گلشن راوی اتوار بازار میں گراں فروشی کا راج ، خریدار سراپا احتجاج

گلشن راوی اتوار بازار میں گراں فروشی کا راج ، خریدار سراپا احتجاج

لاہور (اپنے نمائند ے سے)میٹروپولٹین کارپوریشن انتظامیہ کے زیر انتظام گلشن راوی اتوار بازار میں گراں فروشی کا راج،خریدار مایوس ،اشیاء خورد ونوش کے سٹالز کی بجائے کراکری کے سٹالز کی بھرمار ،سکیورٹی ،صفائی اور پارکنگ کی ناقص صورتحال سمیت دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا ،پرائس کنٹرل مجسٹریٹس کی عدم موجودگی، درجہ سوئم کوالٹی کے پھلوں ،سبزیوں اور خشک میوا جات کے ساتھ گھریلوں استعمال کی تما م اشیاء عام بازار سے مہنگے داموں دستیاب رہیں ، اتوار بازار میں آئے خریدار ضلعی انتظامیہ کے ناقص انتظاما ت کو کوستے رہے روزنامہ پاکستان کے سروے میں گفتگو کرتے ہوئے علی حیدر،نقیب علی ،ابو سفیان اور جاوید علی نے کہا کہ گلشن راوی اتوار بازارسبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں تو عام بازارسے کم ہیں، مگر ان کا معیار اچھانہیں ہے زیادہ تر درجہ اول کی سبزیا ں اورپھل تو پہلے دو سے تین گھنٹوں میں ہی فروخت ہو جاتے ہیں جو خریدار بعد از دوپہر آتے ہیں ان کی قسمت میں صرف گلے سڑے پھل اور سبزیاں ہی رہ جاتے ہیں ،آلو کی قیمت 80روپے ہو گئی ہے غریب آدمی کے لئے اب سبزیوں میں آلو استعمال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے اسی طرح پیاز ،ٹماٹر سمیت اکثر سبزیاں اور پھل معیاری نہیں رہے سڑکوں پر غلط پارکنگ کی وجہ سے ٹریفک بھی جام ہو رہی ہے جس کے لئے اتوار بازا ر انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی خاطر خواہ انتظامات نہ کئے گئے ہیں ،جس کا سارا خمیازہ ان شہریوں کو خواری اور طویل انتظار کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے ،شہری محمد یوسف ،خرم شہزاد،شاہد علی،حسیب خان اور تیمور علی نے کہا ہے کہ سردیوں کے آغاز سے قبل ہی ہر اس چیز کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جو سردیوں کے ساتھ مختص ہیں ،خشک میواجات جن میں کھجور،چھوہارہ،بادام ایرانی ،بادام خراسانی ،چلغوزہ،کشمش وغیرہ کے ریٹس میں بھی 50فیصد سے زائد اضافہ کر دیا گیا ہے، ہمیں حیرت اس بات کی ہے کہ میٹروپولٹین انتظامیہ کی جانب سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں چیک کرنے کے لئے جو پرائس کنٹرول کمیٹی بنائی گئی ہے وہ کہاں ہے اور کس جگہ پر کام کرتی ہے اگر اس طرح کی کسی کمیٹی کا وجود ہے تو پھر گھریلوں استعمال کی چیزوں کے سا تھ عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں فرق کیوں ہے،برائلر گوشت ،بکرے کا گوشت اور مٹن کی قیمتیں تو عام بازار سے کچھ کم ہیں لیکن گوشت کی کوالٹی دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں پانی ملا کر اس کو وزنی کیا گیا ہے اور گوشت پر محکمہ ہیلتھ کی جانب سے مہر بھی ثبت نہیں ہوتی ہے ،مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گلشن راوی اتوار بازار خریداروں کی امیدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے ،دوسری جانب میٹرو پولٹین کارپوریشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ لاہور میں واقع کسی بھی اتوار یا ماڈل بازار میں کسی قسم کی گراں فروشی اور دوسری شکائت وصول ہوتی ہے تو اس پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہیں ،پرائس کنٹرول کمیٹیاں پوری طرح فعال ہیں اور پوری تندہی سے اپنے فرائض کو سر انجام دے رہی ہیں ،اگر کسی شہری کو کوئی شکائت ہے تو وہ بازار کی انتطامیہ کو درج کروا سکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...