معاشی آزادی کے بغیر ہماری آزادی نامکمل ہے

معاشی آزادی کے بغیر ہماری آزادی نامکمل ہے
 معاشی آزادی کے بغیر ہماری آزادی نامکمل ہے

  


14۔ اگست پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور بڑا دن ہے۔ کسی بھی قوم کے یوم آزادی سے بڑا دن اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ پوری قوم کو عید آزادی مبارک ہو۔ اگر ہم اپنی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں اپنے یوم آزادی کی نسبت سے علامہ اقبالؒ کا وہ خطبہ ضرور یاد آئے گا جو انہوں نے 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔ یہ مسلمانوں کے لئے مایوسی کا دور تھا۔ قائد اعظمؒ بھی اپنی وکالت کو لندن میں منتقل کرچکے تھے۔ غالباً وہاں وہ مستقل قیام کے ارادے سے تشریف لے گئے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے لئے ان مایوس کن حالات میں 1930ء میں ایک ایسی تقریر فرمائی، جس نے مسلمان قوم کے دلوں میں امید، یقین اور عزم کی نئی شمعیں روشن کردیں۔ اگر علامہ اقبالؒ نے اسلام اور اس کے نظام حیات، اسلامی تاریخ، اسلامی ثقافت اور اسلام کے قوانین کا گہرا مطالعہ نہ کیا ہوتا تو وہ کبھی اپنی درماندہ اور مجبورو محکوم قوم کی راہنمائی کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ علامہ اقبالؒ کو اسلام کے اخلاقی تصور، ایک نظام سیاست اور ایک معاشرتی ڈھانچہ ہونے پر ایمان تھا، جس طرح عیسائیت یا دوسرے مذاہب کو ریاست کی زندگی سے جدا کردیا گیا تھا۔ علامہ اقبالؒ اسلام کے بارے میں یہ رائے نہیں رکھتے تھے کہ یہ بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک فرد کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ اسلام میں ریاست اور اللہ کی تعلیمات ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام کے نظام سیاست اور نظام معیشت کو ریاست سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک اسلام افراد اور ریاست دونوں کی زندگی میں یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ علامہ اقبالؒ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ اسلام کو ایک اخلاقی تصور کے طور پر تو قبول کیا جائے، لیکن اس کے نظام زندگی اور نظامِ سیاست کو مسترد کردیا جائے۔ اگر اسلام کے نظام سیاست اور نظام معاشرت کو مسترد کردیا جائے تویہ آخر کار اسلام کو مسترد کرنے کے مترادف ہو گا۔ علامہ اقبالؒ کا یہ موقف بھی تھا کہ ہندوستان کی دوسری اقوام کی طرح مسلمانوں کو بھی اپنی ثقافت اور روایات کے مطابق آزادانہ طور پر ترقی کا حق حاصل ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی اسی اسلامی فکر کی روشنی میں یہ فرمایا تھا کہ ’’مسلمان ایک اقلیت نہیں، بلکہ ایک قوم ہیں اور ایک آزاد، الگ اور خودمختار مملکت مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کی حتمی منزل ہے‘‘۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا جو تصور پیش کیا تھا وہ دراصل علامہ اقبالؒ کے اسلام کے اجتماعی نظام حیات پر یقین کا مظہر تھا۔ ایک سچے مسلمان کی طرح علامہ اقبالؒ احترام آدمیت کے علمبردار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؒ کو اپنے دین، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اسلام کی معاشرتی زندگی پر فخر بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ سیکولرزم کے سخت مخالف تھے۔ ان کا فرمان تھا کہ اسلام میں مادی اور روحانی زندگی کا دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کا تصور نہیں۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لئے اس میں دین اور دنیا الگ الگ نہیں۔اگر علامہ اقبالؒ کا اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات ہونے پر یقین نہ ہوتا تو وہ کبھی متحدہ قومیت کی نفی نہ کرتے۔ علامہ اقبالؒ کا نقطۂ نظر بالکل واضح تھا کہ مسلمان اسلام کے نظام حیات کو متحدہ قومیت پر قربان نہیں کرسکتے۔اسلام نے مسلمانوں کو الگ تہذیبی اور معاشرتی شناخت بخشی ہے اور اپنی جداگانہ تہذیبی شناخت کے باعث ہی مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور جداگانہ مسلمان قومیت ہی علامہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمانوں کی الگ ریاست کی بنیاد تھی۔

علامہ اقبالؒ کے تصورِ پاکستان کو حقیقت میں بدلنے کی تحریک کی قیادت کا اعزاز قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو حاصل ہوا۔ علامہ اقبالؒ کی زندگی کے آخری دو تین سال میں علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے درمیان فکری، سیاسی اور نظریاتی ہم آہنگی کمال درجے کو پہنچی ہوئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ کو قائداعظمؒ کی دیانت و امانت اورسیاسی بصیرت پر پختہ اعتماد تھا۔قائداعظمؒ کی ذات میں ذاتی لالچ اور حرص و ہوس کا کوئی منفی جذبہ نہ تھا۔قائد اعظمؒ کے پیش نظر صرف قومی مفاد تھا۔ علامہ اقبالؒ کی ساری زندگی بھی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔ اپنی شاعری سے بھی انہوں نے مسلمان قوم کو بیدار کرنے کا کام لیا۔ علامہ اقبالؒ نے نہ صرف مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا تصور پیش کیا،بلکہ انہوں نے ملت اسلامیہ کی قیادت کے حوالے سے بھی یہ پیش گوئی کی کہ محمد علی جناحؒ ایسے کردار، اخلاق، فہم و تدبر اور عزم محکم کے مالک ہیں کہ وہ بہت جلد ایک ایسے عوامی ہیرو بن جائیں گے کہ مسلم انڈیا میں ابھی تک ان جیسا اور کوئی لیڈر پیدا ہی نہیں ہوا۔ علامہ اقبالؒ نے یہ بھی فرمایا کہ مسٹر جناح میں وہ خوبیاں موجود ہیں کہ وہ برطانوی استعمار اور کانگرس دونوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کو شکست دے سکتے ہیں۔ قائد اعظمؒ نے بھی انتہائی ناموافق حالات میں قوم کی راہنمائی کا حق ادا کردیا اور وہ کاروانِ ملت جو علامہ اقبالؒ کے خطبۂ الہ آباد میں دیئے ہوئے پیغام سے متاثر ہو کر جادہ پیما ہوا تھا، قائداعظمؒ نے اس کارواں کو منزلِ مراد تک پہنچا کر ہی دم لیا۔ وہ قوم جو 1930ء میں مایوسی اور انتشار کا شکار تھی، جب اتحاد، ایمان اورنظم و ضبط کے اصول کو اپنا رہنما بنا کر آگے بڑھی تو پھر مشکلات کے پہاڑ بھی قافلہ آزادی کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکے۔ تحریک پاکستان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ملت اسلامیہ کے امیر، قائد اور راہنما محمد علی جناحؒ تھے۔ ایک ایسا لیڈر جس کی دیانت داری پر ان کے دشمن بھی شبہ نہیں کرسکتے تھے۔ ایک ایسا راہنما جس کو دنیا کا بڑے سے بڑا لالچ دے کر خریدا نہیں جاسکتا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مسٹر جناحؒ کو ایک ایسی خوبی عطاء کی ہے جو آج تک مجھے انڈیا کے کسی مسلمان راہنما میں نظر نہیں آئی‘‘۔ حاضرین کے سوال پر علامہ اقبالؒ نے وضاحت کی کہ مسٹر جناح کو نہ تو خریدا جاسکتا ہے، نہ ہی انہیں کوئی ورغلاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی لالچ دے کر ان کو راہِ راست سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کو قائد اعظمؒ کے ساتھ کس حد تک محبت تھی اور علامہ اقبالؒ مسلمان قوم کے لئے قائداعظمؒ کو کتنا ناگزیر سمجھتے تھے،اس کا اندازہ سرعبدالقادر کی اس روایت سے ہوتا ہے۔ سرعبدالقادر کے بقول علامہ اقبالؒ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ’’میں تو اپنی زندگی کا کام پورا کرچکا ہوں۔ مسٹر جناح نے ابھی زندگی کا مشن پورا کرنا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو ان کے لئے طویل زندگی کی دعا کرنی چاہئے‘‘۔

جب مسلم لیگ مسلمانوں کی مقبول ترین اور واحد نمائندہ جماعت تسلیم کرلی گئی تو قائد اعظمؒ بھی یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری اس کامیابی کا تمام تر سہرا علامہ اقبالؒ کے سر ہے۔ کیونکہ علامہ اقبالؒ نے اپنی شدید علالت اور دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود پنجاب مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے قائد اعظمؒ کا ساتھ ایک مضبوط چٹان کی طرح دیا۔ پوری تحریک پاکستان کو اگر مجھے چند الفاظ میں بیان کرنے کے لئے کہا جائے تو میں یہ عرض کروں گا کہ تحریک پاکستان علامہ اقبالؒ کے ایمان افروز خطبۂ الہ آباد سے شروع ہوئی اور قائد اعظمؒ کی قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین قیادت کی بدولت ہمیں پاکستان کی آزادی نصیب ہوئی۔ قیام پاکستان بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان عظیم ہے، لیکن آزادی کی اس نعمت کا حصول جن راہنماؤں کی قیادت میں ممکن ہوا اور جس قیادت کو حصولِ پاکستان کی جدوجہد کی ذمہ داری خود اللہ نے تفویض کی ہمیں اپنے ان عظیم قومی محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ میرا تو یہ یقین ہے کہ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ جیسی دیانت داری، قابلیت، اخلاص اور وہ درد جو مسلمان قوم کے لئے ان دونوں عظیم راہنماؤں کے دل میں موجود تھا، اگر اس کا ہزارواں حصہ بھی ہمارے موجودہ سیاسی قائدین کو نصیب ہو جائے تو ہمارے ملک میں آج بھی ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور ہماری بگڑی ہوئی تقدیر بدل سکتی ہے۔ کاش ہمیں کوئی ایسا لیڈر نصیب ہو جائے جو پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچادے۔

یہ ہماری قومی بد قسمتی ہے کہ پاکستان کی معاشی زنجیروں کو توڑ ڈالنے اور بیرونی قرضوں کے کشکول کو اپنے ہاتھوں سے پھینک دینے کے نعروں کی بنیاد پر کامیاب ہونے والے سیاست دان بھی برسراقتدار آنے کے بعد ملک پرقرضوں کا بوجھ اور زیادہ بڑھا دینے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ معاشی آزادی اور معاشی خود مختاری کے بغیر ہمارے ملک کی آزادی بے معنی ہے۔ پاکستان کو معاشی غلامی کی دلدل میں دھکیلنے اور ملک کے معاشی بحران کی سنگینی میں اضافہ کرتے چلے جانے والے کون ہیں؟ فوجی آمر ہوں یا ہمارے سول حکمران سب ہی نے ملک کی معیشت کو تباہ کرنے میں ’’حسب توفیق‘‘ اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جو ملک پہلے ہی سے مقروض ہو۔ پھر اس کے قرضوں میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ملک کے قومی خزانے کو کرپشن کے ذریعے اپنی لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنانے سے پھر بھی اجتناب نہ کیا جائے تو پھر ایسے ملک کو معاشی غلامی سے رہائی دلانا کیسے ممکن ہے۔ ہم اپنی آزادی کے سراب کواس وقت تک آزادی کی حقیقت میں نہیں بدل سکتے جب تک ہم ایسے تمام راہزنوں سے نجات حاصل نہیں کرلیتے جو ہماری معاشی غلامی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ ہمیں اپنے یوم استقلال پر معاشی آزادی اور حقیقی معاشی خود مختاری کے حصول کا بھی عہد اور عزم کرنا چاہئے۔ اس کے بغیر ہماری ملکی آزادی مکمل نہیں ہوسکتی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

مزید : کالم


loading...