روس پاکستان کیلئے کینو اورآلو کی بڑی درآمدی منڈی ثابت ہوسکتاہے

روس پاکستان کیلئے کینو اورآلو کی بڑی درآمدی منڈی ثابت ہوسکتاہے

سلام آباد (اے پی پی)وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل قائمہ کمیٹی برائے ہارٹیکلچر کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ روس پاکستان کیلئے کینو اورآلو کی بڑی درآمدی منڈی ثابت ہوسکتاہے، کینو کے آئندہ سیزن کے دوران کاشتکاروں کو 20روپے فی کلو گرام ادائیگی کی جائیگی اور اس حوالے سے مقامی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے گی تاکہ کاشتکاروں کو کینوں کی صحیح قیمت ادا کی جاسکے ۔ اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں وسعت پیدا ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک روس باہمی تجارت کے فروغ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان سے برآمد کی جانے والی مصنوعات ، پھلوں اور سبزیوں پر عائد ٹیکسز میں مراعات حاصل کی جاسکیں جس سے قومی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بینکاری کے راستوں میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے بتایا کہ رواں سال کینوں کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے تاہم فیڈریشن کینوں کے کاشتکاروں کو پھل کی درست قیمت کی ادائیگی کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ سیزن کے دوران کاشتکاروں سے 20روپے فی کلو کینوں خریدا جائیگا ۔ کاشتکاروں کو ادائیگی یقینی بنانے کیلئے مقامی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید : کامرس


loading...