بحران کی آڑ میں عالمی معیشت پراثرانداز ہونے کی قطری کوشش

بحران کی آڑ میں عالمی معیشت پراثرانداز ہونے کی قطری کوشش

دوحہ(این این آئی)قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان جاری سفارتی محاذ آرائی کے جلو میں دوحہ نے اس بحران کی آڑ میں عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے کا عندیہ دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق جرمنی میں متعین قطری سفیر نے کہا کہ ان کے ملک اور خلیجی ریاستوں کے درمیان جاری بحران کے نتیجے میں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا توانائی کے شعبے استعمال ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں پوری دنیا کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ قطر کی طرف سے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی طرف سے جاری سفارتی بائیکاٹ پر کہا جا رہا ہے کی بائیکاٹ کرنے والے ممالک دوحہ کی خود مختاری اور آزادی اظہار رائے کو سلب کرنا چاہتے ہیں۔ قطری عہدیدار یہ کہتے بھی پائے جاتے ہیں کہ موجودہ بحران سے قطرکی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر وہ بحران کے حل کے لیے عالمی مداخلت کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔جرمنی میں متعین قطری سفیر نے خبردار کیا کہ خلیجی بحران کے منفی اثرات پوری دنیا کے ایک ایک فرد پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطہ پوری دنیا کی 40 فی صد توانائی کی ضروریات پوری کررہا ہے۔ بحران کے نتیجے میں تیل کی مصنوعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے خلیجی بحران کی عمر بڑھتی جائے گی اس کے حل کی کوششیں اور پیچیدہ ہوں گی۔ اس لیے بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کو کویت کی وساطت مذاکرات کی میز پر تمام تنازعات کو حل کرنا ہوگا۔

مزید : عالمی منظر


loading...