انقلاب نہیں اصلاحات

انقلاب نہیں اصلاحات
 انقلاب نہیں اصلاحات

  


انقلاب کا لفظ پاکستان میں اتنا پٹ چکا ہے کہ اب اس کا ذکر آتے ہی دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔ وطن عزیز میں بہت سے انقلابی آئے اور گئے، بہت سے انقلابات کا جھانسہ دیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مٹی پلید کی جاتی رہی، اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ نواز شریف انقلاب لانے کی باتیں جانے دیں۔ ویسے بھی جب تک انقلاب کے لئے کفن باندھ کر میدان میں نہ اترا جائے، بات بنتی نہیں۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) اقتدار میں ہے اور دوسری طرف اس کا قائد انقلاب لانے کی باتیں کر رہا ہے۔ کیسا انقلاب، کس کے خلاف انقلاب؟۔۔۔ وہ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں، مگر کس نظام کو جو وفاق اور دو صوبوں میں ان کی حکومتوں کے سہارے کھڑا ہے؟۔۔۔یہ دو عملی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔حیرت ہے کہ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے باوجود کسی انقلاب کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔ اگر نوازشریف سپریم کورٹ کے حکم سے نااہل نہ ہوتے تو شاید اب بھی انہیں کسی انقلاب کا خیال نہ آتا۔ انقلابی نعرہ تو نیلسن منڈیلا جیسے لوگ لگا سکتے ہیں، جو حکمرانی کو خیر باد کہہ دیتے ہیں، یہاں تو ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ میاں نوازشریف دوبارہ وزارتِ عظمیٰ چاہتے ہیں اور اگر نااہلی ختم ہو جائے تو شاید وہ سب کچھ بھول کر پھر اسی روائتی حکمرانی میں لگ جائیں، جو پچھلے سوا چار برسوں کے دوران ان سے وابستہ رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ عوام انقلاب لانے کے لئے کس طرح نوازشریف کا ساتھ دیں؟ کیا صرف اس نقطے پر انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے کہ کسی سول وزیراعظم کو مدت پوری نہ کرنے دی جائے تو عوام اس کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ انقلاب تو نظریات کی بنیاد پر آتے ہیں۔عوام کے ساتھ صرف یہی ایک ظلم تو نہیں ہو رہا کہ ان کے وزیر اعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی،ان کے ساتھ اصل ظلم تو یہ ہے کہ ان کی منتخب اشرافیہ بھی استحصالی قوتوں کے ساتھ مل کر عوام کے متحارب آ کھڑی ہوتی ہے۔آمریت کے بعد گزشتہ دس برسوں میں عوام کی زندگی میں کیا انقلاب آیا ہے؟ وہی ایک گلا سڑا عوام دشمن نظام اور دہی کرپشن کی بیساکھیوں پر کھڑی معاشرتی زندگی۔ نوازشریف کے اندر اگر سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے بعد انقلابی شخص بیدار ہو گیا ہے تو اچھی بات ہے، لیکن وہ ایسی باتیں نہ کریں جن سے یہ بو آئے کہ وہ ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔پاکستان کو کسی انقلاب کی ضرورت نہیں۔یہ خوشنما نعرہ نہ لگایا جائے۔ پاکستان کو صرف ایک دیانتدار اور قومی سوچ رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔ ہمارا آئین بہت ترقی یافتہ ہے اور ہمارا جوڈیشل سسٹم بھی آزاد اور اپنے پیروں پر کھڑا ہے، صرف اصلاحات کے ذریعے اُن خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے جو نظریۂ ضرورت کے تحت ہم نے قبول کر رکھی ہیں۔ پاکستان میں قانون کی نظر میں اصولِ مساوات کو یقینی بنا کر ایک انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔اصل رکاوٹ تو ہمارے شخصی رویے ہیں جن کی موجودگی میں ایک فلاحی معاشرہ تشکیل پا ہی نہیں سکتا۔ نوازشریف سمیت کسی حکمران نے اس پہلو پر توجہ نہیں دی۔ اقربا پروری، کرپشن، بری حکومت اور قانون کی بے توقیری نے ہمیں ایک ایسے معاشرے میں تبدیل کر دیا،جہاں ہم سب ایک انقلاب کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، حالانکہ انقلاب تو کسی ایک اچھے کام سے لایا جا سکتا ہے۔ مثلاً سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا ہے تو اب کسی کو بھی یہ شک نہیں رہ گیا کہ کوئی بھی طاقتور قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جائے۔

عوام کو انقلاب کے لئے تیار کرنا اس صورت میں تو منطقی قرار پا سکتا ہے،اگر ملک میں آمریت ہو،ایک غیر نمائندہ ظالمانہ نظام رائج ہو، یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں۔ ایک منتخب سول سیٹ اپ کام کر رہا ہے، مرکز اور صوبوں میں منتخب حکومتیں کام کر رہی ہیں پارلیمینٹ موجود ہے اور کوئی بھی قانون بنانے میں آزاد ہے۔ سپریم کورٹ مکمل اختیار کے ساتھ فیصلے دے رہی ہے۔ یہ سب تو مثبت اشارے ہیں۔ اب اصل کام تو یہ ہے کہ آپ اپنا ایجنڈا سیٹ کریں۔ اگر پارلیمینٹ با اختیار نہیں تو قانون میں ترمیم کر کے اسے با اختیار بنائیں۔ اگر عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں کوئی رکاوٹ ڈال رہا ہے تو اسے پارلیمینٹ کے کٹہرے میں لائیں۔ فوج کی طرف سے اگر منتخب وزیر اعظم پر کوئی دباؤ ہے تو اس کے لئے پارلیمنٹ کا فورم بہت اہم ہے، اس کی نشاندہی کر کے آئین کی مدد طلب کی جائے، مگر یہاں ایسا تو کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا،بلکہ اس کے برعکس خود پارلیمینٹ کی کمیٹیوں کو بے توقیر کیا جاتا ہے۔ حکومت کے چہیتے بیورو کریٹس کمیٹیوں میں پیش ہی نہیں ہوتے حتیٰ کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نہ آکر ٹھینگا دکھا دیتے ہیں۔ برسوں بیت جاتے ہیں، پارلیمینٹ میں عوامی فلاح و بہبود کا کوئی بل پیش نہیں کیا جاتا۔ نواز شریف آج جن باتوں کو یقینی بنانے کے لئے انقلاب کو ضروری قرار دے رہے ہیں، وہ بتائیں کہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے پارلیمینٹ کا دروازہ کب کھٹکھٹایا۔ آئین کی کون سی شق ایسی تھی جو اپنے انقلابی تصورات کو عملی صورت عطا کرنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن گئی ہو۔ انقلاب تو جبر اور آمریت کے معاشروں میں ضروری ہوتا ہے، پاکستان میں تو سب کچھ موجود ہے۔ آئین، جمہوریت، پارلیمینٹ اور مضبوط ادارے، صرف ان سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے جمہوری حکمران صرف جمہوریت کو ہی عوام کے لئے ثمر آور بنا دیں تو کسی غیر آئینی تبدیلی کا شبہ تک موجود نہ رہے۔

گزشتہ ستر برسوں میں جمہوریت اور آمریت کے ایک دوسرے کے بعد آنے والے ادوار نے سب کچھ واضح کر دیا ہے۔ یہ بھی کہ جمہوریت کی بساط کیوں لپیٹی جاتی رہی ہے اور آمریت کو عوام کیوں قبول کرتے رہے ہیں۔ اب اتنا تو ہو گیا ہے کہ آمریت نے جمہوریت پر شب خون مارنے کی عادت ترک کر دی ہے۔

ایسا دوبار ہو چکا ہے کہ وزرائے اعظم نااہل ہوئے، مگر اسمبلیوں کی بساط نہیں لپیٹی گئی، وہ اپنا کام کرتی رہیں یہ بذاتِ خود ایک خاموش انقلاب ہے، وگرنہ نواز شریف جن وزرائے اعظم کی بات کرتے ہیں،ان کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی بساط بھی لپیٹی جاتی رہی۔ انقلاب کے جذباتی نعروں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ اصل کام آئین کے تحت اصلاحات کرنا ہے۔نیا احتساب قانون ہو یا پارلیمینٹ کی بالا دستی کا معاملہ، ملک کے تمام اداروں کو جوابدہ بنانے کا مسئلہ ہو یا صوبوں کے حقوق کا بیانیہ، سب کچھ بدل سکتا ہے، اگر تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسی آئینی اصلاحات متعارف کرائیں، جو اس مقصد کے لئے ضروری ہیں۔

نوازشریف عوام کو جس انقلاب کے لئے اکسا رہے ہیں، غالباً وہ خود بھی اس کے حوالے سے ابہام کا شکار ہیں۔وہ ایک متفقہ آئین کی موجودگی میں نئے آئین کی بات کر رہے ہیں، ظاہر ہے اس سے نئے مسائل کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ 1973ء کے آئین میں سب کچھ موجود ہے،اس میں پارلیمینٹ کی بالا دستی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ فوج سمیت تمام ادارے اس کے ماتحت ہیں،پھر کیا وجہ ہے کہ اپنے مفاد کی ترمیم تو آئین میں فوراً ہو جاتی ہے، مگر جو ترامیم ملکی و عوامی مفاد میں ہوتی ہیں، ان پر اتفاق ہی نہیں ہو پاتا۔ انتخابی اصلاحات جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہیں، مگر اُنہیں حکومت اور اپوزیشن نے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے، اسی طرح احتساب کے نظام کو شفاف بنانے کے لئے متفقہ اصلاحات پر بھی رسہ کشی جاری ہے۔ اب ایسے میں اگر نوازشریف عوامی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو اسے دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا انقلاب سوائے ایک نئے بحران کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔ نواز شریف کو اب حکومتی عہدے کی بجائے ایک مدبر سیاستدان کے طور پر ملک میں ایک شفاف جمہوری نظام کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے، یہی راستہ انہیں اس انقلاب کی طرف لے جا سکتا ہے جس کا وہ آج کل خواب دیکھ رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...