آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں

آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں

مملکت خدا داد پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر روزنامہ’’ پاکستان‘‘ نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے اشتراک سے تحریک پاکستان کے نامور کارکنوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا ۔ ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘کے عنوان سے منعقدہ اس نشست میں تخلیق پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور انداز سے شریک ہونے والی نابغہ روزگار شخصیات نے اپنے چشم دید واقعات پر سیر حاصل گفتگو کی ۔شرکائے گفتگو میں پاکستان کے سابق صدر جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ، سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد ،میاں فاروق الطاف ، مرزا احمد حسن، کرنل(ر) اکرام اللہ خان ، کرنل (ر) سلیم ملک، محمد ارشد چوہدری، مرزا محمد اسلم، عبدالستار شیخ اور چوہدری عبدالحمید شامل تھے ۔اس موقع پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے بھی خصوصی شرکت کی ۔تحریک پاکستان کے نامور کارکنوں نے تحریک پاکستان کے مختلف گوشوں پر اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورتحال اور اس کے حل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی حالت انتہائی پسماندہ تھی ‘ آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں۔طلبہ نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا، میں سمجھتا ہوں کہ نصاب تعلیم کو پاکستان کے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ نئی نسل کو قیام پاکستان کے اسباب ومقاصد سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ میں نے قیام پاکستان سے قبل گوجرانوالہ میں آنکھ کھولی ۔ ہمارے گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا لہٰذا وہاں سے دو میل کے فاصلے پر موجود سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ اس سکول میں ہندو ، سکھ، عیسائی اور دیگر اقوام کے بچے بھی پڑھتے تھے۔ میں نے آٹھویں جماعت کا امتحان وزیرآباد سے پاس کیا۔ بعدازاں اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ میں داخلہ لیا اور 1945ء میں وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ قیام پاکستان سے قبل مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے تھے۔ تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ کی اکثریت تھی۔ تجارت بھی زیادہ تر ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی ۔ مسلمان منڈیوں میں پانڈیوں کا کام کرتے تھے ۔ ہندوؤں کو مسلمانوں سے شدید نفرت تھی۔وہ ہندو جو سانپ کو دیوتا مانتااور درختوں و بتوں کو سجدہ کرتا اس کے دل میں مسلمان کیلئے برداشت کا کوئی مادہ نہیں تھا ‘ وہ ہمیشہ اس طاق میں رہتا تھا کہ مسلمان کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ہندو کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ ریلوے سٹیشنوں پر جس پانی کا انتظام تھا اس پر ہندو پانی اور مسلم پانی الگ الگ درج ہوتا تھا۔ ہندو مسلمانوں کو اپنے برتنوں کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیتے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند تھے اور اعلیٰ عہدوں پر ہندو ہی فائز تھے۔اس صورتحال میں علامہ محمد اقبالؒ نے الگ وطن کا تصور پیش کیا اور مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں اس تصور کو عملی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بحیثیت طالبعلم مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان کا جھنڈا اٹھایااور1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ ان انتخابات میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور آزادی کی راہ ہموار ہو گئی۔ تقسیم ہند کے بعد لٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال اور آباد کاری کیلئے ہزاروں طلبہ نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی ۔ میں بھی ان طلبہ میں شامل تھا جنہوں نے مہاجرین کی دیکھ بھال میں حصہ لیا ۔ان طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تو اُس وقت حکومت نے ایک نیشنل ایمرجنسی ریگولیشن جاری کیا کہ جن طلباوطالبات نے مہاجرین کی دیکھ بھال اور آباد کاری میں حصہ لیا ان کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ کردیا گیا ‘میں بھی انہی طلبہ میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت لوگوں میں جذبۂ حب الوطنی اعلیٰ ترین درجے پر تھا۔ سرکاری ملازمین چھٹی کے روز گھروں سے نکلتے اور ببول کے کانٹے اکٹھے کر لاتے اور انہیں دفتروں میں کاغذوں کو نتھی کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم ایٹمی قوت ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی ہم نے بہت ترقی کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شعبۂ تعلیم پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔ہر بچے کو سکول بھیجنے کا ٹارگٹ بھی جلد حاصل کر لیا جائے گا۔یہ ملک اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے ، آج آپ جو خوشحالی دیکھ رہے ہیں یہ سب پاکستان کی بدولت ہے۔آزادی کی قدر جاننی ہو تو اپنا موازنہ ہندوستان کے مسلمانوں سے کر لیں ،وہاں ایک مسلمان کو محض اس شک کی بنا پر قتل کردیا گیا کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے ،ہر روز کشمیری نوجوان جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ۔نہرو اس مسئلہ کو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا مگر بعد میں اس سے مکر گیا۔مسئلہ کشمیر فلیش پوائنٹ اور اس کی وجہ سے کسی بھی وقت دونوں ممالک میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔پوری دنیا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کو ہمارے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ۔ نظام تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالیں۔ قرآن پاک کو تعلیم کا لازمی حصہ قرار دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

تحریک پاکستان کے نامور کارکن پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر چلنے والی تحریک پاکستان میں طلبہ نے نمایاں حصہ لیا۔ قائداعظمؒ کونوجوانوں سے بڑی محبت تھی۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان برصغیر کا جوش و ولولہ عروج پر تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران اسلامیہ کالج لاہور کے طلبانے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے متعدد بار اسلامیہ کالج لاہور کا دورہ کیا اس دوران مجھے بھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ قائداعظم ہمیشہ نوجوانوں کی جدوجہد کو اہمیت دیتے تھے بالخصوص اسلامیہ کالج لاہور کے طلبا سے آپ کو بہت محبت تھی۔ جب بھی لاہور تشریف لاتے تو اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ سے ضرور ملاقات کرتے۔ 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات ریڈیوسنتے ہوئے اہلیان لاہور اپنی اپنی چھتوں پر چڑھے انتہائی خوشی کااظہارکر رہے تھے اورپاکستان زندہ بادکے نعرے لگارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھارتی مشرقی پنجاب کے 50لاکھ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ہجرت پرمجبور کردیا گیا اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔آگ اورخون کا دریا عبورکرکے جب یہ مہاجرین پاکستان پہنچے تو اہل لاہور نے فراخد لی کاثبوت دیتے ہوئے ان کی ہر ممکن امداداوردیکھ بھال کی۔میں نے بھی تقریباً چھ ماہ تک رضاکارانہ طورپر مہاجرین کے کیمپوں میں ان کی دیکھ بھال میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اورہماری نئی نسل بہت باصلاحیت ہے۔ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی موجودگی میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے ۔پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔

سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد نے کہا کسی بھی مملکت کیلئے اس کے نظریات روح کی حیثیت رکھتے ہیں ۔پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ۔مسلمان ہر لحاظ سے دوسری قوموں سے الگ قوم ہیں اور یہی دوقومی نظریہ ہے۔قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ نے جدوجہد کر کے نظریاتی بنیادوں پر مسلمانان برصغیر کیلئے آزاد مملکت حاصل کی۔بانیان پاکستان نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف پسندی اور معاشی مساوات ہو۔نسلِ نو دوقومی نظریہ کی ترویج و اشاعت کرے۔ انہوں نے کہا کہ 23مارچ1940ء مسلم لیگ، پاکستان اور مسلمانان برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے۔اس دن قائداعظمؒ کی قیادت میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں لاکھوں مسلمان شریک ہوئے اور اسی اجلاس میں الگ وطن کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی۔1941ء میں اس قرارداد کو مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا اور اس کی بنیاد پر سات سال بعد 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ’’ہندوستان کا مسئلہ فرقہ ورانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کو اسی لحاظ سے حل کرنا چاہیے جب تک اس اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ چل نہیں سکے گا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندووں کے لئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہو گا۔‘‘ قائد اعظمؒ نے کہا کہ لفظ’’ قوم‘‘ کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور اس لحاظ سے ان کا اپنا علیحدہ وطن، اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو۔‘‘انہوں نے کہا کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کو ہر شعبہ میں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ قرارداد تقریباً آٹھ دہائیوں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد منظور ہوئی اور اس کے سات سال بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان نہیں بلکہ اس کاکردار اور اصول زندہ رہتے ہیں ۔ نئی نسل مطالعہ کی عادت اپنائے اور دین ودنیا کی تعلیم حاصل کرے۔ دین اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر ہم قرارداد لاہور کے مقاصد اور تقاضوں کوپورا نہیں کر سکے تو اپنی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ہمیں اپنی منزل کی جانب بڑھنا ہو گا۔

سیکرٹری تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ حصول پاکستان کیلئے مسلمانان برصغیر نے جان ومال کی لازوال قربانیاں دیں۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانان برصغیر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے اور قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے لیے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا میں اس وقت بچہ تھا اور اپنے والدین سے سنا کرتا تھا کہ ایک ایسا ملک معرض وجود میں آرہا ہے جہاں مسلمان آزادانہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں گے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے۔

تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن کرنل(ر) اکرام اللہ خان نے کہا کہ پاکستان عطیۂ خداوندی ہے اور مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد یہ آزاد ملک حاصل کیا ۔تقسیم ہند کے وقت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی اور اس دوران مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔ کرنل(ر) اکرام اللہ خان نے کہاکہ مسلمانان برصغیر کے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے 1906ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی۔ہندو اور انگریز مسلمانوں کو الگ قوم ماننے کو تیار نہیں تھے ۔قائداعظمؒ نے فرمایا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ہندوؤں سے الگ قوم ہیں ۔تحریک پاکستان میں طلبہ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ اسلامیہ کالج ،ریلوے روڈ لاہور تحریک پاکستان کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ 1945-46ء کے ہونیوالے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں فقیدالمثال کامیابی حاصل کی اور بالآخر 14اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔انہوں نے کہا تقسیم ہند کے بعد ہم نے پاکستان میں آنیوالے مہاجرین کی آباد کاری کیلئے دن رات کام کیا۔30اکتوبر1947ء کو یونیورسٹی گراؤنڈ لاہور میں منعقدہ جلسے کی سیکورٹی میری ذمہ داری تھی اور اس جلسے سے قائداعظمؒ نے خطاب کرنا تھا۔ اس وقت پنجاب میں حمید نظامی نوجوانوں کے لیڈر تھے۔ موجودہ حالات پاکستان کو بانیان پاکستان کی عین خواہشات کے مطابق نہ ڈھالنے کا نتیجہ ہیں۔آج ہر شہری کو وہ بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں جس کا وہ حق رکھتا ہے۔ہمیں قائداعظمؒ کے سنہری اصولوں ایمان،اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنا چاہئے ۔طلبہ اپنی مکمل توجہ تعلیم پر دیں۔

تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن کرنل (ر)محمد سلیم ملک نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے ہندوؤں نے انگریز کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کردی تھی۔ مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ پاکستان عطیۂ خداوندی ہے ۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل مسلمانوں کی حالت بہت پسماندہ تھی ۔انگریزوں اور ہندوؤں نے ہم سے مساجد کے دروازے تک بند کروائے۔ تاریخی بادشاہی مسجد کو گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں ہندوؤں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ تھا جس نے قیامِ پاکستان کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان بننے کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میسر تھی۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا جس کے قائد محمد علی جناحؒ تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے صورتحال یہ تھی کہ مسلمانوں کو دس روپے تنخواہ پر بھی کوئی نہیں رکھتا تھا۔ انار کلی میں مسلمانوں کی صرف تین دکانیں تھیں۔ میں اور میرے ساتھی ’’بن کے رہے گا پاکستان‘ بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘ کے نعرے لگاتے تھے۔ مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر ہی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1946ء کے انتخابات کے دوران لاہور میں مولانا ظفر علی خاں کا مقابلہ بہت سخت تھا۔ پورے ہندوستان کی نگاہیں لاہور میں ہونے والے اس مقابلے پر لگی ہوئی تھیں۔ اس دوران میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سرحد کے اجلاس میں شرکت کے لئے پشاور گیا۔ اجلاس کے بعد جب میں باہر نکل رہا تھا تو ایک لڑکا میرے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ پنجاب سے ہیں؟۔ میرے ہاں کہنے پر اس نے کہا آپ کو محمد علی جناحؒ صاحب بلا رہے ہیں۔ میں قائداعظمؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے کہا کہ’’Hello,Young man. How r u‘‘ پھر فرمانے لگے ’’لاہور کا الیکشن جیت لو میں تمہیں پاکستان بنا دوں گا۔‘‘ کرنل(ر)محمد سلیم ملک نے کہا کہ لوہاری دروازے کے اندر مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی۔ میں اپنی والدہ کے ہمراہ وہاں گیا اور لوگوں کو الیکشن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ مسلم لیگ نے وہ الیکشن بڑے مارجن سے جیتا۔ ہم نے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنایا ہی نہیں بلکہ انگریزوں اور ہندوؤں سے چھین کر ہمیں دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن مرزا محمد اسلم نے کہاکہ قائداعظمؒ نے صوبائیت، لسانیت، فرقہ واریت اور ذات پات کے بت توڑ کر مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پریکجا کردیا۔ہندواور مسلمان ہر لحاظ سے الگ قوم ہیں اور یہی دوقومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ پاکستان عطیۂ خداوندی ہے۔ پاکستان کا قیام ماہ رمضان المبارک کی ستائیسویں بابرکت شب عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔اس دور میں سرسید احمد خان، مولانا محمد شبلی نعمانی، نواب محسن الملک،مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر، مولانا الطاف حسین حالی ودیگر مشاہیر نے مسلمانوں میںآزادی کی تڑپ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔علامہ محمد اقبالؒ نے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔قائداعظمؒ کی قیادت میں مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے ۔انگریز اور ہندو مسلم لیگ کو مسلمانان برصغیر کی نمائندہ جماعت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے لیکن 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی بے مثال کامیابی نے یہ ثابت کردیا کہ آل انڈیا مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔قائداعظمؒ نے مسلمانوں کو ہندو ذہنیت سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے ایمان،اتحاد،تنظیم ،یقین محکم کے سنہری اصول بتائے ،ترقی کرنے کیلئے ہمیں ان پرعمل کرنا چاہئے۔ہندواور مسلمان ہر لحاظ سے الگ قوم ہیں اور یہی دوقومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بھی بھرپور حصہ لیا،قرارداد پاکستان بھی شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی۔

تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن عبدالستار شیخ نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے آزا دی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں اور انہی قربانیوں کی بدولت الگ خطہ وطن حاصل کیا۔ موجودہ مسائل سے نبٹنے کیلئے ہمیں یکجہتی واتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ عبدالستار شیخ نے کہا کہ14اگست 1947ء ہندو اور انگریز سامراج سے آزادی کا دن ہے۔ ہندو برصغیر کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور اُنہوں نے ہر ممکن کوشش کرکے تقسیم ہند کو رکوانا چاہا مگرمسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔انہوں نے کہا جن دنوں تحریک پاکستان زوروں پر تھی میری عمر گیارہ سال تھی۔ میں اپنے والدین کے ساتھ اندرون شہر‘ بازار حکیماں‘ بھاٹی گیٹ میں رہائش رکھتا تھا۔ اندرون شہر تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ تمام جلوس دہلی دروازہ سے شروع ہوتے اور اندرونِ شہر سے ہوتے ہوئے بھاٹی گیٹ کے راستے موچی دروازہ پہنچتے۔ وہاں پر جلسہ عام ہوتا۔ میں مسلم لیگ کے تقریباً ہر جلسہ میں شرکت کرتا تھا۔ اُس وقت لاہور میں بڑے مسلم لیگی رہنماؤں راجہ غضنفر علی‘ مولانا محمد بخش مسلم‘ مولانا ظفر علی خاں اور مظفر علی شمسی صاحبان کو دیکھنے اور سننے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہر جلسہ اور جلوس میں یہی نعرے گونجتے رہتے تھے۔ ’’لے کے رہیں گے پاکستان۔بن کے رہے گا پاکستان۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘۔ جس روز پاکستان کا اعلان ہوا میں نے مسلم لیگ کا جھنڈا اپنے گھر پر لہرایا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدبرانہ فراست اور قیادت نے تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا۔ اِس تحریک میں تمام عمر کے لوگ شامل تھے خاص طور پر نوجوان اور بچے بھی شامل تھے۔مجھے قائداعظم محمد علی جناحؒ کو کئی مرتبہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قائداعظمؒ نے جو جذبہ تحریک پاکستان کے وقت پیدا کیا تھا۔ بعد میں آنے والی حکومتیں اسکو تعمیری کاموں کی طرف موڑنے میں ناکام رہیں۔ پاکستان اس وقت بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہمیں اِن مسائل سے نجات کے لئے یک جان ہونا پڑیگا۔ اپنے اندر یک جہتی اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ اِسی صورت میں ہم اِن مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔

تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن مرزا احمد حسن نے کہا کہ حصول پاکستان کیلئے مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں لازوال قربانیاں دیں۔ تحریک پاکستان میں نوجوانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ہماری نئی نسل بہت باصلاحیت ہے وہ پوری توجہ تعلیم پر دے۔ مرزا احمد حسن نے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل ہمارا خاندان امرتسر میں رہتا تھا۔ وہاں ہندو اور سکھ بھی بڑی تعداد میں آباد تھے ۔ جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہم بھی امرتسر سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لاہور میں آباد ہوئے۔ تحریک پاکستان کے دوران متعدد بار قائداعظمؒ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔قائداعظمؒ کی شخصیت بڑی رعب دار تھی اور وہ اچکن اور جناح کیپ پہنا کرتے تھے۔ اگرچہ قائداعظمؒ روانی سے اردو نہیں بول سکتے تھے لیکن پھر بھی مسلمانان برصغیر ان کی تقاریر بڑے جوش وجذبے سے سنا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میری والدہ زنانہ مسلم لیگ کی سیکرٹری تھیں اور وہ امرتسر میں خواتین کے جلسے جلوسوں کی قیادت کیا کرتی تھیں۔میں ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا تھا لہٰذا متعدد جلسے جلوسوں میں شرکت کی۔انہوں نے کہا میں نے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی ۔ قائداعظمؒ نے 1940ء میں اس تعلیمی ادارے کا دورہ کیا تو انہیں قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔قائداعظمؒ نوجوانوں کو بڑی اہمیت دیتے تھے اور تحریک پاکستان میں نوجوانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ہماری نئی نسل بہت باصلاحیت ہے اور وہ اپنی مکمل توجہ تعلیم پر دے۔

تحریک پاکستان کے کارکن چودھری عبدالحمید نے کہا ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران چلنے والی مختلف تحریکوں نے مسلمانان برصغیر میں سیاسی شعور پیدا کیااور انہیں ہندو ذہنیت سے آگاہ کیا۔ تحریک پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔نئی نسل قائداعظمؒ کے سنہری اصولوں پر عمل کرے،وقت کی قدر کرے اور پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ چودھری عبدالحمید نے کہا کہ مسلمانان برصغیر کے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے 1906ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی۔ہندو اور انگریز مسلمانوں کو الگ قوم ماننے کو تیار نہیں تھے ۔ قائداعظمؒ نے فرمایا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ہندوؤں سے الگ قوم ہیں ۔ قائداعظمؒ کی بے لوث قیادت نے مسلمانان برصغیر کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کردیا،آپ نے ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ تحریک پاکستان میں طلبہ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ، اسلامیہ کالج ،ریلوے روڈ لاہور تحریک پاکستان کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ 1945-46ء کے ہونیوالے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں فقیدالمثال کامیابی حاصل کی۔ان انتخابات میں مسلم لیگ کی بے مثال کامیابی نے ثابت کردیا کہ آل انڈیا مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ 14اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔ بعدازاں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی ، اس دوران سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...