ڈاکٹر طاہر القادری نیا ریکارڈ بنانے چلے ہیں

ڈاکٹر طاہر القادری نیا ریکارڈ بنانے چلے ہیں
 ڈاکٹر طاہر القادری نیا ریکارڈ بنانے چلے ہیں

  


ڈاکٹر طاہر القادری کی طبیعت اور نیت کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس وقت بیمار ہو جائیں اور کس وقت کیا فیصلہ کر دیں۔۔۔ کینیڈا سے وہ بہت ہشاش بشاش آئے تھے ماشاء اللہ اسی شان بان کے ساتھ جیسے وہ اکثر نظر آتے ہیں،بلکہ آج کل تو ’’ٹشو پیپر‘‘ بھی نظر آتے ہیں۔۔۔ناصر باغ میں انہوں نے بہت زور دار خطاب کیا اور کارکنوں سے وعدہ کیا کہ وہ اُنہیں کسی بھی وقت سڑکوں پر نکلنے کا حکم دے سکتے ہیں، لہٰذا اپنے سامان شامان کا بندوبست کر لو۔۔۔ اور اب انہوں نے 16اگست کو مال روڈ پر دھرنے کا اعلان کیا ہے،یہ دھرنا اِس حوالے سے مختلف ہے کہ اس میں صرف خواتین شرکت کریں گی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ خود شرکت کریں گے یا نہیں، لیکن اگر وہ خود شرکت نہ کریں تو یہ ایک ریکارڈ ہو گا کہ یہ دھرنا صرف خواتین نے دیا ہے۔اب ظاہر ہے اگر دھرنے میں صرف خواتین ہوئیں تو ان کی حفاظت کے لئے خواتین کو ہی تعینات کیا جاسکتا ہے اور اگر دھرنا دینے والی بھی خواتین ہوئیں اور دھرنا سمیٹنے والی بھی خواتین ہوئیں تو یہ منظر خاصا دلچسپ ہوگا۔۔۔ اگر خدا نحواستہ کوئی دنگا فساد ہو گیا تو کم از کم گولی چلنے کی نوبت نہیں آئے گی، معاملہ ایک دوسرے کے بالوں تک رہے گا۔۔۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ دھرنا بغیر قیادت کے ہو۔۔۔ تو ممکن ہے کہ دھرنے کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری کی کوئی معزز بہو، بیٹی یا بہن کرتی نظر آئے۔۔۔اخلاقی طور پر تو یہی بنتا ہے کہ پاکستان کی معزز بہو، بیٹیاں اور بہنیں اگر دھرنا دیں تو قیادت بھی کسی خاتون کو ہی کرنی چاہئے اور اگر حکومت کی طرف سے اِن خواتین کے ساتھ گفتگو کا کوئی مرحلہ آئے تو پھر حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ گفتگو کے لئے خواتین رہنماؤں کو بھیجے۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مذہب اجازت دیتا ہے کہ ایک اسلامی شخصیت سیاسی مقصد کے لئے معزز بہو، بیٹیوں اور بہنوں کو سڑکوں پر لائے۔ کیا تحریک میں جوان مرد نہیں کہ جنہیں سڑکوں پر لایا جاسکتا؟

ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری خواتین کے دھرنے کے حوالے سے کوئی روایت ڈھونڈ لائیں۔ ویسے بھی دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے حق میں کوئی بھی روایت پیش کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوئے۔ گزشتہ تمام دھرنوں میں انہوں نے اپنے تمام سیاسی مقدمے ’’روایت ‘‘ کے زور پر لڑے۔انہوں نے جب آصف علی زردای اور نواز شریف کو فرعون کے خطاب سے نوازا تو خود کو نعوذ باللہ ’’مثل موسیٰ‘‘ بھی پیش کہا، یعنی کہا کہ مَیں انہیں ’’غرق‘‘ کرنے آیا ہوں، یہیں تک ہی نہیں، ڈاکٹر طاہر القادری نے مینارِ پاکستان پر اپنے کراؤڈ کو واقعہ کربلا کے ساتھ تشبیہہ دی اور کہا کہ مَیں آنکھیں بند کرلیتا ہوں جو لوگ جانا چاہتے ہیں، وہ بے شک چلے جائیں،مَیں ان سے راضی ہوں۔۔۔یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے انہوں نے حکمرانوں کو ’’یزید‘‘ قرار دیا،جبکہ اپنے کارکنوں کو قافلۂ حسین سے تشبیہہ دی، مگر حیرت کی بات ہے کہ اِس قافلے میں نہ اُن کی بیٹی تھی، نہ بہن تھی اور نہ بیوی تھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری خواتین کے دھرنے کے ذریعے ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے حوالے سے ’’انصاف‘‘ چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اب یہ ’’انصاف‘‘ مردانہ وار نہیں،بلکہ ’’زنانہ وار‘‘ حاصل کیا جائے۔ ڈاکٹر طاہر القادری مُلک میں قانون و انصاف کی بالادستی چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملکی قوانین ہر ایک کے لئے برابر ہوں، چھوٹے بڑے کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔۔۔ان کے اِس مطالبے کی تو ظاہر ہے ہر ایک کو تائید کرنی چاہئے، مگر سوال یہ ہے کہ جس عدالت سے وہ انصاف چاہتے ہیں۔

اسی عدالت نے انہیں ایک جھوٹا اور مکار شخص قرار دیا ہوا ہے، حتیٰ کہ ایک کیس کے دوران معزز جج نے انہیں انتہائی سخت الفاظ کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر طاہر القادری عدالت سے فیصلہ چاہتے ہیں تو پھر اپنے خلاف عدالت کے فیصلے کے مطابق تو وہ قطعی طور پر اعتبار کئے جانے کے قابل شخص نہیں ہیں تو ان کے ایک موقف کو کیسے درست تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ کسی بھی حوالے سے جب کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو وہ ’’سچے‘‘ ہوتے ہیں۔

قانون و آئین اور عدالت کے احترام کے حوالے سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ عدالت نے مال روڈ پر کسی بھی قسم کے جلسے اور جلوس پر پابندی لگا رکھی ہے، یعنی جو بھی شخص مال روڈ پر کسی بھی طرح کے جلسے جلوس یا دھرنے کا اہتمام کرتا ہے،وہ دراصل عدالت کے حکم کی توہین کرتا ہے تو ڈاکٹر طاہر القادری جب مال روڈ پر جلوس کے ساتھ قدم رکھیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے عدالت کے حکم کی توہین کی ہے۔اب ایک شخص عدالت کی توہین کرتے ہوئے عدالت سے انصاف مانگتا ہے تو پھر وہ بذاتِ خود ایک قانون شکن اور دوہرے معیار کا آدمی ہے۔بہر حال اگر ڈاکٹر طاہر القادری یہ فیصلہ کرچکے ہیں تو اُنہیں مال روڈ کے حوالے سے قانونی حکم کی پاسداری کرنی چاہئے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اُنہیں زبردستی روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، اُنہیں اور ان کے کارکنوں کوکھلی چھٹی دے دینی چاہئے اور اِس حوالے سے زیادہ سختی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ڈاکٹر طاہر القادری یہاں زیادہ سے زیادہ وہی کر سکتے ہیں،جو انہوں نے اسلام آباد میں کیا تھا۔۔۔ لیکن وہ یہاں قبریں نہیں کھود سکیں گے،البتہ پھانسی کے پھندے بناسکتے ہیں، جہاں وہ ’’ لٹکنے‘‘ کا اعلان کرسکتے ہیں، مگر وہ ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے لئے سب سے پہلے اُنہیں خود لٹکنا پڑے گا،جو جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، لیکن وہ زبان کے استعمال سے باز نہیں آئیں گے،وہ لفظی طور پر شہباز شریف کو ’’یزید‘‘ نواز شریف کو’’فرعون‘‘ اور لگے ہاتھوں موجودہ وزیر اعظم کو بھی ’’شدار‘‘ قرار دے سکتے ہیں، لیکن ان حضرات کے لئے یہ القابات کوئی نئی بات نہیں،اس طرح کے القابات دیتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری ایک منٹ لگاتے ہیں،لیکن میرے خیال میں وہ مال روڈ پر زیادہ دن ٹھہر بھی نہیں سکیں گے، کیونکہ ان کے خلاف شدید عوامی رد عمل آسکتا ہے اور جس پر لاکھوں لوگ روزانہ سفر کرتے ہیں،مال روڈ کے اردگرد بڑی بڑی مارکٹیں بھی ہیں،جہاں پاکستان بھر سے ہزاروں لوگ روزانہ خرید و فروخت کے لئے آتے ہیں۔لہٰذا ایسی جگہ پر ’’دھرنا‘‘ دینے سے حکومت سے زیادہ عوام کی طرف سے شدید ’’جوابی رد عمل‘‘ کا اظہار بھی آسکتا ہے۔

مزید : کالم


loading...