پاکستان کے ستر سال

پاکستان کے ستر سال

آج قیامِ پاکستان کے ستر سال مکمل ہو گئے ہیں اِن برسوں میں پاکستان کو کبھی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور کبھی ناکامیوں کا مُنہ دیکھنا پڑا، مشکلات بھی درپیش رہیں اور آسانیاں بھی میسر آئیں،پاکستان کی زندگی کے یہ تمام برس ایک ملی جلی تصویر بناتے ہیں،جو لوگ ہر وقت پاکستان کی ناکامیوں کا رونا روتے رہتے ہیں وہ صورتِ حال کا پوری طرح ادراک نہیں کرتے اور جن کا خیال ہے کہ پاکستان میں سب کچھ روشن روشن ہے۔ وہ بھی پوری تصویر پیش نہیں کرتے،بلاشبہ اِن تمام برسوں میں پاکستان آگے بڑھا ہے اور اپنے بعض رہنماؤں کی مہربانی سے اُس کی منزل کھوٹی بھی ہوئی ہے اور تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے قدم رُک بھی گئے ہیں اِس کے باوجود پاکستان جو کچھ حاصل کر چکا ہے اس پر پاکستان کے باشندوں کو ربِ ذوالجلال کے حضور سجدہ ریز ہو جانا چاہئے اور جو کچھ کوشش کے باوجود حاصل نہیں ہو سکا، اللہ تعالیٰ سے اِس کے حصول کی توفیق طلب کرنی چاہئے اور دُعا کرنی چاہئے کہ مسلمانوں کا یہ مُلک تیزی سے آگے بڑھے،اسلام کا قلعہ ثابت ہو اور دُنیا میں ایک قابل تقلید مثال بن کر سامنے آئے۔

دُنیا میں عروج و زوال قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کا مرہونِ منت ہے، جو قومیں عروج سے ہمکنار ہوتی ہیں اور ترقی کی معراج پا لیتی ہیں انہیں یہ منزل دو چار برس میں حاصل نہیں ہوتی،اِس کے حصول کے لئے برسوں، عشروں اور بعض اوقات صدیوں جدوجہد کرنی پڑتی ہے، قوموں کے عروج و زوال پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح سامنے آ جاتی ہے کہ جن قوموں نے دُنیا پر حکومت کی وہ ہمیشہ کے لئے اِس منصب پر فائز نہیں ہو گئی تھیں جب اُن کا زوال ہوا تو پھر اس کے بعد اُنہیں اُبھرنے کا موقع نہیں ملا۔

برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک حکومت کی،لیکن جب اِن کی حکومتوں کو زوال آیا تو نو آبادیاتی حکمرانوں نے آگے بڑھ کر پورے ہندوستان کو غلام بنا لیا،جب دو سو برس کی غلامی کی سیاہ رات ختم ہونے کے قریب آئی تو عیار ہندوؤں نے سوچا کہ انگریز کے جانے کے بعد اب ہندوستان پر ہندوؤں کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ہندو راج کے منصوبے بنانے والوں نے پوری عیاری سے کام لے کر بعض مسلمان رہنماؤں کو بھی کامیابی کے ساتھ شیشے میں اتار لیا تھا اور یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ جس طرح برصغیر میں ہندو، مسلمان اور دوسری قومیں صدیوں سے اکٹھی رہتی چلی آ رہی ہیں اِسی طرح آزادی کے بعد بھی خطے کی تمام قومیں ایک ساتھ پُرامن طور پر رہ سکتی ہیں،لیکن جس جوہری تبدیلی کا آغاز برصغیر میں انگریز کے رخصت ہونے کے بعد ہونے والا تھا اُسے صرف چند دور بین نگاہیں ہی دیکھ سکتی تھیں۔

انگریز نے حکومت مسلمان بادشاہوں سے چھینی تھی،بادشاہوں کے اِن خاندانوں نے مختلف ادوار میں ہندوستان پر حکمرانی کرتے ہوئے عدل و انصاف کی درخشاں روایات قائم کیں،جن کے ہندو بھی معترف تھے اور آج تک انصاف پسند ہندو مورخین اِس کا اعتراف کرتے ہیں،لیکن جب جمہوریت میں اکثریت کے اصول کے تحت ہندوؤں کو پورے ہندوستان میں اپنی حکومت بنتی ہوئی نظر آئی تو انہوں نے مسلمانوں کو غلام بنانے کے منصوبے سوچنا شروع کر دیئے،اگر انگریز حکمران برصغیر کو اِسی حالت میں چھوڑ جاتے، جس میں انہوں نے حاصل کیا تھا تو اِس کا مطلب لازماً یہ ہوتا کہ مسلمان ہمیشہ کے لئے اقلیت بن جاتے اور ہندو اپنی اکثریت کے بل بوتے پر حکمران طبقے کی شکل اختیار کر لیتے۔

مسلمان زعما نے اِس صورتِ حال کو بہت بروقت بھانپ لیا تھا یہ زعما اپنے اپنے انداز میں برصغیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرتے رہے،لیکن حصول پاکستان کو اگر کسی ایک جماعت اور کسی ایک رہنما نے اپنی زندگی کا مقصد اولیٰ بنایا تو وہ مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ تھے۔ مسلم لیگ نے 23مارچ1940ء کو الگ وطن کا مطالبہ لاہور میں ایک قرارداد کے ذریعے کیا اور سات سال کے عرصے میں ایک مُلک دُنیا کے نقشے پر ابھار دیا،جس بے سرو سامانی کے عالم میں مُلک بنا تھا اور اِس خطے کی جو حالت تھی، جس پر پاکستان مشتمل تھا اس کی وجہ سے ہندو رہنماؤں کو یقین تھا کہ بہت جلد پاکستان دوبارہ ہندوستان کا حصہ بن جائے گا،کیونکہ ان کے خیال میں کٹا پھٹا پاکستان زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا تھا،لیکن یہی پاکستان آج دُنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے اور ہندوستان کے مقابلے میں سینہ تان کر کھڑا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بدقسمتی یہ ہوئی کہ یہاں حکمران طبقات ،یعنی سیاست دان، بیورو کریسی اور فوج ایک نہ ختم ہونے والی سیاسی کشمکش میں الجھ کر رہ گئے،پہلے نو سال تک تو مُلک کا آئین ہی نہ بن سکا اور56ء میں آئین نافذ ہوا تو اس کے تحت ہونے والے پہلے الیکشن(59ء) سے قبل ہی فوج کے کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان نے حکومت کا تختہ اُلٹ کر فوجی حکومت قائم کر دی اور مارشل لاء ختم کرنے سے پہلے62ء میں جو آئین نافذ کیا اس میں نظام حکومت پارلیمانی سے بدل کر صدارتی بنا دیا گیا۔دُنیا بھر میں آئین سازی کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو راہِ راست پر رکھنے کے لئے بنائی جانے والی اس بنیادی اور اساسی دستاویز کی تشکیل عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے کرتے ہیں،لیکن جنرل ایوب خان نے جو آئین قانونی ماہرین سے تیار کروایا، کسی عوامی نمائندے کو اس کی ہوا تک نہ لگنے دی گئی اس میں مُلک و قوم کی ضروریات سے زیادہ اپنی حکمرانی کو دوام بخشنے کا اہتمام کیا گیا،اِس آئین کے تحت عوام کا حقِ رائے دہی محدود کر دیا گیا،کیونکہ ایوب خان کا خیال تھا کہ پاکستان کے عوام عقل و شعور کے اس درجے پر فائز نہیں کہ وہ اپنے نمائندے درست طور پر منتخب کر سکیں،اس عجیب و غریب منطق کے تحت عوام کو صرف یہ حق حاصل تھا کہ وہ ’’بنیادی جمہوریتوں‘‘ کے ارکان کو منتخب کریں جو آگے چل کر صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور صدر کا انتخاب کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس نظام کے تحت ایوب خان نے جو انتخاب بھی کرائے اُن کا نتیجہ اُن کی مرضی کے مطابق ہی نکلا تاہم یہ آئین سات برس سے زیادہ نہ چل سکا اور ایوب خان کے جانشین جنرل یحییٰ خان نے اپنا من پسند نظام متعارف کرانے اور اپنی صدارت کو قائم رکھنے کے لئے جو منصوبہ بندی کی وہ اُن کے تو کسی کام نہ آ سکی۔البتہ مُلک دو لخت ہو گیا۔

نظام کی بحث اور سیاست دانوں کی کشمکش کا نتیجہ ہے کہ آج تک مُلک اِس حوالے سے مستحکم نہیں ہو سکا،بظاہر فوجی حکومتیں طویل مدت تک برسر اقتدار رہتی ہیں،لیکن جب رخصت ہوتی ہیں تو لگتا ہے کہ وہ جس نظام کو درست کرنے آئی تھیں وہ پہلے سے زیادہ بگڑ چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی مُلک میں ایک ایسی بے یقینی کی کیفیت ہے کہ سابق وزیراعظم نو از شریف کو یہ سوال اٹھانا پڑ رہا ہے کہ عوام کے ووٹ کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟

اِس وقت مُلک میں ایک آئین نافذ ہے،پارلیمینٹ موجود ہے ایک منتخب حکومت ہے، چند روز پہلے ہی ایک نیا وزیراعظم بھی منتخب کیا گیا ہے،لیکن ماورائے آئین اقدامات کی صدائے باز گشت آج بھی سنائی دیتی رہتی ہے، ایسے مطالبے کرنے والے سیاستدان بھی موجود ہیں۔ سیاست دانوں کا ایک گروہ جو مروجہ سیاسی نظام اور مروجہ آئین کے تحت کسی صورت برسر اقتدار نہیں آ سکتا، ہر وقت ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے خواب دیکھتا رہتا ہے، سابق صدر پرویز مشرف کھلم کھلا فوجی آمریت کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں،کہنے کو تو انہوں نے ایک سیاسی جماعت بھی بنا رکھی ہے،لیکن غالباً اُن کا منصوبہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی شارٹ کٹ کے ذریعے یا ٹیکنو کریٹس کے نام پر انہیں دوبارہ برسر اقتدار آنے کا موقع مل جائے اس میں انہیں کامیابی ملنے کا تو امکان نہیں لیکن ان کی ساری نام نہاد سیاسی جدوجہد اس نقطے کے گرد گھومتی ہے، وہ دوبار آئین شکنی کے مرتکب ہوچکے اور آج بھی اسے چنداں اہمیت دیتے نظر نہیں آتے، بے یقینی کی فضا پھیلا کر وہ اِس کے پردے میں اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ان بعض سیاست دانوں کو ضرور استعمال کر رہے ہیں، جن کی سرپرسی وہ اپنے اقتدار کے دوران کرتے رہے۔اِن حالات میں سیاست دانوں کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لئے متحد ہو کر مُلک میں سیاسی استحکام پیدا کریں اور کسی طالع آزما کے لئے راہ ہموار نہ کریں۔

مزید : اداریہ


loading...