمع نے میرے اعصاب نڈھال کر دیے بھلا کوئی اپنے گھر کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے جو آپ نے مجھ سے کیا محب وطن تو وطن بنایا کرتے ہیں۔

وطن کو توڑا نہیں کرتے لیکن افسوس کسی نے میری دولت لوٹ کر سوئس بنکوں میں جمع کرا دی تو کسی نے پاناما میں آف شور کمپنیاں بنا کر بد عنوانی کو کاروبار کا درجہ دے دیا۔میں نے تو سمجھا تھا کہ آپ جہاں بان ہوں گے جہاں آرا بنیں گے جہانگیر بنیں گے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا میرے بچو! میں نے تو آپ کو شاہین بنانا چاہا آپ کرگس کیسے بن گئے ۔مجھے صرف اپنے سیاسی بچوں سے ہی گلہ نہیں بلکہ مجھے اپنے سرکاری عمال اور اپنے محافظوں سے بھی اپنے منصفوں سے بھی شکایات ہیں۔ میں اپنے اہل تجارت اور خصوصا دینی رہنماؤں سے بھی نا خوش ہوں آپ سب لوگ ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انیس بیس کے فرق کے ساتھ آپ سب نے مجھے مایوس کیا ہے۔میں نے تو آپ کو بیباکی و حق گوئی کا درس دیا تھا جرات گفتار اور حریت فکر کی تلقین کی تھی میرے بچو! کہاں گیا آپ کا وہ اولین ذوق یقین میرے شاہینو! کہاں گئی تمہاری وہ طاقت پرواز جس سے ایک زمانہ لرزہ بر اندام تھا۔ یاد رکھو میرے عزیزو قوموں کی تقدیر میں شمشیرو سناں اور کردار و گفتار سب سے اہم عوامل ہیں لیکن آپ نے تو طاوس اور رباب کو ہی منشائے حیات سمجھ لیا ۔مجھے اپنے دینی حلقوں کے ایک بڑے طبقے سے خاص گلہ ہے کہ جسے دیکھو وہ دوسروں کو کافر قرار دینے پر تلا بیٹھا ہے۔ انسانیت سے محبت اب افسانے لگتے ہیں میرے بچو میرے جگر گوشو، اگرچہ تمہاری بداعمالیوں کی وجہ سے میرا سارا وجود زخموں سے چور چور ہے، لیکن میں مکمل مایوس نہیں ہوں مجھے آج بھی یقین ہے کہ ایک ایسی سحر ضرور طلوع ہو گی جس کا خواب علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھا تھا لیکن تمہیں اس روشن سحر کے حصول کے لئے مکاری عیاری دھوکہ دہی اور بدعنوانی کو ترک کرنا ہو گا انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا ہو گا غریب کی عزت نفس کو بحال کرنا ہو گا ۔میرے بچو! ترک کر دو تمام تر مسلکی و گروہی تعصبات کہ اسی میں تمہاری دین و دنیا کی فلاح کا راز مضمر ہے یاد رکھو آنے والا دور اس قوم کا ہو گا جو علم سے سچی محبت رکھتی ہو لہٰذا تم تحقیق پر زور دو، اپنے تعلیمی اداروں کو عبادت گاہوں کی طرح مقدس سمجھو۔اُن کا احترام کرو اپنے اہل علم کی قدر کرو حق و صداقت کو اپنا شعار بنا لو اپنی جامعات کو تحقیق و جستجو کا مرکز بنا لو۔یاد رکھو کردار سازی انتھک محنت بہادری اور انصاف پسندی جیسے اوصاف حمیدہ اپنے اندر پیدا کر لو گے تو تم ترقی کی دوڑ میں پھر سے شامل ہو جاؤ گے خدا تمہارا حامی وناصر ہو۔

فقط تمہارا گھر تمہارا وطن تمہارا چمنستان تمہارا پاکستان۔

مزید : کالم


loading...