فاضلکا میں تحریک پاکستان کا سب سے پہلا کمسن قیدی ،جسے خواتین کی جیل میں قیدکردیا گیا تھا

فاضلکا میں تحریک پاکستان کا سب سے پہلا کمسن قیدی ،جسے خواتین کی جیل میں ...
فاضلکا میں تحریک پاکستان کا سب سے پہلا کمسن قیدی ،جسے خواتین کی جیل میں قیدکردیا گیا تھا

  


سیالکوٹ ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) تحریک پاکستان کی بہت سی زندہ خونچکاں داستانیں ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں ۔ہر وہ اسّی پچاسی سالہ بزرگ جس نے پاکستان بنتے ہوئے تحریک کاجوش اورہجرت کے المناک حادثات دیکھ رکھے ہیں وہ نئی نسل کو ان واقعات کے ذریعہ سے پاکستان کی قدرو قیمت سے آگاہ کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتے ہیںاور نئی نسل کو پاکستان سے محبت کا درس دیتے ہیں ۔ممتاز صحافی و مصنف شاہد نذیر چودھری کے والد چودھری نذیر احمد نے ایک کم سن طالب علم کے طور پرتحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا تھا ۔وہ اس دوران گرفتار بھی ہوئے ۔دوران قیدو بند کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے نویں کلاس میں فاضلکا میں طلبہ کے جلوسوں کی قیادت کی اور مسلم لیگ کے حق میں جلوس نکالے تو انہیں فاضلکا کی جیل میں خواتین کے سیل میں قید کردیا گیا کیونکہ کم سن ہونے کی وجہ سے انہیں بڑوں کی جیل میں نہیں بھیجا جاسکتا تھا ۔

تحریک پاکستان کے مجاہد ستاسی سالہ چودھری نذیراحمد بتاتے ہیں کہ 1945میں تحریک پاکستان جوبن پر تھی ۔وہ جالندھر انڈیا میں پڑھتے تھے،ان کے والد چودھری نظام الدین کواپریٹو ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر تھے۔ فاضلکا میں جب بھی پاکستان کے حق میں جلوس نکالا جاتا تو بڑوں کے ساتھ وہ بھی اس میں شریک ہوتے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگاتے،پولیس انکے والد کوخبردار کرتی کہ آپ سرکاری افسر ہیں اوراپنے بیٹے کو جلسے جلوسوں میں جانے سے روکیں لیکن وہ انہیں روک نہ پاتے ۔انہوں نے کئی بار سکول کے بچوں کو بھی جلسوں میں لیجانے کی کوششیں کیں۔ایک روز پولیس نے انہیں پکڑ لیا اور جیل میں بند کردیا۔جس جیل میں انہیں قید میں رکھا گیا وہ جیل کا وومن سیل تھا،وہ بتاتے ہیں ” میں فاضلکا میں پہلا کم سن قیدی تھاجسے گرفتار کرنے کے بعد انتظامیہ پریشان تھی کہ اسے کس جیل میں رکھا جائے۔بڑوں کی جیل میں رکھنے کی صورت میں یہ خدشہ تھا کہ یہ بچہ زیادہ جوشیلا ہوجائے گا۔عجیب بات ہے جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں بہت خوش دکھائی دیتا تھا۔ایک سپاہی نے پوچھا کہ تم اتنے خوش کیوں ہو۔میں نے جواب دیا کہ ”میں پاکستان بنارہاہوں ،خوش تو ہوں گا“۔ قائد اعظم نے مسلمان بچوں اور نوجوانوں میں ایساملّی جذبہ پیداکردیا تھا کہ ہر مسلمان بچے اورنوجوان کے خون میں یہ جذبہ ٹھاٹھیں مارتا تھا کہ اسے پاکستان بنانے کے لئے قائداعظم کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرنا ہے،قائد اعظم کا سبق یاد رکھنا ہے۔اس جذبہ نے مجھے ہر طرح کے خوف وخطر سے بے نیاز کردیا ہواتھا۔کم سن قیدی ہونے کی وجہ سے مجھے خواتین کے سیل میں ایک ہفتہ تک رکھا گیا،یہ ایک بہت بڑی ہال نما بیرک تھی،میں تنہا قیدی تھا ،مجھ سے کسی کو ملنے کی اجازت بھی نہیں تھی،پولیس مجھے ڈراتی کہ تم پاکستان مانگتے ہو ،تمہیں تو موت ملے گی۔کھانا مجھے گھر سے آتا تھا۔ایک روز ابا جی ملنے آئے اور کہا ” نذیر اب گھبرا نہ جانا“ابا جی کی باتوں نے مجھے حوصلہ دیا اور ایک ہفتہ بعد مجھے جیل سے رہا کیا گیا تو اس وقت باہر ہزاروں مسلمان میرا استقبال کرنے آگئے تھے ۔مجھے دیکھتے ہی انہوں نے نعرے لگانے شروع کردئےے اور گلاب کے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا ،مجھے کاندھے پراٹھا کر وہ پورے فاضلکا میں جلوس کی صورت گھمایا گیا۔ اگلے روز سے ہم نے پھر تحریکی کام شروع کردئے۔ان دنوں ہی میرے چچا چودھری ناصرالدین ایڈووکیٹ کا سیالکوٹ سے بلاوا آگیا کہ ہندوستان میں انتخابات شروع ہونے والے ہیں تم سیالکوٹ آجاو ¿ اور نوجوان طلبہ کو انتخابات میں کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ کرو لہذا میں نے سیالکوٹ واپس آکر سکولوں کے بچوں کو ابھارنا شروع کیا ۔چچا1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر سیالکوٹ سے ایم ایل اے کا انتخاب جیت گئے۔قائد اعظم سیالکوٹ تشریف لائے تو انہوں نے چچا کی کوٹھی میں بھی قیام کیا تھا ۔جس جذبے سے ہم نے قیام پاکستان کے لئے راہیں ہموار کیں،وہ جذبہ ایک عمر تک برقرار رہا،ہر اس فرد میں یہ جذبہ برقرار رہا جس نے پاکستان بنتے دیکھا اورخود اس میں اپنا حصہ ڈالا.... لیکن ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوںنے نوجوانوں کوا س سچے جذبہ سے محروم کردیا ہے جو لہو کوگرم اور تازہ رکھتا ہے ۔ اس جذبہ کو نوجوانوں میں پیدا کرنے ہی میں پاکستان کی بقا ہے ،یہ جذبہ قومی و ملی جوش،احساس ذمہ داری اور انتھک محنت کا ہے۔نوجوانی میں یہ جذبہ پوری سچائی سے پروان چڑھ جائے تو بدترین حالات میں بھی یہ نوجوان ہمت نہیں ہارتے اور ملک کی بقا اور بہتری کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...