روشن خیالی کی آڑ میں ٹی وی ڈرامے بولڈ سے بولڈ ہوتے جا رہے ہیں

روشن خیالی کی آڑ میں ٹی وی ڈرامے بولڈ سے بولڈ ہوتے جا رہے ہیں

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان میں دکھائے جانے والے ٹی وی ڈرامے سنسر پالیسی سے آزاد ہیں ان ڈراموں میں جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ سمجھ سے بالا تر ہے روشن خیالی کی آڑ میں ہمارے ڈرامے بولڈ سے بولڈ ہوتے چلے جا رہے ہیں اس حوالے سے ہمیں فوری طور پر ان ڈراموں کے لئے سنسر پالیسی بنانی ہوگی تاکہ بے ہودگی کو روکا جاسکے ۔دنیا کا ہر معاشرہ اپنی پسند و ناپسند کا ایک معیار رکھتا ہے اور اس معاملے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت معاشرے کے افراد کی علامت بن جاتی ہے۔چینلزڈراموں میں ہمیں کیا دکھا رہے ہیں ہماری نئی نسل کو کیا ترغیب دے رہے ہیں۔بزرگوں کا ادب احترام ڈراموں میں مفقود ہو کر رہ گیا۔ڈراموں میں کہاں گئی ماں کی تربیت کہاں گئی تعلیمی قابلیت جو فقط اتنا شعور نہ دے سکی کہ بزرگوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمارے آج کل کے ٹی وی ڈراموں میں بھلائی کا پہلو اتنا نمایاں نہیں جتنا برائی کا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے رویوں میں شدت آچکی ہے ہمارے ذہنوں کی سکرین پر چلنے والے ایسے سین ہمیں حقیقی زندگی میں تلخ بنادیتے ہیں۔ ہمارے معاشرتی رویے صبر و برداشت اور ہر احساس سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔

بچے والدین سے متنفر ہوتے جارہے نہ لحاظ رہا نہ بڑوں کا ادب۔میڈیا پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے ڈرامے دکھائے جائیں جو اچھائی کی ترغیب دیں جس میں بزرگوں کی عزت و احترام کے پہلو کو نمایاں ہو۔ بدلہ لینے کے بجائے معاف کردینے کی ترغیب دیں۔ اگر میڈیا نے ڈراموں کا معیار نہ بہتر بنایا تو بہت جلد ہماری نوجوان نسل ان ڈراموں کی دیکھا دیکھی اپنی اخلاقی مذہبی اور ثقافتی اقدار کو فراموش کر بیٹھے گی۔ معیاری ڈراموں کے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوتے جبکہ غیر معیاری ڈرامے اخلاقی پستی کا ذریعہ بنتے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں ایک جذبہ ایسا ہے جو اس قدر حساس ہے کہ نفسیات دان اسے انسانی جبلت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ یہ جذبہ حیاء شرم ، حجاب اورستر ہے۔ تہذیبی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس جذبے نے نشوونما پائی اور پھر یہ انسان اور جانور کے درمیان فرق کی بنیادی علامت بن گیا۔ انسانی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی انسان نے شرم و حیاء اور ستر و حجاب کے تصور کو تار تار کر کے عریانیت و فحاشی کا راستہ اختیار کیا تو زوال نے اس کے دروازے پر دستک دی۔ روم، یونان ، مصر، بابل اور ہندوستان کی تہذیبوں کے زوال کی کہانیاں پڑھ لیں آپ کو ان کی تہہ میں عریانی و فحاشی کی وہ حیران کن لہر موجزن نظر آئے گی جو ان تہذیبوں میں سرائیت کر گئی اور پھر وہ کبھی بام عروج کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔ فحاشی و عریانی سے وابستہ ایک حساسیت سے جو دنیا کے ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے نے اس کیلئے عورت اور مرد دونوں کیلئے معیارات مقرر کئے ہیں۔ یہ حساسیت اس قدر شدید اور ذہنوں میں جبلت کی طرح راسخ ہے کہ اچانک ذرا سی بے لباسی بھی معیوب اور بری محسوس ہونے لگتی ہے۔ بے لباس یا ستر نمایاں ہوتے ہی وہ شخص شرم و حیا سے ڈوب جاتا ہے اور اس کے چہرے پر اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔پاکستان میں میڈیا کا کردار مثبت کم منفی زیادہ ہے۔ آئے روز مختلف نت نت نئے ڈراموں نے ایک عجیب ہی افراتفری مچا رکھی ہے۔ ڈراموں کے کردار اور پھر ان کے احوال کا الگ الگ احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں پر کچھ ایسے ڈرامے بھی شامل ذکر ہیں جن پر مجھے شکایات ضرور سننے کو ملے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے ڈرامے ہیں مگر دو ڈرامے ایسے ہیں جن کی بات کرنا میں ضروری سمجھتی ہوں۔ جیو کہانی پر ایک ڈرامہ ہے ’’ستم ‘‘جس میں یہ دکھایا گیا ہے ماں انا کی تسکین کی لئے اپنی اولاد کو کیسے قربان کرتی ہے۔ماں کو اس بات سے غرض نہیں اولاد کی زندگی برباد ہو وہ پاگل ہو جائے یا اس کا گھر تباہ ہو۔ ماں اپنی خدمت کے صلہ میں اولاد کی زندگی برباد کرتی ہے۔ایک اور ڈرامہ ہے’’ ناگن ‘‘جیو کہانی پر ڈرامے کو اس انداز میں بنایا کیا کہ سینسر کا نام خواب لگتا ہے۔’’ناگن‘‘ روز ناچتی اور اس کی پیٹھ پر کپڑے کا نام ہوتا اس کے علاوہ اس ڈرامے میں دوپٹے کا تصور بھی نہیں اور سانپ ناگن تو جیسے سب کچھ ہے شکل بدلتی ہے۔’’ ناگن‘‘ سازش کرتی ہے محبت کرتی ہے بے وفائی کرتی ہے جادو کرتی ہے۔ ان ڈراموں کی مرکزی کہانی کا ہمارے معاشرے، تہذیب اور ثقافت کا دور دور تک نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی محل ہے۔ سنسر پالیسی نا ہونے کی وجہ سے منظم سوچی سمجھی سازش کے تحت باقاعدہ بیرونی میڈیا حملہ آور ہے اور ہمارے میڈیا کے ذریعے خواتین، بچوں اور نئے دماغوں کو بھٹکانے کی بھرپور کوشش کرر ہے۔

مزید : کلچر


loading...