کوئٹہ میں پھر دہشت گردی، حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت

کوئٹہ میں پھر دہشت گردی، حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت

کوئٹہ میں دہشت گرد ایک مرتبہ پھر وار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہفتے کے روز موٹر سائیکل پر سوار خود کش حملہ آور نے فوجی ٹرک کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے لئے 30کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ اس میں آتش گیر مادہ خاص طور پر شامل کیا گیا۔ دہشت گردی کی اس واردات میں آٹھ فوجی جوانوں سمیت15 افراد شہید اور 25سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ آتش گیر مادے کی وجہ سے آگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ نعشیں اور زخمی بری طرح جھلس گئے۔ صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ ہر طرح کے چیلنج کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ دہشت گردوں کے حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ جب یہ دہشت گردی ہوئی تو وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری اس وقت سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ریلی میں موجود تھے، وہ ریلی ادھوری چھوڑ کر فوری طور پر کوئٹہ پہنچے اور اعلیٰ حکام سے بریفنگ کے بعد امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرتے رہے۔ دہشت گردوں نے یہ حملہ اس وقت کیا، جب قوم یوم آزادی کی تقریبات کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس فوجی ٹرک کو موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا، اس میں سوار فوجی جوان ڈیوٹی پر موجود تھے۔

دہشت گردی کی یہ واردات کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقے پشین سٹاپ پر ہوئی۔ اس سے پہلے بھی دہشت گرد ایسے ہی حساس علاقوں میں کارروائیاں کر چکے ہیں۔ اس مرتبہ بارودی مواد میں آتش گیر مادہ بھی شامل تھا، اِس لئے متعدد گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئیں، زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر افراد جھلس گئے، پشین سٹاپ حساس علاقے میں ہے، وہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات تھے، اس کے باوجود دہشت گردی کی واردات ہونے سے سیکیورٹی پلان چیکنگ سسٹم اور پٹرولنگ کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لینے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ خودکش حملہ آور اپنی قیام گاہ سے جائے ہدف تک جتنا بھی فاصلہ طے کرتے ہیں، ان کو کسی نہ کسی جگہ چیکنگ نیٹ کا سامنا کرنے کے امکانات زیادہ ہونے چاہئیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایسے حساس آلات موجود ہیں، جو ایک کلو میٹر تک بارودی مواد کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ امید رکھنی چاہئے کہ اعلیٰ سیکیورٹی حکام اس پر توجہ دیں گے۔ اس سلسلے میں مالی وسائل کی کمی کو آڑے نہ آنے دیا جائے۔

مزید : اداریہ


loading...